جسمانی اور روحانی بیماریاں۔

ام اویس

محفلین
جسم کی طرح روح کی بیماریاں بھی مختلف ہوتی ہیں۔
کچھ کی تشخیص آسان ہوتی ہے اور کچھ کو پہچاننا اور ان کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے ۔
جس طرح عام بیماری میں مبتلا ہونے والے بعض لوگ بیمار ہونے کے باوجود اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے، تھوڑی بہت احتیاط کرتے، کھاتے پیتے اور کام میں مصروف رہتے ہیں اور چند دن میں خودکار طریقے سے تندرست ہو جاتے ہیں، اسی طرح چھوٹی چھوٹی اخلاقی و روحانی کمیوں میں مبتلا لوگ جو حلال رزق کمانے میں مصروف ہوں، وضو اور نماز کا اہتمام کرنے والے، خلوص سے فرائض کو پورا کرنے والے، حقوق الله کے ساتھ حقوق العباد کا خیال رکھنے والے، چھوٹی چھوٹی روحانی بیماریوں اور کوتاہیوں سے بچ جاتے ہیں ۔

مسئلہ بڑی بیماریوں کا ہے بعض اوقات جن کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی اور آخر کار موت کے منہ میں لے جاتی ہیں۔
شوگر اور بلڈ پریشر جیسی جسمانی بیماریاں اندر ہی اندر اپنی کاروائی ڈالتی رہتی ہیں۔ انسان اگر بچاؤ کے لیے محتاط نہ رہے اور سختی سے پرہیز نہ کرے تو انجام کار ہارٹ اٹیک، فالج یا برین ہیمرج کا شکار ہوکر جسم کی ہر قوت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
یہی معاملہ روحانی بیماریوں کا ہے ان کی بھی اگر تشخیص نہ ہو سکے تو ہلاکت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کی ہوس ، بغض ، کینہ، ریا کاری اور حسد جیسی ہولناک روحانی بیماریاں انسان کے اعمال کو اس طرح برباد کر دیتی ہیں کہ سب خلاص، اور ہر عمل سے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔

الله کریم جسمانی و روحانی بیماریوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔

نزہت وسیم
 
Top