تذکرة الشعرا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
معزز محبان اردو محفل سے التماس ہے کہ ایک نئی لڑی بعنوان "تذکرة الشعرا" کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں ہم تمام شعرا (جو کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں چاہے کسی بھی شہر سے مطلب ازل سے لیکر عصر حاضر تک کہ تمام شعرا) کا تذکرہ کرینگے۔
شاعر کا مکمل نام
پیدائش و وفات
جائے سکونت
نمونہ کلام

سید عمران سید عاطف علی وقار علی ذگر علی وقار محمد احسن سمیع راحلؔ محمد وارث الف عین جاسمن سیما علی گُلِ یاسمیں محمد عبدالرؤوف م حمزہ احمد محمد محمل ابراہیم فاخر فاخر رضا @تمام اراکین و محفلین اردو محفل
والسلام
عامر گولڑوی
 
رودکی سمرقندی
کہتے ہیں کہ فارسی شاعری کا موجد رودکی ہے۔
ابوعبدالله جعفر بن محمد بن حکیم بن عبدالرحمن بن آدم المتخلص رودکی ١١ رمضان المبارک ٢٤٤ھ بمطابق ٢٥ دسمبر ٨٥٧ء کو ایران عظمی کے شہر رودکی میں پیدا ہوا جوکہ اب تاجکستان کا حصہ ہے۔
رودکی کا تذکرہ سب سے پہلے نظامی عروضی سمرقندی ٥٥٠ھ نے اپنی تصنیف "چہار مقالہ" میں کیا ہے۔
رودکی کو امیر نصر سامانی کے دربار میں شہرت عام ملی یہاں تک کہ اس نے بہت زیادہ دولت حاصل کر لی اور کہا جاتا ہے کہ رودکی نے تقریباً ایک لاکھ شعر لکھے۔ رودکی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا موسیقار بھی تھا۔
رودکی نے امیر سامانی سعید نصر بن احمد اسماعیل ٣٠١-٣٣١ھ، ابو جعفر احمد بن محمد بن خلف بن لیث اور امیر سفاریان کی بیوی ٣١١-٣٥٢ھ اور دلمیان کے امیر ابو منصور ماکان ابن کاکی اور سامانیوں کے وزیر خواجہ ابوالفضل بلعمی کے لیے قصائد کہے۔
رودکی کی سب سے اہم تصنیف "کلیلہ و دمنہ" نظم ہے۔
"کلیلہ و دمنہ" اصل میں ایک ہندوستانی کتاب ہے جوکہ جانوروں کی زبان سے ایک پراسرار کہانی ہے، جس کا ترجمہ ساسانی دور میں بہرام شاہ غزنوی کے معاصر نصر اللہ منشی کے حکم سے فارسی میں کیا گیا تھا۔ اسلام کے بعد ابو محمد عبداللہ ابن مقفع نے اس کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ شیخ بہاالدین محمد بن حسین عاملی نے اپنی کتاب "کشکول" میں ذکر کیا ہے کہ رودکی کی نظم "کلیلہ و دمنہ" ١٢ ہزار آیات پر مشتمل ہے۔
رودکی نے ٣٢٩ھ بمطابق ٩٤٠ء کو پنجکنت، تاجکستان میں وفات پائی۔


زلفش بکشی شب دراز اندازد
ور بگشایی چنگل باز اندازد
ور پیچ و خمش ز یک دگر بگشایند
دامن دامن مشک طراز

آمد بر من، که؟ یار، کی؟ وقت سحر
ترسنده، ز که؟ ز خصم، خصمش که؟ پدر
دادمش دو بوسه، بر کجا؟ بر لب تر
لب بد؟ نه، چه بد؟ عقیق، چون بد؟ چو شکر

در عشق، چون رودکی، شدم سیر از جان
از گریهٔ خونین مژه ام شد مرجان
القصه که: از بیم عذاب هجران
در آتش رشکم دگر از دوزخیان
والسلام
عامر گولڑوی
 
پنڈت برج نرائن چکبست

اقبال کے ہم عصر شعرا میں ایک نام برج نرائن چکبست کا بھی ہے جو اپنے آفاقی شعر
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا

کے باعث شہرت دوام رکھتے ہیں۔

برج نرائن چکبست غالبا ۱۸۸۲ء کو فیض آباد، اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور ۱۹۲۶ء میں اچانک فالج کا حملہ ہونے کے سبب انتقال پا گئے۔
برج نرائن چکسبت کی اپنی زندگی میں دو کتابیں "صبح وطن(شعری مجموعہ)، مضامین چکبست اور ایک رسالہ "ستارہ صبح" شائع ہوئے۔
برج نرائن چکبست کی ایک نظم اور چند اشعار باذوق قارئین کے شوق مطالعہ کی نذر:


