تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے-----براءے اصلاح

الف عین
عظیم
@خلیل الر حمن
-----
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
------------
تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے
آؤ کبھی تو سامنے تیرا ہی انتظار ہے
----------یا
مجھ سے کبھی تو آ کے مل تیرا ہی انتظار ہے
--------------
تیرے لئے جو پیار ہے دل میں رہے گا یہ سدا
تیرے بنا اداس ہوں آنکھ بھی اشکبار ہے
-------------
کوئی کبھی بھی خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا
تُو جو مرے ہو ساتھ تو خواب بھی مشکبار ہے
-------------
تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے
تجھ پہ ہی اس جہان میں مجھ کو تو اعتبار ہے
--------------
تجھ سے نہیں گلہ مجھے میرا یہی نصیب تھا
تیرا اگر کسی سے اب رشتہ جو استوار ہے
------------
تجھ کو سکون مل گیا میری خوشی ہے بس یہی
نام مرا بھی بھول جا تیرے لئے یہ بار ہے
------------
اب تو نہیں ہے حوصلہ مجھ میں کسی سے پیار کا
منہ پہ مرے سجا ہوا غم کا جو اشتہار ہے
--------------
غم سے تری نجات ارشد ہو گئی ہے آج تو
دل سے اسے نکال دو تجھ میں جو خلفشار ہے
------یا
دل سے اسے نکال دو بات جو ناگوار ہے
-----------
 

الف عین

لائبریرین
اب بہتری محسوس ہو رہی ہے

تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے
آؤ کبھی تو سامنے تیرا ہی انتظار ہے
----------یا
مجھ سے کبھی تو آ کے مل تیرا ہی انتظار ہے
-------------- دوسرا متبادل بہتر ہے، پہلے میں 'آؤ' کی وجہ سے شتر گربہ ہے

تیرے لئے جو پیار ہے دل میں رہے گا یہ سدا
تیرے بنا اداس ہوں آنکھ بھی اشکبار ہے
------------- ٹھیک اگرچہ دو لختی سی ہے

کوئی کبھی بھی خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا
تُو جو مرے ہو ساتھ تو خواب بھی مشکبار ہے
------------- خواب مشکبار ہونا عجیب ہے
پہلا مصرع
کوئی بھی میرے خواب میں.... بہتر ہو گا

تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے
تجھ پہ ہی اس جہان میں مجھ کو تو اعتبار ہے
-------------- دو لخت سا یہ بھی ہے

تجھ سے نہیں گلہ مجھے میرا یہی نصیب تھا
تیرا اگر کسی سے اب رشتہ جو استوار ہے
------------ درست

تجھ کو سکون مل گیا میری خوشی ہے بس یہی
نام مرا بھی بھول جا تیرے لئے یہ بار ہے
------------ تجھ پہ اگر یہ بار ہے
سے بہتر ہو گا شعر

اب تو نہیں ہے حوصلہ مجھ میں کسی سے پیار کا
منہ پہ مرے سجا ہوا غم کا جو اشتہار ہے
-------------- اسے نکال ہی دیں

غم سے تری نجات ارشد ہو گئی ہے آج تو
دل سے اسے نکال دو تجھ میں جو خلفشار ہے
------یا
دل سے اسے نکال دو بات جو ناگوار ہے
----------- پہلے مصرع میں ارشد دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے کہ یہ بحر ہی ایسی ہے
دوسرا متبادل بہتر ہے
 
