1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

جسٹس فائز عیسیٰ پر قومی اداروں کی تضحیک کی فرد جرم بھی عائد

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 10, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    جسٹس فائز عیسیٰ پر قومی اداروں کی تضحیک کی فرد جرم بھی عائد
    حسنات ملک ہفتہ 10 اگست 2019
    [​IMG]
    سپریم جوڈیشل کونسل نے صدر کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے شوکازنوٹس میں جسٹس فائزپراداروں کی تضحیک کی فردجرم عائد کی ہے۔ فوٹو : فائل

    اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر قومی ادارے کے خلاف اکسانے کی فرد جرم عائد کر دی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی آئینی درخواست میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ اٹارنی جنرل کے ذریعے غیر قانونی طور پر جمع کرائے گئے جواب الجواب میں قومی اداروں کی شق کا اضافہ کیا گیا جو اصل شوکاز میں شامل نہیں تھا، معلوم ہوا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے صدر مملکت کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے شوکاز نوٹس میں جسٹس فائزپر اداروں کی تضحیک کی فردجرم عائد کی ہے۔

    ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ جسٹس فائز نے صدر مملکت کو تین خط لکھے تھے، تیسر اخط منظر عام پر نہیں آیا جس میں میڈیا ٹرائل کی شکایت کی گئی تھی۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    ہن آرام اے؟
     
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    دس سالہ مشن کی راہ میں جو کوئی بھی حائل ہے، اس کے خلاف اسی طرح کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جو زندہ رہے گا، وہ دیکھے گا کہ ملک میں کیا جانے والا یہ نیا تجربہ کس حد تک کارآمد ثابت ہو گا۔ ہمیں کچھ زیادہ اُمیدیں نہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ان کے کیے گئے بیشتر تجربات کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    جسٹس فائز عیسی کو چھوڑ دیا گیا تو یہ 2023 میں ملک کے چیف جسٹس ہوں گے۔ یعنی اپنی ماضی کی روش کے مطابق شریف اور زرداری خاندان کیخلاف چلنے والے مختلف کرپشن کیسز حدیبہ پیپر ملز کرپشن کیس کی طرح بند کر دیں گے۔ اور ان کا سارا ملبہ عسکری اداروں پر ڈال دیں گے۔ فوج مخالف اپوزیشن ایسے ہی تو نہیں ان کے ساتھ کھڑی۔ :)
     
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    ریاستی ادارے کب حالات کے پیش نظر یو ٹرن لے لیں، کوئی اعتبار نہیں۔ دس برس طویل عرصہ ہوتا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    ریاستی پالیسی عسکری اداروں کے مفادات پر چلتی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی انہی اداروں سے ٹکراؤ کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست کرتے چلے آئے ہیں۔
    جبکہ تحریک انصاف ملک کے تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنے والی جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے حالات جیسے بھی ہو جائیں۔ عسکری ادارے بہرحال اپنے سلیکٹڈ وزیراعظم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
    اب اپوزیشن کو این آر او صرف اس صورت مل سکتا ہے اگر وہ اپنی لوٹی ہوئی دولت عسکری بینکوں میں جمع کروا دیں :)
     
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    ایک سال گزر گیا۔ ممکن ہے، ایک ارب ڈالر کی ریکوری نیب کر ہی لے پانچ سال میں۔ تاہم، ملکی معیشت کا اس اتھل پتھل سے جو نقصان ہوا، وہ ہوش رُبا ہے۔ دراصل، بازی الٹ جائے گی اگر ریکوری نہ ہو سکی۔ اصل معاملہ پیسے سے ہی جڑا ہوا ہے۔ وگرنہ، اس اکھاڑ پچھاڑ کا کوئی فائدہ نہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    ن لیگ اور پیپلز پارٹی دور میں بھی عسکری اداروں کے پاس فنڈز کی کمی نہ تھی۔ ان کا بجٹ ہر سال ڈیمانڈ کے مطابق بڑھتا رہا۔
    [​IMG]
    اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان طاقتور اداروں کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نفرت کی بنیادی وجہ معیشت نہیں بلکہ اداروں سے مسلسل ٹکراؤ پیدا کر کے اپنی سیاست چمکانا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    ملک عسکری اداروں کا نام نہیں۔ بدقسمتی سے، ہمیں فوجی بوٹ بہت پسند ہے۔ اس چیری بلاسمانہ سوچ کو اکیس توپوں کی سلامی! ہمیں بہرصورت یہ نقطہء نظر قبول نہیں۔ کسی وقت اس سوچ سے ہٹ کر دیکھیے۔ ہمیں ان کے حوالے سے مسلسل بات کرنے سے بھی حبس اور گھٹن محسوس ہونے لگ جاتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    متفق۔ البتہ مملکت خداداد پاکستان میں پہلے مارشل لاء سے لے کر اب تک تمام تر ریاستی پالیسیاں ایک ہی ادارہ کے گرد گھوم رہی ہیں۔
    جب تک ان مقتدر حلقوں سے اقتدار چھین نہیں لیا جاتا، حالات ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ بیشک جمہوریت پسند جو مرضی کر لیں۔ یہ مقتدرہ ملک کی جڑوں میں بیٹھا ہواہے :)
     
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180

    :LOL:
     
  12. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    تاہم، کسی نہ کسی حد تک عوام کا شعور اسٹیبلشیہ اور ان کے لائے ہوئے سیاست دانوں کے متعلق بیدار ہو رہا ہے۔ اگر یہ حکومت ناکام گئی تو شاید اس بوسیدہ نظام کو ایک دھچکا لگے گا۔ اصل مسئلہ متبادل قیادت کا ہے۔ روایتی سیاسی پارٹیوں میں تحریک انصاف نیا اضافہ ثابت ہوئی۔ تاہم، امید کی جا سکتی ہے کہ آہستہ آہستہ بہتری کی صورت پیدا ہو گی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,761
    موڈ:
    Dead
    خان صاحب اگلا الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ میدان صاف کر کے اور ایمپائر ساتھ ملا کر لڑنا چاہتے ہیں! ایسی ہوتی ہی مغربی جمہوریت جس کی خان صاحب مثالیں دیتے نہ تھکتے تھے؟ یاد رہے تاریخ بوٹ پالشیوں کو ہمیشہ بوٹ کے نیچے روندتی ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    پچھلا الیکشن بھی ایسے ہی لڑا تھا :)
     
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    جی بالکل ایسی ہی ہوتی ہیں۔ فرق صرف عوام کا ہے۔
    خان صاحب بیرونی قرضوں پر انحصار کی بجائے ٹیکس ریفارم کرتے ہیں تو ملک کے تاجر ہڑتال کر کے چھٹیوں پر نکل جاتے ہیں۔ زرمبادلہ بچانے کیلئے درآمداد کم کرتے ہیں تو ایکسپورٹز برآمداد گر ا دیتے ہیں۔ افراط زر کم کرنے کیلئے شرح سود بڑھاتے ہیں تو ملک کا کاروباری طبقہ اپنا مال کھینچ کر کاروباری سرگرمیاں ٹھپ کر دیتا ہے۔
    طاقتور مغربی جمہوریتیوں میں بھی مالی بحران آتے ہیں لیکن وہاں کی عوام سخت حکومتی فیصلوں کو برداشت کر کے بحران سے نکل جاتی ہے۔ جبکہ ادھر پاکستان میں عوام تھوڑی سی مہنگائی بڑھتے ہی حکومت اتارنے چل دوڑتی ہے۔ جب تک حکومت رعایا کے ہاتھوں اس طرح بلیک میل ہوتی رہی ہے۔ ملک کے مستقبل کے صحیح فیصلے نہیں لئے جا سکتے۔
     
  16. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    جسٹس فائز عیسیٰ کا معاملہ ایسا سادہ نہیں ہے۔ آج کچھ تفصیل جاننے کا موقع ملا۔ یہ پنڈورا باکس ہے۔ وکلاء کی تحریک میں نئی جان پڑ سکتی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    آپ کو یہ سمجھنا کیوں مشکل لگ رہاہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ وہ جج ہیں جنہوں نے نواز شریف کا مشہور زمانہ حدیبیہ پیپر ملز کرپشن کیس تمام ثبوتوں کے باوجود محض ٹیکنیکل بنیادوں پر بند کیا تھا؟ جنہوں نے فیض آباد دھرنا کیس میں عسکری اداروں کا موقف سنے بغیر ان پر الزامات لگاکر کاروائی کرنے کا حکم دیا تھا؟
    اگر اعلیٰ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ نواز جج موجود ہو سکتے ہیں تو سسیلین مافیا نواز جج کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان دونوں بڑے مافیاؤں نے مفادات کی خاطر اپنے بندے ہر جگہ لگائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے تو ملک آگے نہیں بڑھ رہا۔
     
  18. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حدیبیہ پیپر ملز اور فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ غلط تھی، یوں تو مخالف فریق بھی اسی نوعیت کے الزامات لگا سکتے ہیں؟ :) یہی تو المیہ ہے۔ ہر کسی کو وہی سچ لگتا ہے، جو اس کے دماغ شریف میں ہے۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,180
    کیونکہ یہی سسیلین مافیا ماضی میں جسٹس قیوم اور دیگر ججوں کو بریف کیس بھجوا کر پورا پورا بینچ خرید لیا کرتا تھا ۔
    حدیبہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ پڑھیں۔ منی لانڈرنگ کی ٹریل موجود، ملزمان کا اعترافی بیان موجود، جن کے نام پر منی لانڈرنگ کی گئی ان کی لاعلمی کا ریکارڈ موجود۔ اس کے باوجود کیس کو 10 سال لٹکایا گیا اور پھر کیس کی مدت گزرتے ساتھ ہی ٹیکنیکل بنیادوں پر بند کر دیا گیا۔
     
  20. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,778
    یہ کیس تکنیکی بنیاد پر بند ہی ہونا تھا۔ شاید آپ کو قانون کا علم نہیں۔ فیصلہ آپ نے نہیں، ججز نے کرنا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر