تحریکِ انصاف حکومت: منشور اور وعدے

یاز نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 26, 2018

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,090
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,928
    اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں جایا جائے تو ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدن ستر ہزار برآمد کر لی جائے گی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اوسط تیس ہزار روپوں سے شاید ہی اوپر جاتی ہو۔ تین لاکھ روپے سالانہ ایوریج نکلتی ہو گی تاہم یہ محض ایک اندازہ ہے۔
     
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,928
    محترم فرخ سلیم صاحب یہ بنیادی نکتہ بھی فراموش کر بیٹھے ہیں کہ گھر تو کم آمدن رکھنے والے اور متوسط طبقے کے لیے بنائے جائیں گے تو اس نسبت سے زائد آمدن رکھنے والوں کو اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اس حساب سے پالیسی تشکیل دینی چاہیے تھی۔ ایک عام گھرانہ ایک ماہ کے پانچ ہزار روپے بچا لے تو اسے بہت بڑی بات تصور کیا جاتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    صحیح فرمایا۔ فی الحال تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسی بالکل واضح نہیں ہے۔ کبھی ڈیم بنانا ہے تو کبھی گھر تو کبھی بیت الخلا۔ خزانہ دیکھو تو منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ یا اللہ اس ملک کا کیا بنے گا۔
     
  7. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    9,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    محترم فرخ سلیم کا کُرسی کی خاطر سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے یہ کہانی پھیلائی تھی۔


    Cost: The government of Punjab is spending Rs162 billion for the transportation of 250,000 residents of Lahore. Question: How much is Rs162 billion? Answer: Rs162 billion for 250,000 passengers amounts to Rs650,000 per passenger. For the record, Mehran VX sells for Rs630,000 and, in effect, the government of Punjab could have bought a Mehran VX for each and every passenger.



     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,483
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہاولپور میں کچی آبادیاں گرائی جا رہی ہیں۔ ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ٹبہ بدر شیر اور موسیٰ کالونی بھی اسی زد میں۔
    ایک مکان بنانا پوری ایک زندگی کھا جاتا ہے۔ یہ کوئی کسی غریب سے پوچھے کہ مکان کیسے بنتا ہے۔
    لوگ رو رہے ہیں۔ لوگ سخت پریشان ہیں اور دباؤ کا شکار ہیں۔ میں بتا نہیں سکتی کہ لوگ سڑک پہ بیٹھے کیسے رو رہے ہیں۔
    اس کا کوئی حل پہلے نکالنا چاہیے تھا۔ جن قبضہ مافیا نے ان غریب لوگوں کو زمین بیچی وہ تو ظاہر ہے کہ بچ گئے، رگڑا گیا عام غریب آدمی۔ اب اُس کا مکان بھی گیا اور پلاٹ بھی۔ وہ سڑک پہ بیٹھا ہے اپنے گھر والوں سمیت۔ جھونپڑی بنانے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ پیسہ چاہیے۔
    انتہائی بھیانک صورتحال ہے۔
    کل تک بڑی مشکل سے ایک لاکھ میں ایک چھوٹا سا کمرہ اور چند میٹر چار دیواری بنتی تھی۔ اب اینٹیں اس قدر مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب بندہ مکان بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور جو کم آمدن والوں کے لیے گھر بنانے کے منصوبے ہیں، تو جو حالات ہیں، انھیں دیکھتے ہوئے مجھے یہ خدشہ ہے(خدا کرے کہ میرا خدشہ باطل ثابت ہو۔ آمین!) کہ یہ گھر ہم تم نے ہی لے لینے ہیں، غریب آدمی کل بھی سڑک پہ ہی ہوگا۔
    اینٹوں کے بھٹے پہ کام کرنے والے الگ بہت پریشان ہیں۔ ان کی روزی مکمل ختم ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان حالات میں ہم ان کے لیے کیا کریں۔
     
    • غمناک غمناک × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,090
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک لطیفہ کچھ کچھ یاد آ گیا۔
    دو بستیوں کے درمیان ایک ندی گزرتی تھا، اس میں راستہ ڈھونڈنے کے لیے ایک صاحب کو گہرائی ناپنے کا کہا گیا۔
    انھوں نے مختلف جگہ سے گہرائی ناپی، تو وہ بالترتیب، 1،3،5،7،8،5،2،1 فٹ تھی۔ انھوں نے اوسط نکالی اور بتایا کہ 4 فٹ گہری ہے۔ نتیجہ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    اسوقت ڈالر ریٹ کم تھا۔ اب اورنج ٹرین 200 بلین روپے سے زیادہ مہنگا ہو گیا ہے :)
     
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    پورے معاشی نظام کی سرجری ہونے والی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے سی پیک، آئی ایم ایف، اور دیگر مالیاتی اداروں کے نام پر جو قرضے چڑھا کر قوم سے ظلم کیا ہے۔ اس کو ٹھیک کرتے کچھ عرصہ لگے گا۔
    باقی یہ غربا کے گھروں کو گرانے والی بات درست ہے۔ پہلے حکومت کو انہیں نئے سرکاری گھروں میں بطور متبادل ڈالنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد تجاوزات گراتے۔ یہ اُلٹا کام کر رہے ہیں جس کا سخت رد عمل آئے گا۔
     
  12. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
  13. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,483
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    غریب بندہ جسے دیہاڑی کی پڑی ہوتی ہے، وہ کیا سخت ردِ عمل دے گا حضورِ والا! یہ لوگ تو ڈاکٹر کو فیس دے کے بھی ڈانٹ سُن کے خاموشی سے آجاتے ہیں۔ جن لوگوں کے ردِ عمل کا ڈر تھا، ابھی انھیں کچھ نہیں کہا گیا۔
    ڈرے ہوئے لوگ۔
     
    • متفق متفق × 2
  14. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,928
    جی ہاں! ابھی تو محض آغاز ہوا ہے۔ آگے آگے دیکھیے!
     
