"تربیتِ نسلِ نو"

محمد حسن شہزادہ نے 'گپ شپ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    352
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جو موضوع ہم نے چنا ہے وہ ہے آج کل کے ہونہار بروا کی تربیت کا جن کے چکنے چکنے پات کے لیے بقول آتش یہ کہنا بے جا نہ ہوگا،

    لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
    زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئے دہن بگڑا

    آج کل کے چھوٹے چھوٹے بچے اتنی بڑی بڑی گالیاں دیتے ہیں کہ عقل دم بخود رہ جاتی ہے اور کان سنسنانے لگتے ہیں کہ کیسی نسل ہے جس کو چھوٹے بڑے کی تمیز بھول گئی ہے۔ اگر کوئی ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو موقع پر ہی اس کو اپنا سا منہ لے کر خاموش ہو جانا پڑتا ہے۔ اگر کوئی زیادہ ہی دل گردے کا مالک ہو تو ان دھان پان سے بچوں کے اندر مولا جٹ کی روح ایسے حلول کرتی ہے کہ بندہ سات پشتوں کی توبہ کر کے وہاں سے فرار ہوتا ہے۔

    ایسے بچوں کی ماؤں سے اگر کچھ کہنے کی کوشش کی جائے کہ بہن ذرا اپنے سپوت کی خبر لو تو وہ الٹا کہنے والے کی ہی خبر لینے پر اتر آتی ہیں کہ ہاں ہاں تم لوگوں سے تو ہمارا اچھا کھانا پینا ہوتا ہی نہیں برداشت، سڑتے ہو تم لوگ ہمارے بچوں سے ۔ اور یوں جو بات حوصلہ و تحمل سے ختم ہو جانی چاہیے وہ پھر پورے محلے میں پھیل جاتی ہے کہ نیک نیتی سے بات کہنے والا پھر پورے محلے سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔

    دو بچوں کی لڑائی میں دو گھرانے دشمن بن جاتے ہیں اور بچوں کو دیکھو تو پھر سے ویسے شیر و شکر لیکن گھر والوں کا چھتیس کا آنکڑہ سالہا سال چلے گا۔

    تحمل و برداشت تو ہمارے معاشرے سے ایسے عنقا ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ جن بچوں کی تربیت بہترین اخلاقی بنیادوں پر ہونی چاہیے وہ گھروں میں ساس بہو کے جھگڑوں کی براہ راست نشریات دیکھ دیکھ کر پھاپھے کٹنیوں کی سی صفات لے کر بڑے ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ دورانِ لڑائی کوئی ماں کا جاسوس تو کوئی دادی نانی کا جاسوس بن کر دشمن مورچے کی خبریں مرچ مصالحے کے بارود کے ساتھ آرپار کرنے کا ماہر جو بن جاتا یے۔

    جو خواتین روایتی ساس بہو کے جھگڑوں سے بچی ہوں وہاں یا تو نند بھاوج کی چپقلش ہوتی ہے یا پھر میاں بیوی کے آپس کی اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

    برسرِ روزگار خواتین کے بچوں کے بھی کیا کہنے۔ جب مائیں تھکی ہاری گھر آتی ہیں اور بچہ ان کی توجہ چاہتا ہے تو ان کے ہاتھ میں اپنی جان چھڑوانے کی خاطر موبائل تھما دیا جاتا ہے اور یوں ان کی تربیت موبائل و انٹرنیٹ ہی کرتے ہیں ان کے ذہنوں کو قبل از وقت بالغ کر کے۔ ایسے سپوتوں نے پھر کیا معاشرے میں سدھار لانا ہے جو خود ہی بگڑے ہوئے۔
    مغربی حقوقِ نسواں کے پروپیگنڈوں کی ماری ہوئی خواتین سے التماس ہے کہ خدارا اپنے اصلی مقصد کو پہچانیے اپنی گرہستی سنبھالیئے اور اپنی تعلیم اپنے بچوں کی بہ احسن تربیت میں استعمال کیجیے۔
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر