جواب شکوہ نشتر امروہوی

سید شہزاد ناصر نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 29, 2020

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
    گلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہے
    توپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہے
    بنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہے

    اتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مرا
    کر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرا

    یہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئی
    ساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئی
    سالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئی
    سالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئی

    کچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھا
    مجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھا

    اپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگر
    جلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پر
    میں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجر
    تم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظر

    کہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نے
    تم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نے

    میں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہے
    ساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہے
    جیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہے
    میں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہے

    پھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیں
    میرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیں

    صبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میں
    ناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میں
    باسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میں
    چھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میں

    میں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئی
    میری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئی

    وہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھی
    ساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھی
    پیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھی
    کبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھی

    اپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نے
    زندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نے

    کس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہے
    دال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہے
    مجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہے
    تم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے

    گھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیں
    یہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیں

    میں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہی
    ہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہی
    قلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہی
    اب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہی

    اپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھی
    جس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھی

    تھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعار
    تم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثار
    تم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزار
    تم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کردار

    اپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیں
    ہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیں

    نہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہو
    اچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہو
    بن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہو
    ہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہو

    پھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لو
    کسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,171
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  3. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,846
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    مزیدار مزیدار!!!

    کل سے اس مزیدار نظم کو پڑھ کر ہم اپنی کہی ہوئی دو نظمیں تلاش کررہے تھے۔ لیجیے بچوں کے لیے لکھی نظم تو مل گئی۔

    شکوہ۔ (علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ پڑھ چکا ہوں پہلے بھی مکرر پڑھ کر مزہ آیا
    سلامت رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,846
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    آج دوسری نظم بھی مل گئی!

     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر