مبارکباد جشنِ آزادی مبارک

ماوراء نے 'تہنیتی پیغامات و دعائیہ کلمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 11, 2007

  1. فرحان دانش

    فرحان دانش محفلین

    مراسلے:
    3,078
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی
    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی
    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    دیکھا تھا جو اقبال نے اک خواب سہانا
    اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بنانا
    یہ سوچا جو تو نے تو ہنسا تجھ پہ زمانہ
    ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
    مارا وہ تو نے داؤ کہ دشمن بھی گئے مان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    لڑنے کا دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
    نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ پھالا
    سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
    پنہاں تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
    ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    پنجاب سے بنگال سے جوان چل پڑے
    سندھی ، بلوچی ، سرحدی پٹھان چل پڑے
    گھر بار چھوڑ بے سرو سامان چل پڑے
    ساتھ اپنے مہاجر لیے قرآن چل پڑے
    اور قائد ملت بھی چلے ہونے کو قربان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    نقشہ بدل کے رکھ دیا اس ملک کا تو نے
    سایہ تھا محمد کا ، علی کا تیرے سر پہ
    دنیا سے کہا تو نے کوئی ہم سے نہ الجھے
    لکھا ہے اس زمیں پہ شہیدوں نے لہو سے
    آزاد ہیں آزاد رہیں گے یہ مسلمان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان


    ہے آج تک ہمیں وہ قیامت کی گھڑی یاد
    میت پہ تیری چیخ کے ہم نے جو کی فریاد
    بولی یہ تیری روح نہ سمجھو اسے بیداد
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
    گر وقت پڑے ملک پہ ہو جائیے قربان


    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
    تیرا احسان ہے تیرا احسان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر