تنہائ

علی ذاکر

محفلین
ہر رات غمِ تنہائ
ہر شام تیری یاد آئ
لاکھ تجہے بھولنا چاہا
اس سے بڑھ کر تیری یاد آئ
تجھ سے کوئ اُمید
بھی وابستہ نہیں
اس دکھ سے میری آنکھ بھر آئ
لوگوں نے پوچھا
آشکوں کا سبب
بس مجہے کہنا پڑھا
تنھائ
 
Top