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    نئی حکومت آتے ساتھ ملک کی 71 سالہ مقدس گائے کو نہیں چھیڑ سکتی۔ پہلے سول اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پھر ان پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    اصل میں سابقہ حکومت کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے نام پر چین نے جو ایشیا میں اُدھم مچایا تھا۔ اس کی کلی کھلنا شروع ہو گئی ہے۔ چین نے شروع شروع میں یہی کام افریقہ کے چند پسماندہ ممالک کے ساتھ کیا تھا۔ جب مغرب نے اس بدمعاشی پر ایکشن نہیں لیا تو اسے بڑے پیمانہ پر ایشیا میں شروع کر دیا۔
    چینی بدمعاشی کچھ یوں ہے کہ وہ ہرسال اربوں ڈالرز کے قرضے تعمیراتی پراجیکٹس کے نام پر پسماندہ ممالک کو فراہم کرتا ہے۔ ان پراجیکٹس کو تعمیر کرنے کے ٹینڈرقرض شرائط کے تحت چینی کمپنیوں کو جاتے ہیں۔ یوں یہ مہنگے قرضے براستہ چینی کمپنیز واپس چینی خزانے میں منتقل ہو تے ہیں۔ اور جو بیچارے غریب ملک قرضے لیتے ہیں وہ ان کی عدم ادائیگی کے جال میں بری طرح پھنستے جاتے ہیں۔ بالآخر اس میں سے نکلنے کیلئے ان پسماندہ ممالک کے پاس دو ہی حل بچتے ہیں
    • قرضوں پر ڈیفالٹ کر دیا جائے جس کا نتیجہ مزید قرضے نہیں ملیں گے
    • ملکی املاک اور اثاثے چینیوں کے حوالے کر دئے جائیں
    2017 میں ہمسایہ ملک سری لنکا چینی قرضوں کی تاب نہ لا کر اپنی ایک بندرگاہ 99 سال کیلئے چین کے حوالہ کر چکا ہے۔
    مستقبل میں اگر پاکستان بھی خدانخواستہ چینی قرضوں پر دیوالیہ پن کا شکار ہوا تو مجبورا گوادر اور اس جیسے دیگر قیمتی اثاثے چینیوں کے حوالے کرنا پڑیں گے۔ بھارت اور مغرب چیختا رہ گیا کہ ان چینی چکرومیں نہ پڑو۔ مگر ہمارے سابقہ تجربہ کار حکمرانوں کے سروں پر ہمالیہ سے اونچی چین دوستی سوار تھی۔ اب نئی حکومت کو ان کے کارنامے بھگتنے پڑ رہے ہیں۔
    ذیل میں دیکھیں چینی سرمایہ کاری کے چند نمونے جو صرف اور صرف چینیوں کی فلاح کیلئے ہیں۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 13, 2018
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    اصل حساب نہیں پتا البتہ ہر وہ تعمیراتی پراجیکٹ جو بیرونی فنڈنگ سے لگا ہے کی راتوں رات لاگت روپیہ گرنے سے انتہا پر چلی گئی ہے۔
     
  18. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,928
    چین نے سرمایہ کاری نہ کی ہوتی تو آج آپ کو شاید آئی ایم ایف بھی قرض نہ دیتا۔ سی پیک صرف اقتصادی منصوبہ نہیں ہے، مغربی ممالک پر دباؤ بڑھانے کی ایک تدبیر بھی ہے۔ اگر موجودہ حکومت سی پیک سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو متبادل معاشی پلان سامنے لایا جائے۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,446
    آئی ایم ایف نے بھی کچی گولیوں نہیں کھیلیں۔ قرض دینے کی پہلی شرط ہی یہی رکھی ہے کہ پاکستان اور چین نے سی پیک سے متعلق جو معاہدے کر رکھے ہیں۔ ان کی تفصیلات دنیا کو بتائیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان یہ تفصیلات آئی ایم ایف کے حوالہ کرنے سے معذرت کر چکا ہے۔
    یعنی اب تحریک انصاف حکومت دونوں اطراف سے بری طرح پھنس گئی ہے۔ اگر تفصیلات دیتے ہیں تو سی پیک خطرے میں۔ اگر نہیں دیتے تو آئی ایم ایف کا پیکیج خطرے میں ۔ اک واری فیر شیر! :)
     
  20. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,928
    پاکستان کی عوام خان صاحب کو سی پیک کے ساتھ کسی کھلواڑ کی اجازت شاید نہ دے گی کیونکہ اب یہ منصوبہ مختلف سیاسی جماعتوں کے بیانیے اور کافی حدتک قومی بیانیے کا بھی ایک جزو بن چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ شاید یہ ممکن ہے کہ چین کے ساتھ سی پیک کے معاہدوں کے حوالے سے نظرثانی کر لی جائے اور اس معاہدے کو پاکستان کے حق میں مزید بہتر بنا لیا جائے۔ آئی ایم ایف بھی شاید پاکستان کو قرض دینے کی طرف ہی جائے گا۔ ابھی تو مذاکرات کا ڈول ہی ڈالا گیا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر