تخلیق کا اوج بہت مقدس ہے

طاھر جاوید

محفلین
حاصل کی دھوپ کے بس دو چار تنکے
بدن مین پھیلی بے ماری کےسُرمئی ہیجان کی مسلسل کپکپی کو
دور کرنے پہ
بھلہ کس طرح قادر ہوں گے

تاریکی کے ظلم کی بےحد تیز ہوتی ہواوں میں
اماں کی خود رو جھاڑیوں کے درمیاں
ذرا سی شفا کا نشیمن بنا بھی
تو دیکھنا
بہت بے اماں ہوگا

میں جانتا ہوں کہ
تخلیق کا اوج بہت مقدس ہے
سمندرِ بے حدِ تخیل بےشک سامنے بھی ہو تو
مگر جب تک
سوچ کی آنکھ کے سفینے کا بادباں لِپٹا رہے گا
سفر مُختصر نہیں ہو گا
عام اِفرادوں کے خوابوں میں بسی بے خوابی کے رنگ
صِرف بے صرف سائیوں کی مانند
پُرانی ہوتی جُتجُووں کے حاصل نہ حاصل کی مانند
اک پھیکی ہنسی کی اُوڑھ میں
کب تلک اِدہر سے اُدہر لہراتے پہریں گے
کب تک تخلیق کے اُوج سے کتراتے پھریں گے

سمُندرِ تخلیقِ بے شک کے اسرار کی بے اندازہ وُسعتوںمیں اگر
عمل کے صدف میں
اِک حرف کے وِرد کی روشنی کی پرورش ہوئی تو ۔۔ دیکھنا
تخلیق کے اوج کے اسرار کی
اِنہی بے کراں وُسعتوں میں
نُورِ حاصل کے حُسنِ خوابیدہ کے پہلو بدلنے کی سرسراہٹ
گُذرتے ہوئے ہر لمحے میں
اور زیادہ بے اختیار ہوتی۔۔
حیرانیوں کے چاند کی دف پہ
اُس حرف کے ورِد کی تال پہ
مدہوش ۔رقص کرتی ملے گی
اور۔۔۔۔
بوجھے ہوئے اُس حرف کے فہم کا
خود پہ دم کرتے ہوئے
بے ماروں کی بےماری کی شفا کی دُعا میں مصروف رہے گی
اِس ظلمت کدے میں پھیلی تاریکی کی ناہنجاری سےلڑے گی
 
Top