الف عین
عظیم
@خلیل الر حمن
-----
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
------------
تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے
آؤ کبھی تو سامنے تیرا ہی انتظار ہے
----------یا
مجھ سے کبھی تو آ کے مل تیرا ہی انتظار ہے
--------------
تیرے لئے جو پیار ہے دل میں رہے گا یہ سدا
تیرے بنا اداس ہوں آنکھ بھی اشکبار ہے
-------------
کوئی کبھی بھی خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا
تُو جو مرے ہو ساتھ تو خواب بھی مشکبار ہے
-------------
تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے
تجھ پہ ہی اس جہان میں مجھ کو تو اعتبار ہے
--------------
تجھ سے نہیں گلہ مجھے میرا یہی نصیب تھا
تیرا اگر کسی سے اب رشتہ جو استوار ہے
------------
تجھ کو سکون مل گیا میری خوشی ہے بس یہی
نام مرا بھی بھول جا تیرے لئے یہ بار ہے
------------
اب تو نہیں ہے حوصلہ مجھ میں کسی سے پیار کا
منہ پہ مرے سجا ہوا غم کا جو اشتہار ہے
--------------
غم سے تری نجات ارشد ہو گئی ہے آج تو
دل سے اسے نکال دو تجھ میں جو خلفشار ہے
------یا
دل سے اسے نکال دو بات جو ناگوار ہے
-----------
ماشااللہ کافی بہتری ہے۔۔۔ داد وصول کریں۔۔۔
 
الف عین
(اصلاح کے بعد دوبارا )
--------
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
-----------
تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے
مجھ سے کبھی تو آ کے مل تیرا ہی انتظار ہے
--------------
تجھ کو بھلا سکوں گا میں لگتا ہے بس میں یہ نہیں
تیرے بنا اداس ہوں آنکھ بھی اشکبار ہے
------------
کوئی بھی میرے خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا
ہالانکہ میرے خواب پر میرا نہ اختیار ہے
---------------
تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے
تیرے بنا یہ زندگی میری تو سوگوار ہے
--------------
کوئی نہیں جہان میں جس کو میں اپنا کہہ سکوں
تجھ پہ ہی اس جہان میں مجھ کو تو اعتبار ہے
-------------یا
ایسے فقط تمہیں تو ہو جس پہ یہ اعتبار ہے
-------------
تجھ سے نہیں گلہ مجھے میرا یہی نصیب تھا
تیرا اگر کسی سے اب رشتہ جو استوار ہے
------------
تجھ کو سکون مل گیا میری خوشی ہے بس یہی
نام مرا بھی بھول جا تجھ پہ اگر یہ بار ہے
---------
چاہا تھا تم نے پیار بس وہ بھی تجھے نہ مل سکا
دل سے اسے نکال دے جس سے تجھے بھی پیار ہے
------------
(مجھ سے تو نام فِٹ نہیں ہوتا ،آپ ہی طریقہ بتائیں)
 

الف عین

لائبریرین
پہلے دونوں اشعار درست ہیں
کوئی بھی میرے خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا
ہالانکہ میرے خواب پر میرا نہ اختیار ہے
--------------- خواب دہرایا جا رہا ہے
حالانکہ اس پہ کچھ مرا بس ہے نہ اختیار ہے
ایک تجویز

تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے
تیرے بنا یہ زندگی میری تو سوگوار ہے
-------------- دوسرا مصرع بے ربط بھی ہے اور 'تو' بھی بھرتی کا ہے

کوئی نہیں جہان میں جس کو میں اپنا کہہ سکوں
تجھ پہ ہی اس جہان میں مجھ کو تو اعتبار ہے
-------------یا
ایسے فقط تمہیں تو ہو جس پہ یہ اعتبار ہے
-------------
دوسرا متبادل بہتر ہے، پہلے میں جہان رپیٹ ہو رہا ہے

تجھ سے نہیں گلہ مجھے میرا یہی نصیب تھا
تیرا اگر کسی سے اب رشتہ جو استوار ہے
------------ ٹھیک

تجھ کو سکون مل گیا میری خوشی ہے بس یہی
نام مرا بھی بھول جا تجھ پہ اگر یہ بار ہے
--------- یہ بھی درست

چاہا تھا تم نے پیار بس وہ بھی تجھے نہ مل سکا
دل سے اسے نکال دے جس سے تجھے بھی پیار ہے
------------
شتر گربہ ہے
خطاب کس سے ہے، محبوب سے؟
 
Top