تعلیم اب اردو میں۔۔۔۔دیر آید درست آید


لاہور(نوائے وقت رپورٹ) وزیرتعلیم پنجاب رانا مشہود نے کہا ہے کہ صوبے کے تعلیمی نصاب کو مکمل طور پر انگریزی سے اردو میں بدلنے پر غور کر رہے ہیں۔ طلباءو طالبات کیلئے انگریزی زبان کا سلیبس آپشنل ہوگا، طلبہ کی قابلیت کسی زبان کی بجائے انکے علم کے مطابق جانچنے کا طریقہ کار بھی اپنائیں گے۔ فرانس، جرمنی اور چین ایسے ہی فارمولے پر کاربند ہیں۔ گزشتہ روز چلڈرن کمپلیکس لائبریری میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا تعلیم میں رٹا سسٹم ختم کرنے کیلئے یہ پالیسی اہم کردار ادا کریگی۔ اگلے چار ماہ میں جامع پالیسی بنا کر وزیراعلیٰ کو پیش کر دوں گا۔ رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نئی نسل کو ”رٹو طوطے“ نہ بنایا جائے اور تعلیم کے راستے میں رکاوٹ بننے والے” مائنڈ سیٹ “سے مرعوب ہوئے بغیر بچوں کو اپنے ماحول کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے تاکہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبے کے 55 ہزار سرکاری سکولوں میں بچوں کو مفت کتابیں فراہم کرنے کی بجائے انہیں کمپیوٹرائزڈ ٹیبلٹس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں تمام نصابی کتابیں اپ لوڈ کرکے بچوں کیلئے آسانی پیدا کی جائیگی۔ حکومت پنجاب دیہات کی سطح تک تمام سکولوں میں طلبا و طالبات کو یہ ٹیبلٹس مفت فراہم کریگی۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کا ڈراپ آ¶ٹ ریٹ کم کرنے کیلئے حکومت نے دور دراز علاقوں میں زیرتعلیم بچیوں کو 400 روپے ماہانہ تک سکالرشپ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت پنجاب نے 75 ہزار سکول ٹیچرز بھرتی کئے تھے۔ ابھی ہمیں 80 ہزار مزید سکول ٹیچرز کی خدمات درکار ہیں تاکہ پنجاب میں 100 فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے 351 ملین روپے کی امداد سے اس سال پنجاب کے سرکاری سکولوں میں 15 ہزار نئے کلاس رومز تعمیر کئے جائیں گے۔
 
ماشاء اللہ یہ تو بہت ہی روح افزا خبر ہے۔ دل خوش ہوا ہے اس خبر سے۔ اللہ اس کو عملی جامہ پہنائے ورنہ یہ بھی اپنوں اور غیروں کے سازشوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پنجاب کے سپوت انگلش سیکھنے پر دس سال تک غیرضروری طور پر اپنا قیمتی دماغ نہیں کھپائیں گے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اہلِ پنجاب کو نصابِ تعلیم میں امریکی و برطانوی فنڈ کے بدلے میں ان کی من مانی غیر اسلامی و غیر مشرقی تبدیلیوں کے خلاف بھی خیبر پختون کے غیور عوام کی طرح سخت آواز اٹھانا پڑےگا۔ جس طرح باقی دنیا اپنی افکار کے بچاؤ کو ہر صورت ممکن بناتی ہے اسی طرح پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے لہذا یہاں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ان کےاقدار و روایات کا ہر صورت لحاظ بھی رکھنا ہوگا۔​
 
ماشاء اللہ یہ تو بہت ہی روح افزا خبر ہے۔ دل خوش ہوا ہے اس خبر سے۔ اللہ اس کو عملی جامہ پہنائے ورنہ یہ بھی اپنوں اور غیروں کے سازشوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پنجاب کے سپوت انگلش سیکھنے پر دس سال تک غیرضروری طور پر اپنا قیمتی دماغ نہیں کھپائیں گے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اہلِ پنجاب کو نصابِ تعلیم میں امریکی و برطانوی فنڈ کے بدلے میں ان کی من مانی غیر اسلامی و غیر مشرقی تبدیلیوں کے خلاف بھی خیبر پختون کے غیور عوام کی طرح سخت آواز اٹھانا پڑےگا۔ جس طرح باقی دنیا اپنی افکار کے بچاؤ کو ہر صورت ممکن بناتی ہے اسی طرح پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے لہذا یہاں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ان کےاقدار و روایات کا ہر صورت لحاظ بھی رکھنا ہوگا۔​


آصف صاحب آپ نے بہت اہم معاملے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت بہت تیزی سے نصاب تعلیم کو سیکولر کرنے کی طرف گامزن ہے۔ اس کی واضح مثال دہم کی اردو کی کتاب کا نیا ایڈیشن ہے۔
اس میں اسلام کو کھرچ کھر چ نکا ل دیا گیا ہے۔ اب صر ف حمد اور نعت نامی دو نظمیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کتاب مسلم مملکت کا نصاب تعلیم ہے۔اس کے علاوہ اقبالیات اور اسلامیات کا کوئی نشان اس کتاب میں موجود نہیں۔
 

تلمیذ

لائبریرین
ایک نہایت عمدہ اور امید افزا خبر، بشرطیکہ یہ اقتدار کے جھروکوں سے عوام کی طرف پھینکا گیا ایک 'لالی پاپ' ثابت نہ ہو۔یہاں پر اگر اجازت ہو، تو ایک ضروری گذارش یہ کرنی ہے کہ کم از کم پرائمری کے نصاب میں پنجابی زبان بھی شامل کی جانی چاہئے تاکہ بچوں کو ماں بولی کی گرائمر و املاکے ساتھ بھی شناسائی پیدا کرنے کا موقع ملے۔ وہ گھروںمیں پنجابی بول تو لیتے ہی ہیں لیکن اصل چیز خواندگی ہے۔ باقی تین صوبوں میں اگر ابتدائی جماعتوں میں اردو کے ساتھ ساتھ ماں بولی کی تعلیم د ی جا سکتی ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ قدم اٹھا لیا گیا تو انشأاللہ اس کے نتائج بہت دور رس ہوں گے۔
محمد یعقوب آسی
@زبیرمرزا
فلک شیر
دوست
نیرنگ خیال
غدیر زھرا
 
پرانی بات ہے، روزنامہ امروز لاہور میں نصیر انور کا ایک کالم ہوا کرتا تھا ’’جھوٹی باتیں‘‘۔ کالم کے ماتھے پر یہ جملہ لکھا ہوتا تھا:
’’جب دنیا میں جھوٹ اتنا عام ہو کہ وہ سچ ہو جائے تو اتنا سچ بول کہ وہ جھوٹ ہو جائے‘‘
وہی جو گو مگو کی کیفیت اس جملے کا مغز ہے، آج ہم پر طاری ہے۔ پنجاب سرکار نے اردو کی طرف مراجعت کا یہ جو اعلان کیا ہے، اللہ کرے اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ سچ بھی ہو چاہے نصیر انور کی جھوٹی باتوں جتنا ہی ہو۔ پچھلے دنوں ایک سرکاری سکول کی مینجمنٹ کمیٹی میں ایک بزرگ نے خوب کہی کہ: ’’ہمیں دکھایا گیا کہ انگریزوں کے بچے فرفر انگریزی بولتے ہیں اور نویں دسویں تک وہ سائنس کے مضامین تک وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں تک ہمارے گریجوایٹ بھی نہیں پہنچ پاتے۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کو بنیادی تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم بھی اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم انگریزی میں دیں گے اور ہمارے بچے بھی فرفر انگریزی بولیں گے اور نویں دسویں تک ۔۔۔۔‘‘ بڑے میاں کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے اور ایک طویل وقفے کے بعد گویا ہوئے: ’’نویں دسویں تک پہنچ بھی پاتے ہیں کہ نہیں!‘‘

بڑے میاں کا بیان جاری ہے ۔۔۔ باقی آئندہ یا کسی اور نصیر انور کی زبانی سنئے گا۔
 
اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے سے پہلے ایک تحقیق کروالینی چاہیے کہ اگر ایسا ہوگیا تو کتنے طلبا اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے پر تیار ہوں گے۔
 

