بے باک نِگاہوں میں کیا بات نِہاں دیکھی

السلام علیکم

پیشِ خدمت ہے خاکسار کا کلام، عِشق گزیدہ قُلوب کی خدمت میں بطورِ خاص،


بے باک نِگاہوں میں کیا بات نِہاں دیکھی
پُر شَوق اَداؤں میں اِک آگ نِہاں دیکھی

جو شَوق کی جُرأت نے تھی شَرم سِی چَھلکائی
اَب تَک تِرے عارِض پَر ہَم نے ہے عَیاں دیکھی

مَوسم کی شَرارت پَر اِس یاد کے گُلشن میں
کُھلتی ہوئی زُلفوں کی اِک یاد نِہاں دیکھی

سَرشاری کا ہے ضَامِن یہ رَنگ بَہاروں کا
ہَم نے تو مَگر اِس سے بہتر ہے خِزاں دیکھی

اُلفت کے فسانوں میں جو کہہ نہ سکے ہم تم
ماضی کی تَمنّا وہ اَب تک ہے جَواں دیکھی

کیوں اَپنی وَفاؤں پَر دِل ہوتا ہے اَفسُردہ؟
جب اُن کی جَفا دیکھو، اَیسی ہے کَہاں دیکھی؟

مُڑ کر جو اگر دیکھیں، پَتھّر کے نہ ہو جائیں
ایسی تھی کَہانی اِک، تُم نے ہے بُتاں، دیکھی

ہَر رنگِ چَمن اِس میں، ہَر گنجِ کُہن اِس میں
ہے لُطفِ سُخن جِس میں، بس اُردو زَباں دیکھی


کلامِ ذکی انور ہمدانی
میلبورن، آسٹریلیا
مورخہ ۴ نومبر ۲۰۲۲
 
Top