تخت باہی: دو ہزار سال پرانی بدھ مت تہذیب کا امین

عرفان سعید نے 'اپنا اپنا دیس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 6, 2020

  1. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    عزیز اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تخت باہی
    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹKP GOVERNMENT
    اگر آپ تقریباً دو ہزار سال پہلے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن اور اس وقت کے گاؤں اور ان کے آثار دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ مردان کے قریب تخت باہی کا ضرور دورہ کریں جہاں کے آثار قدیمہ آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیں گے۔ یقین نہ آئے تو آزما لیجیے۔

    یہاں آپ کو نہ صرف تخت باہی کے آثار قدیمہ بلکہ آس پاس 13 سے 14 ایسے قدیم مقامات دیکھنے کو ملیں گے جن کا تعلق بدھ مت اور اشوک بادشاہ کے دور سے ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بدھا کے مجسمے اور تاریخی سلیپنگ سٹوپا بھی شامل ہیں۔

    آثار قدیمہ کے یہ مقامات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں قائم ہوئے تھے اوربدھ مت تہذیب کے اہم مراکز رہے ہیں۔

    تخت باہی
    [​IMG]
    اگر آپ اسلام آباد سے پشاور کی جانب آ رہے ہیں اور یا پشاور سے اسلام آباد کی جانب موٹر وے پر جا رہے ہیں تو مردان انٹرچینج پر مردان کی جانب چلے جائیں۔

    مردان سے کوئی 20 سے 25 منٹ کی مسافت پر سوات کی جانب تخت باہی کا علاقہ ہے۔ شہر سے چند کلومیٹر دور دائیں جانب آپ کو آثار قدیمہ کی جانب جانے والے راستے کا بورڈ بھی نظر آئے گا۔

    [​IMG]
    تخت باہی
    اس موڑ پر ہی آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ شاید اس تاریخی دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں زرد رنگ کے لمبے لباس پہنے راہب ہر جگہ موجود ہیں۔

    گاڑی سے اترنے کے بعد کچھ فاصلہ آپ کو پیدل چلنا پڑے گا اور یہاں سیڑھیوں کی مدد سے آپ شہر سے پانچ سو فٹ بلند مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں بدھ مت تہذیب کے وہ آثار دیکھ پائیں گے جس کے لیے چین، جاپان، تھائی لینڈ، کوریا اوردیگر ممالک میں رہنے والے بدھ مت کو ماننے والے لوگ ترستے ہیں۔

    یہ کھنڈرات برطانوی دور میں 1836 میں دریافت ہوئے تھے اور 1852 میں کھدائی شروع کی گئی تھی۔ یو نیسکو نے 1980 میں ان آثار قدیمہ کو بین الاقوامی ورثہ قرار دیا تھا۔

    [​IMG]
    ان کھنڈرات میں راہبوں کے مسکن اور درس گاہوں سے لگتا ہے کہ یہاں علم کے فروغ کے لیے بڑا کام ہوتا تھا۔

    یہاں راہبوں کے اسمبلی ہال جہاں عبادت کی جاتی تھی اس کے علاوہ یہاں طالب علموں کے لیے درس کی جگہیں موجود ہیں۔

    یہ ایک طرح کا کمپلیکس تھا اور یہاں مسافر اور وہ لوگ جو اپنی منتیں مانتے تھے، یہاں آ کر رکتے اور وہ اپنے طور پر یہاں ایک سٹوپا بنا کر جاتے تھے۔

    بنیادی طور پر یہ عبادت کا مقام تھا لیکن اس میں ایسے سٹرکچر بھی ملے ہیں جس میں سیکیولر مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    پشاور میں محکمہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فواد خان نے بتایا کہ ایک طرف یا ایک حصہ تو مذہبی رسومات اور تعلیمات کے لیےاستعمال ہوتا تھا اور ایسی جگہیں تھیں کہ جہاں مذہب کے علاوہ دیگر سرگرمیاں ہوتی تھیں۔

    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹKP GOVERNMENT
    یہاں عبادت گاہوں کےعلاوہ بدھا کے مجسمے وسیع صحن، جلسہ گاہیں ماضی کے رہن سہن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بدھ مت تہذیب کے یہ کھنڈرات سب سے بہتر حالت میں موجود ہیں۔ کچھ عرصے سے کوریا جاپان تھائی لینڈ، سری لنکا، تھائی لینڈ سے بدھ راھب یہاں آنا شروع ہوئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق تخت باہی کے یہ آثار قدیمہ بدھ مت کے بارے میں مفصل معلوم فراہم کرتے ہیں۔

    پشاور میں محکمہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فواد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقام سے پارتھین بادشاہ کے کچھ ایسے نسخے ملے ہیں جس سے اس مقام کے دور کی نشاندہی ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ماہرین کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ ماضی میں جب اس علاقے میں گندھارا تہذیب عروج پر تھی تو تخت باہی کا یہ مقام بدھ مت کی تعلیم کا اہم مرکز تھا اور یہ کوئی پانچ سے چھ سو سال تک یہاں بدھ مت کا دور رہا ہے۔

    [​IMG]
    ان آثار قدیمہ کو دیکھیں تو یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارتیں مذہبی رسوم اور تعلیم کے لیے تمام تر ضروریات فراہم کرتی تھیں۔ یہاں پہاڑ کی چوٹی تک پانی کی فراہمی کا موثر نظام تھا اور تعمیراتی سٹریکچر ہوادار تھا۔

    ان عمارتوں میں روشن دان بنائے گئے تھے جبکہ روشنی کے لیے دیواروں میں ایسے طاق رکھے گئے تھے جہاں تیل کے دیے رکھے جاتے تھے۔

    اگر آپ پشاور یا اسلام آباد سے صبح سات بجے بھی روانہ ہوں تو ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں آپ تخت باہی پہنچ سکتے ہیں لیکن آپ جب ان تاریخی مقامی پر پہنچیں گے تو شاید آپ کو وقت کے گزرنے کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اتنا وقت کتنی جلدی گزر گیا ہے۔

    [​IMG]
    چپلی کباب
    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹFACEBOOK
    بہرحال یہ سب آثار تو آپ کے ذہنوں پر اپنے نقش قائم کر چکے ہوں گے اور دوپہر کا وقت بھی شاید ہو چکا ہوگا لہذا آپ تخت باہی آئیں اور یہاں کے چپلی کباب نہ کھائیں تو یہ ناانصافی ہوگی۔

    تخت باہی میں چند ایک ہوٹل پر انتہائی معیاری اور لذیذ چپلی کباب ملتے ہیں اور اگر آپ انھیں کہیں کہ ان کبابوں کے ساتھ نلی بھی ڈال دیں تو یقین مانیں جو ذائقہ آپ کو ملے گا اس سے آپ کے اس دورے کا آدھا خرچہ تو یہیں وصول ہو جائے گا بشرطیکہ آپ اچھے کھانے کے شوقین ہیں۔

    یہاں آپ کو دیگر کھانے جیسے مٹن تکہ اور کڑاہی کے علاوہ بہترین باربی کیو بھی ملے گا لیکن جو بات یہاں کے چپلی کباب میں ہے وہ کسی اور کھانے میں نہیں ہے۔

    قہوہ
    چپلی کباب کھانے کے بعد آپ ایک بڑی چینک قہوے کی منگوائیں اور دو سے تین پیالیاں ایک بندہ پی لے تو یقین مانیے چند لمحوں میں جو کچھ آپ نے کھایا ہوگا سب کچھ ہضم ہو جائے گا۔

    اس طرح کے چپلی کباب اور قہوہ آپ کو پشاور اور اس کے قریب چند ایک علاقوں کے علاوہ اور کہیں نہیں ملے گا۔

    سری بہلول
    [​IMG]
    ماہرین کے مطابق تخت باہی کے اس مقام کے چند کلومیٹر کے احاطے میں 13 سے 14 ایسے تاریخی آثار قدیمہ ہیں ان میں تخت بھاہی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سائٹ دریافت ہوئی تھی جسے ’سری بہلول‘ کہا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ تیریلی، حسی طورئی اور کشمیرمست ایک برہم غار ہے اور ہندو ازم کے دور کی ہیں اور یہاں برطانوی دور میں دریافت ہوئی تھی۔

    جمال گڑھی
    تخت باہی سے کوئی پندرہ سے بیس منٹ کی مسافت پر جمال گڑھی کے آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ آثار بھی لگ بھگ اتنے ہیں قدیم ہیں جتنے تخت باہی کے آثار قدیمہ ہیں۔

    فواد خان کے مطابق جمال گڑھی سے ملنے والے مجسمے گول یا راؤنڈ ہیں جبکہ تخت باہی اور دیگر مقامات سے ملنے والے مجسمے چورس ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ عام طور پر ایسا کہا جاتا ہے کہ گول یا راؤنڈ مجسمے اشوک بادشاہ کے دور کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہندو ازم سے تعلق رکھتے تھے۔

    مردان کا عجائب گھر
    [​IMG]
    تصویر کے کاپی رائٹFACEBOOK
    اگرچہ یہاں بڑی تعداد میں آثار قدیمہ کے مقامات ہیں لیکن ایک دن میں آپ یہ تین چار مقامات ہی دیکھ سکھتے ہیں اور واپسی پر اگر آپ کے پاس وقت ہو تو آپ مردان میوزیم بھی جا سکتے ہیں۔

    یہاں موجود نوادرات تین مختلف حصوں میں تقسیم کیے گئے ہیں جن میں گندھارا گیلری، اسلامک گیلری اور ایتھنالوجیکل یعنی کلچرل گیلری میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

    یہ عمارت 2008 میں تعمیر کی گئی تھی اور اس میں نایاب نوادرات رکھی گئی ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 3

اس صفحے کی تشہیر