جذبات سو گئے تھے ان کو جگا رہے ہو-----برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جذبات سو گئے تھے ان کو جگا رہے ہو
الفت کے دیپ میرے دل میں جلا رہے ہو
----------
دل میں اگر تمہارے میرے لئے ہے چاہت
میرے قریب آ کر کیوں دور جا رہے ہو
-------------
یہ قربتیں تمہاری غیروں کے ساتھ اتنی
کیوں روح پر یہ میری آرا چلا رہے ہو
-------
ایسے تو تم کو خوشیاں ہرگز نہ مل سکیں گی
غیروں کو جس طرح تم اپنا بنا رہے ہو
-------------
لوگوں کے دل دُکھانا دنیا کی ہے یہ عادت
لیکن یہ کیا کہ تم بھی مجھ کو ستا رہے ہو
----------
میں دیکھتا ہوں تم کو خوابوں میں اس طرح سے
زلفوں کا میرے سر پر سایہ بنا رہے ہو
------------
تم زندگی میں میری آئے نہ پاس میرے
آنسو بہا کے اب کیوں رسمیں نبھا رہے ہو
-----------
 

الف عین

لائبریرین
جذبات سو گئے تھے ان کو جگا رہے ہو
الفت کے دیپ میرے دل میں جلا رہے ہو
---------- درست

دل میں اگر تمہارے میرے لئے ہے چاہت
میرے قریب آ کر کیوں دور جا رہے ہو
------------- ٹھیک

یہ قربتیں تمہاری غیروں کے ساتھ اتنی
کیوں روح پر یہ میری آرا چلا رہے ہو
------- پہلے مصرع میں بات مکمل نہیں
... غیروں کے ساتھ کیوں ہیں؟
کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ شعر آرا چلانے کی وجہ سے مزاحیہ لگتا ہے۔ اس قسم کے غیر غزلیہ الفاظ استعمال کرنے سے بچیں
دینے پہ میرے پھر کیوں نشتر چلا رہے ہو

ایسے تو تم کو خوشیاں ہرگز نہ مل سکیں گی
غیروں کو جس طرح تم اپنا بنا رہے ہو
------------- کیا بات ہوئی؟

لوگوں کے دل دُکھانا دنیا کی ہے یہ عادت
لیکن یہ کیا کہ تم بھی مجھ کو ستا رہے ہو
---------- ٹھیک ہے

میں دیکھتا ہوں تم کو خوابوں میں اس طرح سے
زلفوں کا میرے سر پر سایہ بنا رہے ہو
------------ سایہ بنانا محاورہ نہیں، کچھ اور کہیں

تم زندگی میں میری آئے نہ پاس میرے
آنسو بہا کے اب کیوں رسمیں نبھا رہے ہو
------- یہ رسم تو نہیں ہوتی!
 
الف عین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اصلاح )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ قربتیں تمہاری غیروں کے ساتھ کیوں ہیں
سینے پہ میرے پھر کیوں نشتر چلا رہے ہو
------- یا
سینے پہ میرے ایسے نشتر چلا رہے ہو
--------
غیروں کے ساتھ قربت مجھ سے تری ہے دوری
کیا خوب مجھ سے اپنا وعدہ نبھا رہے ہو
------------
خوابوں میں دیکھتا ہوں آئے ہو پاس میرے
آنکھیں ملا کے مجھ سے تم مسکرا رہے ہو
------------------
تم زندگی میں میری آئے نہ پاس میرے
جب کھو دیا ہے مجھ کو ِ آنسو بہا رہے ہو
------------
خوشیاں منا رہے ہو اتنی جو آج ارشد
ایسی ہے بات کوئی جس کو چھپا رہے ہو
------------یا
کوئی تو بات ہو گی جس کو چھپا رہے ہو
------------
 

الف عین

لائبریرین
یہ قربتیں تمہاری غیروں کے ساتھ کیوں ہیں
سینے پہ میرے پھر کیوں نشتر چلا رہے ہو
------- یا
سینے پہ میرے ایسے نشتر چلا رہے ہو
-------- ایسے کی بہ نسبت اس طرح بہتر ہو گا
اس طرح میرے دل پر نشتر....

غیروں کے ساتھ قربت مجھ سے تری ہے دوری
کیا خوب مجھ سے اپنا وعدہ نبھا رہے ہو
------------تری ہے دوری' رواں لگتا ہے آپ کو؟' مجھ سے ہے تیری دوری' بہتر ہو گا، اس کے علاوہ ' غیروں کے ساتھ قربت' دہرایا جا رہا ہے

خوابوں میں دیکھتا ہوں آئے ہو پاس میرے
آنکھیں ملا کے مجھ سے تم مسکرا رہے ہو
------------------ درست

تم زندگی میں میری آئے نہ پاس میرے
جب کھو دیا ہے مجھ کو ِ آنسو بہا رہے ہو
------------ درست

خوشیاں منا رہے ہو اتنی جو آج ارشد
ایسی ہے بات کوئی جس کو چھپا رہے ہو
------------یا
کوئی تو بات ہو گی جس کو چھپا رہے ہو
----- کیا بات چھپانے کی خوشی منائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو ان دونوں مصرعوں میں کوئی اور ربط محسوس نہیں ہوتا
 
Top