سراج اورنگ آبادی جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولناں تھا بول چکا ۔۔۔ ۔ سراج اورنگ آبادی

شہزاد احمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 2, 2013

  1. شہزاد احمد

    شہزاد احمد مہمان

    جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولناں تھا بول چکا
    بیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکا

    ازل سیں مجھ کوں دیا دردِ صانع تقدیر
    میرے نصیب کے شربت میں زہر گھول چکا

    جنوں کے شہر میں نہیں کم عیار کوں حرمت
    میں نقدِ قلب کوں کانٹے میں دل کے تول چکا

    مجھے خرید کیے تم نے کم نگاہی سیں
    کمینہ بندہء بے زر کا آج مول چکا

    نہیں رہا سخنِ آب دار کا موتی
    سراج طبع کے سب جوہروں کوں رول چکا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر