بھڑک اُٹھا ہے دل مرا نکل رہی بھڑاس ہے

وزن بحر اور خیال کی پختگی

  • 2

    Votes: 0 0.0%
  • 2

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    0

ابن رضا

لائبریرین
محترم اساتذه كرام الف عین یعقوب آسی فاتح محمدوارث
و دیگر کی توجه دركار هے از راہِ کرم تنقید و اصلاح سے نوازیں
بحر ہزج مثمن مقبوض(مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن)

بھڑک اُٹھا ہے دل مرا نکل رہی بھڑاس ہے
جلا کے راکھ کر نہ دے یہ جو بھی آس پاس ہے

بساطِ جاں لپیٹ دی یوں عشق کے وبال نے
کہ جیت ہے نہ ہارہے ، نہ آس ہے نہ یا س ہے

نہ تَشنگی اُجاڑ دے ہنسا بسا چمن مِرا
خدایا معجزہ دکھا کہ دل بہت اداس ہے

بَجوگی کے نصیب کی نَوِشت تھی خزاں صدا
بہار پہ جو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے

اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
ہے زیرِ لب کہے یہ وہ مِرا یہی قیاس ہے

سکونِ دل گیامِرا متائے جاں بھی لُٹ گئی
کرے فنا خُدا اِسے یہ عشق اصل ناس ہے

جو باب وا ہے روبرو ہے آفریں ہی آفریں
نگر نگر پھرے مگر خوشی ہمیں نہ راس ہے

سوال ہی تو زندگی میں ہر جگہ کھڑے ملے
نظر نظربھٹک رہی جواب کی پیاس ہے

ہے پوچھتا کوئی اُسے کہ کون ہے ر َضا ترا
کہے ہے کوئی سر پھرا کہ عام ہے نہ خاص ہے
 
آخری تدوین:
بظاہر تمام غزل وزن میں ہے حضور۔ البتہ فنی اغلاط ہیں کچھ جن کی نشاندہی اساتذہ فرمائیں گے۔ ہم یہاں یہ واضح کر دیں کہ بحر کا نام ہے: ہزج مثمن مقبوض
 

ابن رضا

لائبریرین
رصا صاحب آداب.آپ نے جس ٹیگ خانے میں اساتذه كا نام لکھا ھے.اس سے اساتذه تك كوئی اطلاع نھیں پھنچتا. کسی کو ٹیگ کرنے کیلئے @ لکھ کر اس شخص کا نام لکھیں..اساتذه كرام الف عین محمد یعقوب آسی مزمل شیخ بسمل کی توجه دركار هے
جی شکریہ جناب
 

ابن رضا

لائبریرین

الف عین

لائبریرین
دھڑک اُٹھا ہے دل مرا نکل رہی بھڑاس ہے
جلا کے راکھ کر نہ دے یہ جو بھی آس پاس ہے
//یہ ہندی نما الفاظ کی نشست کم از کم مجھے پسند نہیں آتی۔ یہاں ردیف کی مجبوری سہی، لیکن کوشش کریں کہ بدل جائے۔

بساطِ جاں لپیٹ دی یوں عشق کے وبال نے
کہ جیت ہے نہ ہارہے ، نہ آس ہے نہ یا س ہے
//یوں‘ اچھا نہیں لگ رہا، اس کی بجائے ’ہے‘ ہی کر دو۔ عشاق کا وبال؟ وبال کی جگہ کچھ بہتر لفظ لایا جاسکتا ہے۔

نہ تَشنگی اُجاڑ دے ہنسا بسا چمن مِرا
خدایا معجزہ دکھا کہ دل بہت اداس ہے

بَجوگی کے نصیب کی نَوِشت تھی خزاں صدا
بہار پہ جو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے
//بجوگی‘سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر یہ ہندی لفظ ’جوگی‘ ہے تو بجوگی سے مطلب؟
پہ کی بجائے یہاں تو ’پر‘ ہی آ سکتا ہے، پھر پہ کیوں؟

اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
ہے زیرِ لب کہے یہ وہ مِرا یہی قیاس ہے
//دوسرے مصرع رواں نہیں۔
وہ زیر لب یہ کہہ رہا ہے، یہ مرا قیاس ہے

سکونِ دل گیامِرا متائے جاں بھی لُٹ گئی
کرے فنا خُدا اِسے یہ عشق اصل ناس ہے
//متائے ؟ کیا مراد ’متاعِ‘ ہے؟
ناس کا یہ استعمال قابل توجہ ہے۔ الفاظ کی نشست بھی بدلی جا سکتی ہے کہ دوسرا مصرع رواں ہو جائے،

جو باب وا ہے روبرو ہے آفریں ہی آفریں
نگر نگر پھرے مگر خوشی ہمیں نہ راس ہے
//ایضاً، روانی درکار ہے۔

سوال ہی تو زندگی میں ہر جگہ کھڑے ملے
نظر نظربھٹک رہی جواب کی پیاس ہے
//پیاس محض ’پاس‘ تقطیع ہونی چاہئے۔

ہے پوچھتا کوئی اُسے کہ کون ہے ر َضا ترا
کہے ہے کوئی سر پھرا کہ عام ہے نہ خاص ہے
//روانی اور چستی بہتر بنائی جائے۔
مجموعی طور پر اس غزل کی زمین ہی ایسی چنی گئی ہے کہ الفاظ میں اکھاڑ پچھاڑ محسوس ہوتی ہے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
آداب عرض ہے اور ازحد ممنون ہوں کے آپ نے مفصّل تبصرہ فرمایا۔

دھڑک بھڑک اُٹھا ہے دل مرا نکل رہی بھڑاس ہے
جلا کے راکھ کر نہ دے یہ جو بھی آس پاس ہے
--- بھڑک بھڑاس ہندی کے الفاظ ضرور ہیں مگر اردو میں عام مستعمل ہیں اس لیے چنے گئے تاہم آپ کی ہدایت پر عمل ہوگا۔

مچل رہا ہے دل مِرا چہار سو ہی یاس ہے
جو حوصلہ ہی دے سکے کوئی نہ آس پاس ہے



---دوسرا شعریوں بدل دیا ہے اور وبال کو خارج کر دیا ہے
بساطِ جاں لپیٹ دی ہے عشقِ نامراد نے
کہ ہار ہے نہ جیت ہے ، نہ یاس ہے نہ آس ہے


بَجوگی کے نصیب کی پر نَوِشت تھی خزاں سدا
بہار پہ پرجو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے

بجوگی مراد بد نصیب یہ لفظ فیروز اللغات سے لیا ہے۔ جوگ سے ماخوذ ہے۔

-- یہ ٹھیک ہے
اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
ہے زیرِ لب کہے یہ وہ مِرا یہی قیاس ہے
وہ زیر لب یہ کہہ رہا ہے، یہ مرا قیاس ہے

--دوسرے مصرع کو رواں کرنے کی کوشش کی ہے
سکونِ دل گیامِرا متاعِ جاں بھی لُٹ گئی
خُدا اِسے فناکرے یہ عشق اصل ناس ہے

-- شعر تبدیل کر دیا مشاہدہ فرمائیں
جو در کھلا ملا ہمیں وہ راستہ تھا دشت کا
ہے سانحہ یہ زندگی خوشی ملی، نہ راس ہے


آخری دو اشعار کی روانی چستی اور تقطیع پر دوبارہ کوشش کرتا ہوں

ابھی تک کی مجموعی صورت ِ حال یہ ہوئی
مچل رہا ہے دل مِرا چہار سو ہی یاس ہے
جو حوصلہ ہی دے سکے کوئی نہ آس پاس ہے

بساطِ جاں لپیٹ دی ہے عشقِ نامراد نے
کہ ہار ہے نہ جیت ہے ، نہ یاس ہے نہ آس ہے

نہ تَشنگی اُجاڑ دے ہنسا بسا چمن مِرا
خدایا معجزہ دکھا کہ دل بہت اداس ہے


بَجوگی کے نصیب پر نَوِشت تھی خزاں سدا
بہار پرجو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے

اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
وہ زیر لب یہ کہہ رہا ہے، یہ مرا قیاس ہے

سکونِ دل گیامِرا متاعِ جاں بھی لُٹ گئی
خُدا اِسے فنا کرے یہ عشق اصل ناس ہے

جو در کھلا ملا ہمیں وہ راستہ تھا دشت کا
ہے سانحہ یہ زندگی، خوشی ملی نہ راس ہے

سوال ہی تو زندگی میں ہر جگہ کھڑے ملے
نظر نظربھٹک رہی جواب کی پیاس ہے

ہے پوچھتا کوئی اُسے کہ کون ہے ر َضا ترا
کہے ہے کوئی سر پھرا کہ عام ہے نہ خاص ہے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
بعد میں تفصیل سے دیکھتا ہوں، اس وقت تو بیٹری ختم ہو رہی ہے اور بجلی غائب ہے۔ لاگ آف کر رہا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
فی الحال علی گڑھ میں ہوں، اتر پردیش میں بجلی کی وہی حالت ہے جو پاکستان میں ہے، شاید کچھ بہتر ہو!!
آج انٹر نیٹ دستیاب ہوا ہے، اب ساری غزلیں کاپی پیسٹ کر کے اصلاح کے لئے دیکھتا ہوں۔
 

ابن رضا

لائبریرین
فی الحال علی گڑھ میں ہوں، اتر پردیش میں بجلی کی وہی حالت ہے جو پاکستان میں ہے، شاید کچھ بہتر ہو!!
آج انٹر نیٹ دستیاب ہوا ہے، اب ساری غزلیں کاپی پیسٹ کر کے اصلاح کے لئے دیکھتا ہوں۔
استاد محترم اصلاح کاانتظار ہے، ذرا نظر فرمائیں
 

الف عین

لائبریرین
مچل رہا ہے دل مِرا چہار سو ہی یاس ہے
جو حوصلہ ہی دے سکے کوئی نہ آس پاس ہے
//اس سے تو بھڑاس والا ہی بہتر تھا۔ میں نے محاورے کی غلطی کا کہا تھا جو ہندی میں استعمال کی جاتی ہے۔ ’نکل رہی بھڑاس ہے‘ والی نشست۔ اردو میں بھڑاس نکل رہی ہے، یا نکل رہی ہے بھڑاس ہوتا ہے۔

بساطِ جاں لپیٹ دی ہے عشقِ نامراد نے
کہ ہار ہے نہ جیت ہے ، نہ یاس ہے نہ آس ہے

نہ تَشنگی اُجاڑ دے ہنسا بسا چمن مِرا
خدایا معجزہ دکھا کہ دل بہت اداس ہے
//تشنگی سے کیا تعلق ہے چمن کے اجڑنے کا؟

بَجوگی کے نصیب پر نَوِشت تھی خزاں سدا
بہار پرجو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے
//لغت کے حساب سے درست سہی، لیکن موجودہ زبان میں تو ہندی میں بھی ’بَجوگی‘ یا ’بِجوگی‘ ۔ایسا کوئی لفظ نہیں بولا جاتا۔

اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
وہ زیر لب یہ کہہ رہا ہے، یہ مرا قیاس ہے

سکونِ دل گیامِرا متاعِ جاں بھی لُٹ گئی
خُدا اِسے فنا کرے یہ عشق اصل ناس ہے

جو در کھلا ملا ہمیں وہ راستہ تھا دشت کا
ہے سانحہ یہ زندگی، خوشی ملی نہ راس ہے
//مفہوم واضح نہیں۔ دشت کے راستے سے خوشی کا تعلق؟

سوال ہی تو زندگی میں ہر جگہ کھڑے ملے
نظر نظربھٹک رہی جواب کی پیاس ہے
//پیاس کا تلفظ غلط ہے، یہ محض ’پاس‘ کی طرح تقطیع ہونا چاہئے۔

ہے پوچھتا کوئی اُسے کہ کون ہے ر َضا ترا
کہے ہے کوئی سر پھرا کہ عام ہے نہ خاص ہے
//تو پھر رضا کیا ہے؟ اگر عام بھی نہیں؟
 
Top