عثمان

محفلین
یہاں پر اگر اجازت ہو، تو ایک ضروری گذارش یہ کرنی ہے کہ کم از کم پرائمری کے نصاب میں پنجابی زبان بھی شامل کی جانی چاہئے تاکہ بچوں کو ماں بولی کی گرائمر و املاکے ساتھ بھی شناسائی پیدا کرنے کا موقع ملے۔ وہ گھروںمیں پنجابی بول تو لیتے ہی ہیں لیکن اصل چیز خواندگی ہے۔ باقی تین صوبوں میں اگر ابتدائی جماعتوں میں اردو کے ساتھ ساتھ ماں بولی کی تعلیم د ی جا سکتی ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ قدم اٹھا لیا گیا تو انشأاللہ اس کے نتائج بہت دور رس ہوں گے۔


یہ بتائیے کہ طلبا کو تمام نصابی تعلیم ان کی مادری زبان یعنی پنجابی میں ہی کیوں نہ دی جائے ؟ اور اردو کو ایک لازمی مضمون کے طور پر ساتھ چلایا جائے۔
 
یہ تو آپکی ہی فیلڈ ہے بھائی ذرا تفصیلی جائزہ لیں :)
میرا تفصیلی جائزہ تو خیر بہت دور کی بات ہے، آپ خود اپنا اور اپنی سہیلیوں ہی کا بتادیجیے کہ بیشتر تکنیکی مضامین اردو میں پڑھنا آسان لگتا ہے یا انگریزی میں رٹنا؟ :ڈ
 

تلمیذ

لائبریرین
یہ بتائیے کہ طلبا کو تمام نصابی تعلیم ان کی مادری زبان یعنی پنجابی میں ہی کیوں نہ دی جائے ؟ اور اردو کو ایک لازمی مضمون کے طور پر ساتھ چلایا جائے۔
جناب یہ تجویز عمدہ توبہت ہے، لیکن عملی طور پر بے پنا مشکلات کا حامل ہے کیونکہ اکثریت اس کے حق میں نہیں ہوگی فقط پرائمری تک پنجابی ایک زبان کے طور پر ہی شامل کر دی جائے تو بڑی بات ہے۔
 

دوست

محفلین
دیکھیں جی پانچویں تک تعلیم مادری زبان میں۔ قومی زبان ساتھ پڑھائی جائے، اور انگریزی بھی۔ اس کے بعد جیسے جیسے زبان کی بیس بنتی جائے تو انگریزی میں تعلیم بھی دی جا سکتی ہے۔
 

عثمان

محفلین
جناب یہ تجویز عمدہ توبہت ہے، لیکن عملی طور پر بے پنا مشکلات کا حامل ہے کیونکہ اکثریت اس کے حق میں نہیں ہوگی فقط پرائمری تک پنجابی ایک زبان کے طور پر ہی شامل کر دی جائے تو بڑی بات ہے۔

کیا مشکلات ہیں ؟ بیان کیجیے۔
آپ کا بنیادی موقوف یہی ہے نا کہ چین فرانس مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہم نہیں۔ تو پھر پنجابی میں میٹرک پاس کرنے پر پس و پیش کیوں؟
نیز یہ بتائیے کہ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔ یعنی انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور میڈیکل وغیرہ بھی اردو، پنجابی میں کروانے کی خواہش ہے؟
 

تلمیذ

لائبریرین
کیا مشکلات ہیں ؟ بیان کیجیے۔
آپ کا بنیادی موقوف یہی ہے نا کہ چین فرانس مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہم نہیں۔ تو پھر پنجابی میں میٹرک پاس کرنے پر پس و پیش کیوں؟
نیز یہ بتائیے کہ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔ یعنی انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور میڈیکل وغیرہ بھی اردو، پنجابی میں کروانے کی خواہش ہے؟

اس سلسلے میں دوست کی مندرجہ بالا پوسٹ سے رجوع کریں۔ اور ان سے گذارش ہےکہ اگر وہ اس بارے میں تفصیل سے لکھ سکیں تو نوازش ہوگی۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں ہر صوبے میں کافی ساری زبانیں بولی جاتی رہیں گی، تب تک یہ ناممکن ہے کہ پورے ملک کا نظام تعلیم ایک زبان میں بنایا جا سکے۔ دوسرا یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر صوبے میں اکثریت کے علاوہ اقلیت بھی پائی جاتی ہے، جو اپنی مادری زبان میں تعلیم پر زور دے گی۔ بہتر یہی رہے گا کہ مادری زبان کا ایک مضمون ہو جو لازمی ہو، تعلیم کے لئے ایک ہی زبان رائج ہو
 
Top