فارسی شاعری تو کریمی من کمینہ بردہ ام ۔مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ

تو کریمی من کمینہ بردہ ام
لیکن از لطفِ شما پروردہ ام

یا اللہ تو رحیم و کریم ہےاور میں کم ظرف انسان ہوں
لیکن تیرے لطف و کرم سے ہی میری بقا ہے

زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی

مقصدِ حیات اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے
اللہ کے احکامات سے رو گردانی میں خسارہ ہی خسارہ ہے

یادِ او سرمایئہ ایمان بود
ہر گدا از یادِ او سلطان بود

اللہ کی یاد دین و ایمان کی دولت ہے
ایک ادنیٰ انساں اس کے احکامات پر علم پیرا ہو کر سلطاں بن جاتا ہے

سید و سرور محمد نورِ جاں
مہتر و بہتر شفیعِ مجرماں

(ہمارے) سردار حضرت محمد ﷺ کائنات کی جان اور نور ہیں
آپ ﷺ گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں

چوں محمدﷺ پاک شد از نارو دود
ہر کجا روکرد وجہہ اللہ بود

حضورِ پاک ﷺ کائنات کی مصفہ ترین پاک ترین ہستی ہیں
آپ جس چیز کا بھی حکم دیں وہ حکمِ خداوندی ہے

شہبازی لا مکانی جانِ او
رحمتہ اللعٰلمیں در شانِ او

آپ ﷺ کو عرشِ معلیٰ پر معراج کرئی گئ
آپ ﷺ دونوں جہانوں کے لئے رحمت ہیں

مھترین و بہترینِ انبیاء
جز محمد ﷺ نیست در ارض و سماں

آپ ﷺ انبیاء کے سردار امام الانبیاء ہیں
آپ ﷺ کے مثل کائنات میں کوئی نہیں

آں محمد ﷺ حامد و محمود شد
شکلِ عابد صورتِ معبود شد

آپ ﷺ کا ذکر کثرت سے بلند کیا گیا ہے
آپ ﷺ اللہ کے نور کا مظہر ہیں

اولیاء اللہ ہو اللہ اولیاء
یعنی دیدِ پیر دیدِ کبریا

جو اللہ کے ولی ہیں اللہ ان کا ولی ہے
یعنی پیرِ کامل کو دیکھنے سے اللہ کی یاد آ جاتی ہے

ہر کہ پیرِ ذاتِ حق را یک نہ دید
نے مرید و نے مرید و نے مرید

جو اپنے پیرِ کامل کو اللہ کا ولی نہیں سمجھتا
وہ مرید نہیں ہو سکتا وہ مرید نہیں ہو سکتا

مولوی ہرگز نہ شد مو لائے روؔم
تا غلام ِ شمس تبریزی نہ شد

مولوی کبھی بھی مولا نا روؔم نہ ہوتا
اگر حضرت شمس الدین تبریزی کا مرید نہ ہوتا

مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ
 

سیما علی

لائبریرین
فارسی مثنوی از مولانا جلال الدین رومی (رح)
تو کریمی من کمینہ بردہ ام،
لیکن از لطف شمار پروردہ ام۔۔!!!
زندگی آمد برائے بندگی،
زندگی بے بندگی شرمندگی۔۔۔!!!
یادِ اُو سرمایہء ایماں بُوَد،
ہر گدا از یادِ اُوسلطاں بود،
سید و سرور محمد نورِ جاں،
مہتر و بہتر شفیعِ مجرماں،
چوں محمد پاک شد از نار دود،
ہر کجا روح کرد وجہ اللہ بود۔۔۔
!!! شاہبازِ لامکانی جانِ او،
رحمتہ اللعالمیں در شانِ او۔۔۔
!!! مہترین و بہترین انبیاء،
جز محمد نیست در ارض و سما۔۔
۔!!! آں محمد حامد و محمود شد،
شکلِ عابد صورت معبود شد۔۔۔!!!

ترجمہ 1)
یا اللہ تو رحیم و کریم ہےاور میں کم ظرف انسان ہوں لیکن تیرے لطف و کرم سے ہی میری بقا ہے 2) مقصدِ حیات اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے اللہ کے احکامات سے رو گردانی میں خسارہ ہی خسارہ ہے 3) اللہ کی یاد دین و ایمان کی دولت ہے ایک ادنیٰ انساں اس کے احکامات پر علم پیرا ہو کر سلطاں بن جاتا ہے 4) (ہمارے) سردار حضرت محمد ﷺ کائنات کی جان اور نور ہیں آپ ﷺ گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں 5) حضورِ پاک ﷺ کائنات کی مصفہ ترین پاک ترین ہستی ہیں آپ جس چیز کا بھی حکم دیں وہ حکمِ خداوندی ہے 6) آپ ﷺ کو عرشِ معلیٰ پر معراج کرئی گئ آپ ﷺ دونوں جہانوں کے لئے رحمت ہیں 7) آپ ﷺ انبیاء کے سردار امام الانبیاء ہیں آپ ﷺ کے مثل کائنات میں کوئی نہیں آپ ﷺ کا ذکر کثرت سے بلند کیا گیا ہے آپ ﷺ اللہ کے نور کا مظہر ہیں ''

ﺻَﻠّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠٰﯽ ﺣَﺒِﯿﺒِﮧ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺁﻟِﮧ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ''
 
آخری تدوین:
Top