قوم کی لڑکیوں سے خطابِ پھول مالا

روش خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز
داغ تعلیم میں اپنی نہ لگانا ہرگز

نام رکھا ہے نمائش کا ترقی و رفارم
تم اس انداز کے دھوکے میں نہ آنا ہرگز

رنگ ہے جن میں مگر بوئے وفا کچھ بھی نہیں
ایسے پھولوں سے نہ گھر اپنا سجانا ہرگز

خود جو کرتے ہیں زمانہ کی روش کو بدنام
ساتھ دیتا نہیں ایسوں کا زمانہ ہرگز

پوجنے کے لیے مندر جو ہے آزادی کا
اس کو تفریح کا مرکز نہ بنانا ہرگز

اپنے بچوں کی خبر قوم کے مردوں کو نہیں
یہ ہیں معصوم انھیں بھول نہ جانا ہرگز

ان کی تعلیم کا مکتب ہے تمہارا زانو
پاس مردوں کے نہیں ان کا ٹھکانا ہرگز

کاغذی پھول ولایت کے دکھا کر ان کو
دیس کے باغ سے نفرت نہ دلانا ہرگز

نغمہء قوم کی لَے جس میں سما ہی نہ سکے
راگ ایسا کوئی ان کو نہ سکھانا ہرگز

گو بزرگوں میں تمہارے نہ ہو اِس وقت کا رنگ
ان ضعیفوں کو نہ ہنس ہنس کے رلانا ہرگز

ہم تمہیں بھول گئے اس کی سزا پاتے ہیں
تم ذرا اپنے تئیں بھول نہ جانا ہرگز

☆☆☆

اگر درد محبت سے نہ انسان آشنا ہوتا
نہ مرنے کا الم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

☆☆☆

ہمارے اور واعظوں کے مذہب میں فرق اگر ہے تو اس قدر ہے
کہیں گے ہم جس کو پاس انساں، وہ اس کو خوف خدا کہیں گے

☆☆☆
علم و کمال و ایماں برباد ہو رہے ہیں
عیش و طرب کے بندے غفلت میں سو رہے ہیں

☆☆☆

حب وطن سمائے آنکھوں میں نور ہو کر
سر میں خمار ہو کر دل میں سرور ہو کر

☆☆☆

عزیزان وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا
خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا

☆☆☆

درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

☆☆☆


فریاد قوم

ہے آج اور ہی کچھ صورت بیاں میری
تڑپ رہی ہے دہن میں مرے زباں میری
چھدیں گے قلب و جگر، تیر ہے فغاں میری
لہو کے رنگ میں ڈوبی ہے داستاں میری

مبالغہ نہیں تمہید شاعرانہ نہیں
غریب قوم کا ہے مرثیہ فسانہ نہیں
 
زیب النساء مخفی

زیب النساء مخفی ١٠٤٨ھ بمطابق ١٦٣٩ء کی پیدائش ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے معروف شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے ہاں ہوئی۔ والدہ کا نام دلرس بانو دختر شاہ نواز صفوی تھا۔

ابتدائی تعلیم و تربیت عنایت اللہ خاں کی والدہ حافظہ مریم سے حاصل کی اور انھیں سے قرآن پاک حفظ کیا۔ بعدازاں مولوی محمد سعید اشرف مازندرانی سے عربی و فارسی سیکھنے کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری پر بھی عبور حاصل کیا اور کم و بیش چودہ برس تک انھیں سے اصلاح لیتی رہی۔

زیب النساء نے نہایت آزادنہ و شاعرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے ١١١٣ھ بمطابق ١٧٠١ء کو باسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور دلی میں مدفون ہوئی۔

زیب النساء نہایت نیک دل، عابدہ و زاہدہ ہونے کے ساتھ ذہین اور بذلہ سنج بھی تھی۔ اس نے بہت سے شعرا اور ادیبوں کے لیے وظیفے مقرر کیے ہوئے تھے۔

قادر الکلام شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ حاضر جواب بھی تھی۔ فی البدیہہ گرہ لگانے میں مہارت رکھتی تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ خادمہ ایک کافی خوبصورت اور بڑا آئینہ لا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے آئینہ زمین پر گر کر پاش پاش ہو گیا اور خادمہ خوف سے کانپتی اور روتی ہوئی شہزادی کے پاس آئی تو
زیب النساء نے پوچھا:
کیا ہوا ہے رو کیوں رہی ہو؟
خادمہ نے اپنی خطا کی داستان کو ایک مصرع میں بند کرتے ہوئے یوں بیان کیا:


