تبسم جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے ۔ صوفی تبسّم

فرخ منظور

لائبریرین
جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے​
درد کے عنواں بدل کر رہ گئے​
​
کتنی فریادیں لبوں پر رُک گئیں​
کتنے اشک، آہوں میں ڈھل کر رہ گئے​
​
رخ بدل جاتا مری تقدیر کا​
آپ ہی تیور بدل کر رہ گئے​
​
کھُل کے رونے کی تمنّا تھی ہمیں​
ایک دو آنسو نکل کر رہ گئے​
​
زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنہیں​
دو قدم ہمراہ چل کر رہ گئے​
​
تیرے اندازِ تبسّم کا فسوں​
حادثے پہلو بدل کر رہ گئے​
​
(صوفی تبسّم)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top