تعزیرات پاکستان کا سیکشن 89 معطل: سکولوں میں بچوں پر تشدد ختم

جاسم محمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 13, 2020 4:54 شام

  1. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    وہ تو اس پر منحصر ہے کہ کس کی طرف سے کُوٹے جانے کا زیادہ خطرہ ہے۔
    جان بچانے کے لیے یو ٹرن جائز ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  2. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    محولہ بالا تحقیق کا جواب سعد بھائی ہی دیں گے کیونکہ وہ اس تحقیق کو بہتر طور پر پرکھ سکتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  3. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    فی الحال مصروف ہوں۔ صرف انہی چیزوں کے متعلق بات کر سکتا ہوں جو پہلے سے پڑھ رکھی ہیں یا جن کے تجزیے میں زیادہ وقت نہ لگے۔ APA والے بہرحال نفسیات کو مجھ سے بہتر ہی جانتے ہوں گے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہاں دونوں کی ٹریٹمنٹ میں فرق ہوتا ہے؛ اور اگر کہیں نہیں ہوتا تو رکھا جانا چاہیے۔
    ویسے انسان کا بچہ استاد یا باپ سے ڈنڈا کھانے کے بعد بھی اشرف المخلوقات ہی رہتا ہے۔ اشرف المخلوقات کے درجے سے گرانے والے کام کچھ "دوسرے" ہوتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,137
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ڈنڈا کھانے کے بعد تو رہتا ہے۔ کیا ڈنڈا مارنے کے بعد بھی رہتا ہے؟
    بائی دا وے، جانوروں کو بھی اگر خوش رکھیں تو آپ کو ان سے پیداوار یا کارکردگی بہتر ملتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  6. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جی ڈنڈا مارنے کے بعد بھی رہتا ہے بشرطیکہ کہ مارنے والے کی نیت اصلاح کی ہو۔
    انسان ہوں یا جانور، سختی یا مار پیٹ پسندیدہ عمل نہیں، لیکن بوقتِ ضرورت یا اشد ضرورت، زبانی یا جسمانی سرزنش کی اہمیت سے انکار کرنا میری دانست میں غلط ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,868
    اسلام آباد ہائیکورٹ کا بچوں پرتشدد اورسزا کے خلاف تحریری حکم جاری
    ویب ڈیسک ہفتہ 15 فروری 2020
    [​IMG]
    وفاقی تعلیمی اداروں میں بچوں پرتشدد پرپابندی یقینی بنائیں، عدالت فوٹو: فائل

    اسلام آباد: معروف گلوکارو شہزاد رائے کی درخواست پرہائیکورٹ نے بچوں پرتشدد اورسزا کے خلاف تحریری حکم جاری کردیا۔

    ایکسپریس نیوزکے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچوں پرتشدد اورسزا کے خلاف گلوکارشہزاد رائے کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔

    تحریری حکم نامہ کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان آئندہ سماعت پرعدالتی معاونت کریں، ڈائریکٹرجنرل ایجوکیشن شکایات وصول کرنے کے حوالے سے میکنزم بنائیں، پرائیویٹ اسکولوں کے لیے قائم ریگولیٹری باڈی عدالتی ہدایات کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کرے، سیکرٹری انسانی حقوق یو این کنونشن کے تحت بچوں کو حاصل حقوق کے قانون پرعمل درآمد رپورٹ جمع کرائیں۔

    عدالت نے ڈائریکٹرجنرل ایجوکیشن کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں بچوں پرتشدد پرپابندی یقینی بنائیں، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں کوحاصل حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

    عدالت نے ڈائریکٹرجنرل ایجوکیشن کوہدایت کی کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزاوں کے حوالے سے شکایات کا ازالہ کریں، انسپکٹرجنرل پولیس اسلام آباد بھی درخواست میں جواب جمع کرائیں۔ داخلہ، قانون و انصاف، تعلیم کے سیکرٹریز آئندہ سماعت تک جواب جمع کرائیں اوررجسٹرار آفس کیس پانچ مارچ کو سماعت کے لیے مقررکرے۔
     

اس صفحے کی تشہیر