از قضا آیینه چینی شکست
(ستم ظریفی یہ ہے کہ چینی آئینہ ٹوٹ گیا)

زیب النساء نے خفا ہونے کے بجائے فوراََ ہنس کر جواب دیا:

خوب شد، اسباب خود بینی شکست
(اچھا ہوا، خود پسندی کا سامان ٹوت گیا)

یوں ہی کسی شخص نے زیب النساء کے سامنے یہ مصرعہ کہا:

دُر اَبلق کسے کم دیدہ موجود
(ابلق موتی کم ہی پایا جاتا ہے)

تو زیب النساء نے فورا جواب دیا:

مگر اشک بتانِ سرمه آلود
(محبوب کے سرخ آنسو کے سوا)

زیب النسا عرفی اور حافظ کے کلام کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور کلام میں زیادہ تر انھیں کا اتباع کرتی تھی۔

آہ خوش باشد کہ بینم بار دیگر روئے دوست
در سجود آیم بہ محراب خم ابروئے دوست

ما بلبل عشقیم ولے لب نہ کشادیم
سوزیم چوں پروانہ و بیتاب نہ گردیم

در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا

یاران بزم عشرت مخفی و کوئے محنت
با عاقبت چہ کارست درویش بے نوا را

لذت درد محبت راز بے درداں مپرس
قدر صحت را ندارد ہر کہ او بیمار نیست

صبح دم باد صبا می گفت با مرغ چمن
نالہ را تاثیر نبود گر دل افگار نیست

اے منور از مہ حسنت چراغ آفتاب
دے معطر از سر زلفت دماغ آفتاب

ز بسکہ غرق گناہم نمی توانم رفت
اگر بہ کعبہ دلالت کند خلیل مرا
سید عاطف علی سید عمران محمد عبدالرؤوف محمد وارث سیما علی
 

سیما علی

لائبریرین
بہت خوب یہ ہماری بہت پسندیدہ شخصیت ۔۔۔تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہم شہزادی زیب النساء اور مہر النساء ( ملکہ نورجہاں ) کے بہت بڑے فین ہیں ۔۔۔
اورنگ زیب کے زیر عتاب آنے کے باوجود اس عہد کے خواص کے دل میں شہزادی زیب النساء کے درجات جس قدر بلند تھے اس کا اندازہ ان القابات سے لگایا جاسکتا ہے جو محمد نقش بند ثانی نے اپنے خطوط میں لکھے ہیں۔ وہ اسے ’’صاحبۂ عالم… عالی تبارا… رفیع القدرا… عزیزۂ من… فاطمۂ زماں…‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ان چند خطوط میں زیب النساء بیگم بادشاہ زادی دختربادشاہ اورنگ زیب کے ان سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو اس نے دربیان مدحِ دردوغم دریافت کیے تھے۔

یہ ایک المناک بات ہے کہ ایرانی اس کی شاعری پر نازکرتے ہیں اور اسے فخرِ ایران قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح افغانیوں سے اس کا تذکرہ ہوتو وہ اسے رابعہ بلخی کے بعد دری کی سب سے بڑی شاعرہ کہتے ہیں، اس کا کلام سرپر رکھ کر پھرتے ہیں لیکن ہندوستان جہاں وہ پیدا ہوئی، جہاں وہ ’’پادشاہ بیگم‘‘ کہلائی‘ وہاں اس کے باپ کے عہد کے اکثر وقایع نگار اس کے شاعر ہونے سے ہی انکاری ہیں۔ وہ اس کی شاعرانہ محفلوں کا ذکرکرتے ہیں۔اس کی کنیز ارادت فہم کے ہاتھوں اس کی بیاض حوض میں گرجانے کا ذکر ہر تذکرے میں موجود ہے۔ اس کے کہے ہوئے فی البدیہہ اشعار بھی لکھ دیتے ہیں، لیکن اردو میں شایع ہونے والے تذکروں میں بہ اصرار اور بہ تکرار یہی لکھا ہے کہ:

’’عام طور پر مشہور ہے کہ وہ مخفی تخلص کرتی تھی اور دیوان مخفی جو چھپ کر شایع ہوا ہے، اسی کا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں۔ کسی تاریخ یا تذکرے میں اس کے تخلص یا دیوان کا ذکر نہیں۔ مولوی آزاد ’’یدبیضا‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ ایں دوبیت از نامِ اُو مسموع شدہ‘‘ پھر دو شعر نقل کیے ہیں۔ دیوان ہوتا تو صرف دو شعرکا ذکر کیوں کرتے۔‘‘ یوں اس بادشاہ زادی کی شاعری کا کام تمام کیا گیا اورکیوں نہ کیا جاتا کہ اورنگ زیب ایسے متشرع اور متدین بادشاہ کی بیٹی کے اس ’’گناہ‘‘ پر اسی طرح پردہ ڈالا جاسکتا تھا۔

