بھارت میں نئے مسلم مخالف شہریت کے قانون کے بعد فسادات پھوٹ پڑے

زیرک نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 15, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    اگر کبھی آرٹیکل ۶۲، ۶۳ کا من و عن اطلاق ہوا تو قومی اسمبلی میں کوئی نظر ہی نہیں آئے گا :)
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آپریشن سرچ لائٹ فوج کا منصوبہ تھا جو مکمل فلاپ ہوا۔ ملک دو لخت ہوا۔ ۹۰ ہزار قیدیوں نے ہتھیار ڈالے۔ اس کے باوجود بھٹو نے ذمہ داران کو سزائیں دلوانے کی بجائے ان کے ساتھ مک مکا کر لیا۔ اور کشمیر بیچنے کے عوض تمام قیدی واپس بلوا لئے۔
    اسی طرح کارگل پر حملہ فوج کا منصوبہ تھا۔ وہ بھی فلاپ ہوا۔ چیک پوسٹس خالی کرتے فوجیوں پر پیچھے سے بمباری ہوتی اور ان کی کوئی مدد نہ کی جا سکتی۔ یہاں بھی نواز شریف چاہتے تو ذمہ داران کو الٹا لٹکا دیتے لیکن وہ اپنا اقتدار بچانے امریکہ چلے گئے
     
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پہلی بار تم نے یہ مانا ہے کہ سب کچرا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسمبلی نہیں دھندہ کرنے والوں کی کچرا کنڈی ہے اور ان کو غیر آئینی طریقے سے ہمارے سر پر مسلط کرنے والے ان سے بھی بڑےگندے لوگ ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آپ شاید بھول رہے ہیں کہ جنہوں نے ۷۳ کا آئین لکھا وہ بھی کچرے کے ڈھیر تھے۔ پہلے اتنی محنت سے آئین بنایا اور پھر ساتھ ہی اپنے سیاسی مفاد کیلئے اس میں ترامیم شروع کر دی۔
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہمارے نالائق تر بادشاہ گروں کی قوم کو ہر دس بیس سال بعد لیڈرشپ کا نیا ماڈل دینے کے لیے بنائی گئی تجربے گاہ نے قوم کو لیڈر تو نہیں دئیے لیکن ان نالائقوں اور نالائقوں کے سرپرستوں کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے پاکستانیوں کو کو پوری دنیا میں گداگر قوم بنا کر رکھ دیا ہے، ورنہ یہ وہی پاکستان تھا جس نے شروع شروع میں امریکہ اور جرمنی جیسے ملکوں کو قرضے دئیے تھے تاکہ وہ اپنی معیشت کو استحکام دے سکیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آٹے میں نمک کے برابر اچھے کاموں کے عوض بڑے بڑے گناہِ عظیم معاف نہیں کیے جا سکتے۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آئین یا دستور اساسی قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب ۷۳ کا آئین آیا تو اس میں صاف صاف لکھا تھا کہ ہر پاکستانی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اور پھر اگلے ہی سال اس میں ترمیم کر دی گئی کہ پاکستانی قادیانیوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔
    Second Amendment to the Constitution of Pakistan - Wikipedia

    ایسے مضحکہ خیز سیاسی مفاد پر مبنی آئین کو تو اسی وقت کچرے کے ڈھیر میں پھینک دینا چاہیے تھا۔ معلوم نہیں جنرل ضیا نے آئین معطل کرنے میں تین سال مزید انتظار کیوں کیا۔
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    قادیانیوں نے اس ترمیم کے نتیجے میں خود کو غیر مسلم نہیں مانا، اس بنیاد پر ان کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہلانے سے روکا گیا۔ ورنہ ان کو ان کے بنیادی مذہبی عقائد کی ادائیگی سے نہیں روکا گیا۔
    ان کے لوگ تو پاکستان میں سب سے زیادہ اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔
    اگر کبھی ملک میں کام نہیں ملتا تو اسی قانون کی آڑ لے کر یورپ، برطانیہ و امریکہ میں سیاسی پناہ بھی لے لیتے ہیں۔
    قصہ مختصر اس ترمیم کے فائدے تو وہ خوب لپیٹ رہے ہیں لیکن نقصانات کے پیچھے چھپا قانونی لقونہ ختم کروانے سپریم کورٹ کیوں نہیں جاتے؟ یہ بات ان سے پوچھیئے گا ضرور۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آئین یا اس میں کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پارلیمان ریاست کا سب سے اونچا ستون ہے اور باقی سب اس کے نیچے آتے ہیں۔ آئین میں لکھا ایک ایک لفظ پتھر کی لکیر ہے جسے سپریم کورٹ انٹرپرٹ تو کر سکتی ہے، اسے معطل یا تحریف نہیں کر سکتی۔
    زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب سال پہلے تمام پاکستانیوں کو مذہبی آزادی دی گئی تھی تو محض ایک سال بعد سیاسی فوائد کیلئے اسی آئین میں تبدیلی کیونکر کی گئی۔ اور یوں آئین بنانے والوں نے اس غلط کو روش فروغ دیا کہ زیر اقتدار
    ٹولہ جب چاہے اپنے مفاد میں آئین تبدیل سکتا ہے۔
    جیسے نواز شریف نے ۱۹۹۷ میں دو تہائی اکثریت لیتے ساتھ ہی اپنے منصب وزارت عظمی پر لگے تمام آئینی چیکس اینڈ بیلنس ہٹاتے ہوئے امیر المومنین بننے کی کوشش کی تھی۔
     
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
     
    • غمناک غمناک × 1
  11. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
     
    • غمناک غمناک × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    Ok boomer
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    16 دسمبر ، 2019
    [​IMG]نصرت امین
    کیا ہندوستانی مسلمانوں کو سمجھنا اتنا مشکل ہے؟
    [​IMG]

    خیا ل رہے کہ یہ مضمون کسی طور مسلمانوں کی تعریف یا اِن کے یکطرفہ مفاد میں نہیں لکھا گیا ہے۔ اِس تحریرکا مقصد صرف مودی حکومت اور اس کے انتہا پسند حامیوں کو تاریخی تناظر میں دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی مسلم آبادیوں کے عمومی سیاسی و سماجی روّیئے، رجحانات اور ان کی اجتماعی نفسیات یاد دلانا ہے جن میں اِ ن کمیونی ٹیز کا جبر کے خلاف عمومی رد عمل اور طاقتوردشمن سے نمٹنے کا طریقہ کار سر فہرست ہے۔

    اگرچہ بھارتی حکومت کے تازہ اقدامات سے لگتا ہے کہ و ہ اِن تاریخی حقائق سے اچھی طرح واقف ہے، لگتا ہے کہ اقتدار کی طاقت کے سُرور میں وہ اصل نتائج سے سبق سیکھنے کے بجائے انتہا درجے کی لا پرواہی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    یہاں یہ سچائی بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ مودی حکومت کے مسلم دشمن اقدامات کے پس منظر میں کم و بیش ایک ہزار سال تک ہندوستان پر راج کرنے والے زیادہ تر مسلم حکمرانوں کے غیر منصفانہ روئیے سے لیکر، کارگل تک کے واقعات کارفرما ہوسکتے ہیں ۔۔۔ اور نہیں بھی ہوسکتے اور اگر بی جے پی کا یہ سارا ظلم و ستم مسلمانوں کے خلاف تاریخی انتقام نہیں بھی ہے، تب بھی یہ برسر اقتدار جماعت، نتائج سے بے خبر، تاریخی ردّ عمل کی یہ نفسیات اپنے اقتدارکو مضبوط تر بنانے کے لیے یقیناًکامیابی سے استعمال کررہی ہے۔

