تم نہ ہو گے تو تو کوئی فرق کہاں پڑ جائے گا

طاھر جاوید

محفلین
سوچو ذرا
تم نہ ہو گے تو تو کوئی فرق کہاں پڑ جائے گا
نہ عالمِ زیست میں بڑھتا ہوا شور ٹہر جائے گا
نہ مُدعیِ جاں حدِ ضمانت سے بڑھ جائے گا
تم گئے تو وہی ہونا ہے جو ہوتا رہتا ہے
مرا ضمیر مری مقدر کی طرف داری میں
مُجھ سے مُختلف سوچتا ھوا
تمہارے وجود کے عدم کی تشریح میں
مجھے اکیلے چھوڑ کے
اپنی سوچی ھوئی راھوں کی سمت میں بڑھ جاے گا
 
Top