سلیم گڑھ کے زنداں میں زیب النساء کی زندگی کے بیس برس گزارے اوروہ کبھی اپنے باپ سے معافی کی طلبگار نہیں ہوئی اور نہ اس سے کسی طرح کی مہربانی کی درخواست کی۔ 1702میں جب وہ دنیا سے رخصت ہوئی تو متشرع اور متدین شہنشاہ کو اطلاع بھیجی گئی تب اسے یاد آیا کہ اس کی ایک بیٹی بھی تھی جو 63 برس کی ہوچکی تھی اور جس کی نظر بندی پر 20 برس گزر چکے تھے۔ اس نے زیب النساء کے لیے دعائے مغفرت کی‘ اس کے نام پر خیرات کا حکم ہوا۔ اینی کری نیکی فرانسیسی مستشرق خاتون نے لکھا ہے کہ شاعروں نے اس کا مرثیہ نہیں لکھا، وہ جانتے تھے کہ شہنشاہ کے قیدیوں کی موت پر مرثیہ لکھنا جرم ہے۔ ۔۔۔۔افسوس صد افسوس
 

سیما علی

لائبریرین
زیب النسا عرفی اور حافظ کے کلام کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور کلام میں زیادہ تر انھیں کا اتباع کرتی تھی۔
اورنگزیب نے اپنی بیٹی زیب النساء کی تعلیم ایک ممتاز شیعہ فاضل ملا محمد سعید اشرف ماژندرانی کے سپرد کر رکھی تھی۔ ملا محمد سعید، ملا محمد تقی مجلسی اصفہانی کے نواسے تھے۔ شیعہ علماء کی مستند تاریخ نجوم السماء میں ان کا اپنا ایک الگ تذکرہ موجود ہے۔ شہزادی زیب النساء کی بارگاہ میں اس ایرانی استاد کو جو خصوصیت حاصل تھی اس کا اظہار اس قصیدے سے ہوتا ہے۔ جو ایران واپس جاتے وقت اس نے شہزادی سے رخصت لینے کے لئے کہا۔

یکبار از وطن نتواں بر گرفت دل
در غربتم اگرچہ فزوں است اعتبار

پیش تو قرب و بعد تفاوت نمی کند
گو خدمت حضور نباشد مرا شعار


نسبت بہ باطن است چہ دلی چہ اصفہان
دل پیش تست تن چہ بہ کابل چہ قندھار

اپنے وطن میں قیام کے بعد یہ استاد واپس ہندوستان آئے لیکن اس وقت اورنگزیب کی وفات ہو چکی تھی۔ لیکن ان کے پوتے نے ان کی بہت ہی قدر کی بالآخر مونگیر میں فوت ہوئے۔ (رود کوثر )
 
اورنگزیب نے اپنی بیٹی زیب النساء کی تعلیم ایک ممتاز شیعہ فاضل ملا محمد سعید اشرف ماژندرانی کے سپرد کر رکھی تھی۔ ملا محمد سعید، ملا محمد تقی مجلسی اصفہانی کے نواسے تھے۔ شیعہ علماء کی مستند تاریخ نجوم السماء میں ان کا اپنا ایک الگ تذکرہ موجود ہے۔ شہزادی زیب النساء کی بارگاہ میں اس ایرانی استاد کو جو خصوصیت حاصل تھی اس کا اظہار اس قصیدے سے ہوتا ہے۔ جو ایران واپس جاتے وقت اس نے شہزادی سے رخصت لینے کے لئے کہا۔

یکبار از وطن نتواں بر گرفت دل
در غربتم اگرچہ فزوں است اعتبار

پیش تو قرب و بعد تفاوت نمی کند
گو خدمت حضور نباشد مرا شعار


نسبت بہ باطن است چہ دلی چہ اصفہان
دل پیش تست تن چہ بہ کابل چہ قندھار

اپنے وطن میں قیام کے بعد یہ استاد واپس ہندوستان آئے لیکن اس وقت اورنگزیب کی وفات ہو چکی تھی۔ لیکن ان کے پوتے نے ان کی بہت ہی قدر کی بالآخر مونگیر میں فوت ہوئے۔ (رود کوثر )
بالکل بجا شہزادی اجازت نہیں تھی دے رہی تو ملا محمد سعید اشرف صاحب نے انھیں اپنے کہے قصیدے کے تین اشعار لکھ کر بھیجے تو شہزادی نے انھیں انعام و اکرام سے نوازا اور وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔
 
Top