بینکوں سے پچاس ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس

arifkarim

معطل
ٹیکس سسٹم ہے تو بگڑا ہوا ہی۔
جن پر ٹیکس بنتا ہے وہ دیتے نہیں ہیں۔ اور جن کا مہینہ مشکل سے گزرتا ہے وہ ہر چیز پر دے رہے ہوتے ہیں۔
اس حکومت کا ویسے کونسا سسٹم صحیح ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی تو پاکستانی، بیرون ممالک میں مقیم لوگوں کو بھی عاجز کر رکھا ہے انکے ’’تجربہ کار‘‘ سسٹمز نے۔2013 میں نیشنیلٹی کینسل کرنے کیلئے دی تھی جو زرداری کے دور میں 6 ماہ سے لیکر 1 سال کے اندر اندر کینسل ہو کر آجاتی تھی۔ الحمدللہ نادرا نے ہماری نیشنیلٹی امسال 2016 میں جا کر کینسل کی۔ سفارتخانے کے مطابق اگر ہم بار بار سفارشی ریمائنڈر نہ بھیجتے تو آئندہ صدی تک بھی آپ کی نیشنیلٹی کینسل نہیں ہونی تھی۔ :D

ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس امراء اشرافیہ سے لیا جاتا ہے۔ اب چونکہ سیاست دان خود اسی کلاس سے ہیں، اسلئے میٹروٹرین اور موٹروے وغیرہ فائی ننس کرنے کا حکومت نے یہ حل نکالا ہے کہ عوام سے ان ڈائرکٹ ٹیکس وصول کر لو۔ یوں جو پہلے ہی بہت امیر ہے اسکو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، البتہ غریب اور متوسط طبقہ بے جا ٹیکسوں اور مہنگائی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
 

یاز

محفلین
ایکٹو ٹیکس پےئرز پر یہ ٹیکس نہیں لگتا غالباً

تاجروں کو چاہئےکہ ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں۔
پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ :)

میری اطلاعات اور ذاتی تجربے کے مطابق بھی ایکٹو ٹیکس پیئر کی ٹرانزیکشن پہ کوئی کٹوتی نہیں ہوتی۔
 

یاز

محفلین
یہ تو تاجروں کی بات ہوگئی۔ ممکن ہے کہ وہ اس ٹرانزیکشن سے کچھ کمائیں سو ٹیکس دیتے بھی اچھے لگیں۔

لیکن ہم ایسے تنخواہ دار لوگوں (جن کی تنخواہ ہی انکم ٹیکس کی کٹوتی کے بعد ملتی ہے اور اُنہیں آگے بھی خریداری اور دیگر معاملات میں سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ، ایف ای ڈی اور نہ جانے کون کون سے ٹیکس دینا ہوتے ہیں) پر اس قسم کا ٹیکس عائد کردینا میرے خیال میں نا انصافی ہے۔
بھائی تنخواہ دار طبقے کا کام تو مزید آسان ہے۔ یعنی کہ ان کے پاس تو ٹیکس نہ دینے یا آمدنی چھپانے کا آپشن ہی نہیں ہے۔ اس لئے جلدی سے ٹیکس ریٹرن بھریں اور ایکٹو ٹیکس پیئر بن جائیں۔
میں خود کو اور بہت سے دوستوں اور عزیز و اقارب کو بھی ایکٹو ٹیکس پیئر بنوا چکا ہوں۔
اگر اس سلسلے میں رہنمائی درکار ہو تو یہاں ایک الگ لڑی بنا کے ٹیکس ریٹرن بھرنے میں اجتماعی دانش سے کام لیا جا سکتا ہے۔
 
Top