    ہندوستانی مسلمانوں نے تقسیم کے وقت بنیادی طور پر دو وجوہات کے تحت پاکستان ہجرت کی تھی؛ پہلی وجہ تھی خود کو، اپنے عقائد سمیت، غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں انتہائی غیر محفوظ پاکر مسلم اکثریتی آبادیوں میں جابسنا اور دوسری وجہ تھے تعلیم، تجارت اور شہریت کے مساوی مواقعے۔
    وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور ہندوستان میں بسنے والی کم و بیش تمام مسلم کمیونی ٹیز کی تاریخ عمومی طور پر طاقتور دشمن کے خلاف کامیاب مسلح یا نظریاتی مزاحمت، بڑے پیمانے پر ہجرت، یلغار و حملہ (صحیح یا غلط) اور بغاوت سے جڑے واقعات پر مبنی ہے۔ مسلح مزاحمت یا جنگوں سے قطعہ نظر، جس طرح ضرورت پڑنے پر 1947میں تقسیم کے بعد بھارتی صوبوں میں بسے مسلمانوں نے پاکستان کی جانب سب سے بڑی ہجرت کرنے کی تاریخ بھی رقم کرڈالی تھی، اِسی طرح مودی حکومت کے پے در پے عاقبت نا اندیش اقدامات کے تناظر میں یہ امکان بڑھتا جارہا ہے کہ یوپی، بیہار، سی پی، راجھستان، گجرات، بنگال اور دیگر بھارتی صوبوں کے بے بس مسلمان ملک کے بالائی شمال مغربی علاقوں کی جانب ایک اور بڑی ہجرت کرکے موجودہ ہندوستان کے اندرونی لسانی و مذہبی خدوخال بدل ڈالیں۔یہ مذاق نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں، اِس صورتحال کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔

    اِس حوالے سے ماہ اگست میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خاص حیثیت کے خاتمے کے بعد تارکین وطن کی شہریت سے متعلق متنازع بل کا پیش کیا جانا ایک انتہائی متوقع پیش رفت ہے۔ کیوں کہ ماضی کے برعکس، اب بھارت بھر میں بسے مسلمانوں کے لیے ملک میں پہلی بارکشمیر کی صورت میں ایک مسلم اکثریتی صوبہ موجود ہے جہاں وہ بڑے پیمانے پر ہجرت کرکے مستقل سکونت اختیار کرسکتے ہیں۔

    اس وضاحت سے قبل کہ شہریت سے متعلق یہ متنازع بل متوقع کیوں تھا، یہ بیان کردینا ضروری ہے کہ اس نئے بل کے تحت بنگلادیش، پاکستان اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندو، بودھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی مذاہب سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز پیش گئی ہے۔ یہ بل در اصل ملتی جلتی نوعیت کے ایک اور بھارتی قانون کی مجوزہ ترمیم ہے جو 1955میں نافذ کیا گیا تھا۔ موجودہ بل سال 2016 میں بھی پیش کیا جاچکا ہے لیکن چند ناگزیر وجوہات کے تحت معاملہ آگے نہیں بڑھ پایا تھا۔ اس بل پر اعتراض یہ ہے کہ تارکین وطن کی فہرست میں مسلم کمیونٹی شامل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بل بھارتی ایوان زیریں اور بالا سے منظوری کے باجود دنیا بھر کے مبصرین کے لیے متنازع بن گیا ہے۔

    رہا سوال کہ بھارتی مسلمانوں کے ملک کے بالائی شمال مغربی حصوں میں ہجرت کے امکانات کیوں بڑھتے جارہے ہیں، اس کا جواب انتہائی سادہ ہے۔

    یہ خوف بھی پایا جاتا ہے کہ بالائی شمال مغربی ہند کے کم و بیش پورے خطے میں مسلم آبادی نہ صرف غیر مسلم آبادی کے برابر یا اس سے تجاوز کر سکتی ہے بلکہ ان علاقوں کے پاکستان سے جڑے ہونے کے سبب آزادی کی کسی نئی تحریک کے آغاز کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
    ہندوستانی مسلمانوں نے تقسیم کے وقت بنیادی طور پر دو وجوہات کے تحت پاکستان ہجرت کی تھی؛ پہلی وجہ تھی خود کو، اپنے عقائد سمیت، غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں انتہائی غیر محفوظ پاکر مسلم اکثریتی آبادیوں میں جابسنا اور دوسری وجہ تھے تعلیم، تجارت اور شہریت کے مساوی مواقعے۔

    اب آرٹیکل 370 کی تنسیخ بعد، نئے بھارتی قانون کے تحت، جموں وکشمیر بھارت کی وہ واحد یونین ہے جہاں مقامی مسلم آج بھی بھاری اکثریت میں ہیں، سو اب خاص طور پر یوپی، بیہار، سی پی، گجرات اور دیگر بھارتی ریاستوں اور یونینز میں ہندو توا کے زیر عتاب مسلم آبادیوں کے بڑے پیمانے پر جموں و کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں ہجرت کرکے سکونت اختیار کرنے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

    خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں انتہا پسند بی جے پی کو یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ ایک جانب کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں بدلنا نا ممکن ہوسکتا ہے اوردوسری جانب مسلمانوں کی اس ممکنہ اورغیر معمولی ہجرت سے جموں و کشمیر کے آس پاس واقع بھارتی علاقوں کی غیر مسلم اکثریت دیکھتے ہی دیکھتے اقلیت میں بدل سکتی ہے۔ مٹ جانے کے خوف میں مبتلا انتہا پسندوں کا یہ احمقانہ خدشہ بھی سامنے آیا کہ آزاد کشمیر، بنگلا دیش، پاکستان اور افغانستان سے بڑے پیمانے پر ہجرت متوقع ہے اورایسی صورت میں ہندوستان ہجرت کرنے والے مسلمان جموں وکشمیر یا ملحقہ علاقوں میں مستقل سکونت اختیار کرکے بالائی شمال مغربی ہندوستان میں نئے سر ے سے لسانی و مذہبی خد وخال (Ethno-Religious Demography) مرتب کر سکتے ہیں۔

    لہذا یہ خوف بھی پایا جاتا ہے کہ بالائی شمال مغربی ہند کے کم و بیش پورے خطے میں مسلم آبادی نہ صرف غیر مسلم آبادی کے برابر یا اس سے تجاوز کر سکتی ہے بلکہ ان علاقوں کے پاکستان سے جڑے ہونے کے سبب آزادی کی کسی نئی تحریک کے آغاز کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ یہ خدشہ بھی سروں پر منڈلا تا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ہجرت کرکے آنے والے یہ مسلم شہری بھارتی شہریت حاصل کرنے کے بعد، نئے بھارتی قانون کے تحت، جموں وکشمیر میں جائیدادوں کے مالک بھی بن سکتے ہیں۔ اِن تمام خدشات کو ہمیشہ کے لیے دور کرنا مودی حکومت کے لیے ایک سیاسی ضرورت بن گیا تھا، لہٰذا شہریت سے متعلق اس بل کا پیش ہونا اب ناگزیر تھا۔

    تاریخ اور تازہ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو غیر بھارتی مسلمانوں کو شہریت اور ویزا نہ دینا، کوئی دو دہائیوں سے بھارتی حکومتوں کی روایت بنا ہوا ہے۔ پاکستانی نژاد کینیڈین حضرت طارق فتح آخری خبریں آنے تک بھارتی میڈیا پر پاکستان سے اپنی تمام تر نفرت کے مسلسل اظہار کے باجود، بھارتی شہریت حاصل نہیں کرسکے تھے۔ خیال ہے کہ تمام پاکستانیوں اور تمام مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے والے طارق فتح کو بھارتی شہریت کے حصول میں دشواری اس لیے بھی اٹھانا پڑرہی ہے کہ وہ بنیادی طور پرایک ایسے پاکستانی مسلمان ہیں جن کے پاس کینیڈین پاسپورٹ بھی ہے۔

    بھارت کی ایک غیر اعلانیہ پالیسی کے تحت، کسی بھی کینیڈین نیشنل پاکستانی مسلمان کے لیے بھارتی شہریت تو کُجا، بھارتی ویزے کا حصول بھی کم و بیش ناممکن ہے۔ ٹورنٹو میں مقیم پاکستانی نژاد بہت سے کینیڈین شہری اس پریشانی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی نژاد کینیڈین مسلم درخواست گزاروں کو انڈین ہائی کمیشن میں تلقین کی جاتی رہی ہے کہ اگر وہ پاکستانی شہریت سے دستبردار ہوجائیں تو انہیں بھارتی ویزا جاری کیا جاسکتا ہے۔

    اِس سال اگست میں آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد وادی کی آسیب زدہ صورتحال پر مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی اسکالر محمد سخی خان راٹھور سے رابطہ رہا، انہوں نے بارہا گفتگو میں حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شہریت سے متعلق بل پیش ہونے پر ان سے ایک بار پھر رابطہ ہوا، تو ا ن کا کہنا تھا کہ درحقیقت مودی راج میں اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے وہ سب غیر آئینی ہے۔ انہوں کہا کہ اُنہیں ہندوستان سے پناہ محبت ہے کیوں کہ یہ غریب نواز کا ہندوستان ہے۔ ”حالات کتنے ہی کٹھن ہوں۔۔۔ ہم (کشمیری اور ہندوستانی مسلمان) اپنی جگہ مکمل وکامل ہیں۔ میں فی الحال خود کوئی مضمون لکھنے سے قاصر ہوں لیکن دعا ہے کہ حق کہنے اور لکھنے والے تا قیامت سلامت رہیں۔“

    ہندوستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر مسلم تارکین وطن کی شہریت سے متعلق یہ مذکورہ بل کی بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا اور ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا سے اس بل کی منظوری شمالی بھارت میں مودی راج کے زیر سایہ شدت اختیار کرتی ہوئی ’ہندو توائی فضا‘ کا نتیجہ ہے۔ بے جی پی بلاشبہ برسر اقتدار ہونے کے ساتھ ساتھ آج بھی ہندوستان کی سب سے طاقتور جماعت ہے، لہذا مذکورہ بل کا ایوان بالا میں بھی منظور ہوجانا، دنیا کے لیے کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ البتہ مہاراشٹرا کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع شکست، ایک نئے سیاسی منظرنامے کی شروعات قرار دی جارہی ہے۔
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بھارتی فورسز گھروں سے مسلمانوں کونکال کر مار رہی ہے۔
     
    • غمناک غمناک × 2
  15. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چپ کا روزہ رکھے پاکستانی مرد نما لیڈروں سے تو ایک بنگالی عورت ممتا بینر جی (چیف منسٹر بنگال) زیادہ "مرد" نکلی جس نے کولکتہ میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران مودی کی فاشسٹ دلی سرکار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "اگر وفاقی حکومت میں ہمت ہے تو ان کی حکومت ختم کردے لیکن ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لاگو ہو گا۔ جب تک میں زندہ ہوں ریاست میں شہریت قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی، آپ چاہیں تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں لیکن میں اس کالے قانون پر کبھی عملدرآمد نہیں کروں گی"۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  16. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کیا ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں:-

    ا۔ نئے شہریت قانون سے متاثر ہونے والے 3 مسلم ممالک کے پناہ گزینوں کی تعداد ؟


    ب۔ اس قانون سے فائدہ اٹھانے والے 6 مذاہب کے پناہ گزینوں کی تعداد ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ایڈے تسی بہادر شاہ ظفر کہ "ہم" کا صیغہ استعمال کریں ، ویسے تسلی رکھیں گنتی جاری ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  18. محمد امین صدیق

    محمد امین صدیق معطل

    مراسلے:
    1,522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نفرتوں کا اثر دیکھوجانوروں کا بٹوارہ ہوگیا
    گائے ہندو ہوگئی اور بکرا مسلمان ہوگیا

    یہ پیڑ یہ پتے یہ شاخیں بھی پریشاں ہوجائیں
    اگر پرندے بھی ہندو اورمسلمان ہوجائیں

    سوکھے میوے بھی یہ دیکھ کر حیران ہوگئے
    نجانے کب ناریل ہندو اور کھجورمسلمان ہوگئے

    جس طرح سے دھرم مذہب کے نام پہ ہم رنگوں کوبھی بانٹتے جارہے ہیں
    کہ ہرا مسلمان کا ہے اور لال ہندو کا رنگ ہے

    تو وہ دن دورنہیں جب ساری کی ساری ہری سبزیاں مسلمانوں کی ہوجائیں گی
    اور ہندوؤں کے حصے بس ٹماٹر اور گاجرہی آئیں گے

    اب یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ تربوز کس کے حصوں میں آئےگا
    یہ تو بیچارہ اوپر سے مسلمان اور اندر سے ہندو رہ جائے گا

    :):)
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 16, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,248
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بالآخر ہندوستان نے ایک سپر پاور بننا ہے۔ اس پر حملہ پاکستان کی بےوقوفی ہی ہوگی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایویں ای چونڈیاں نہیں وڈی دئیاں، اے مراسلہ جادوئی ٹیگ آلا سی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4

اس صفحے کی تشہیر