جسے حیات سے نفرت بہت زیادہ تھی۔ باقی احمد پوری

شیزان

لائبریرین
​
جسے حیات سے نفرت بہت زیادہ تھی​
ہمیں اُسی کی ضرُورت بہت زیادہ تھی​
​
اب ایک لمحۂ مفقُود کو ترستے ہیں​
وہ دن بھی تھے، ہمیں فُرصت بہت زیادہ تھی​
​
ہمارے گھر کی تباہی کا یہ سبب ٹھہرا​
ہمارے گھر میں سیاست بہت زیادہ تھی​
​
ہر ایک جرم کے پیچھے تھا جس کا ہاتھ یہاں​
اُسی کی شہر میں عزت بہت زیادہ تھی​
​
اِسی لیے تو وہ دستِ سِتم دراز رہا​
کہ ہم میں ضبط کی عادت بہت زیادہ تھی​
​
اُسی نے شہر کا سارا جمال چھین لیا​
جو سَربلند عمارت بہت زیادہ تھی​
​
حقیقتوں پہ تو ٹھہری نہیں نظر اپنی​
خیال و خواب کی صُورت بہت زیادہ تھی​
​
نہ اُس کی آنکھ بھر آئی، نہ میرا دل رویا​
دمِ فراق یہ حیرت بہت زیادہ تھی​
​
تھکن سے ٹوٹ گرا ہوں تو اب یہ سوچتا ہوں​
کہ بےخیال مسافت بہت زیادہ تھی​
​
تمہارا قُرب جو ملتا تو جانے کیا کرتے​
ہمیں تو دُور کی نِسبت بہت زیادہ تھی​
​
اب اُس کا نام بھی لیتے ہیں سوچ کر باقی​
کِسی سے ہم کو محبت بہت زیادہ تھی​
​
باقی احمد پوری​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top