بیت بازی

بہار آئی دکھائی قادرِ مطلق کی شان اس نے
زمیں کی تہ میں جو مردے تھے ڈالی ان میں جاں اس نے
نا وہ سمجھتی ہے مجھے نا پہچانتی ہے
میرے سامنے گھر کی کھڑکی سے جھانکتی ہے
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
یہ بھی انداز ہمارے ہیں تمھیں کیا معلوم
ہم نمہیں جیت کے ہارے ہیں تمھیں کیا معلوم
 

سیما علی

لائبریرین
نا وہ سمجھتی ہے مجھے نا پہچانتی ہے
میرے سامنے گھر کی کھڑکی سے جھانکتی ہے

یہ بھی انداز ہمارے ہیں تمھیں کیا معلوم
ہم نمہیں جیت کے ہارے ہیں تمھیں کیا معلوم
میری فریاد بھی سننے کی نہیں تاب جسے
ایسے بے درد سے الفت ہے خدا خیر کرے

ی سے شعر
 
Top