بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 9, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم

    ویب ڈیسک
    09 نومبر ، 2019

    بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا رہا ہے، پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں۔

    چیف جسٹس رانجن گنگوئی کیس کا فیصلہ سنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔


    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جب کہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔

    بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش میں تمام اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مطابق ریونیو ریکارڈ کے مطابق زمین سرکاری تھی جب کہ بابری مسجد کی شہادت قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کے خلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی جس میں سنّی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    بابری مسجد کا پس منظر

    1528ء میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھیا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

    [​IMG]

    برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کیلئے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔

    1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا۔

    حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  2. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    ہم پھر بھی فراخدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔۔ اور کرتارپور کا بارڈر کھول رہے ہیں۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    وہ اور تنازعہ ہے۔ کرتارپور کا اس سے کیا لینا دینا؟
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    قائد اعظم کا ہندوتوا کے بارے میں نظریہ پھر صحیح ثابت ہوگیا، ترجمان پاک فوج
    ویب ڈیسک 3 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    بھارت خود کو سیکیولر ملک ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، میجر جنرل آصف غفور ( فائل: فوٹو)


    روالپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر عظیم قائد محمد علی جناح کا ہندو شدت پسندی کے بارے میں نظریہ درست ثابت ہوگیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے لکھا کہ آج ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو ایک بار پھر احساس ہو جانا چاہئے کہ ہندوتوا کے بارے میں ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح کا نظریہ بالکل ٹھیک تھا اور یقینی طور پر بھارت میں موجود اقلیتوں کو اب ہندستان کا حصہ بننے پر افسوس ہو رہا ہوگا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ میڈیا بریفنگ کی اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کس طرح اپنا ملک چلانا ہے۔

    میجر جنرل آصف غفور نے ویڈیو بریفنگ میں مزید کہا کہ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے؟ کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں؟ پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے کرتار پور راہداری بنادی۔
     
  5. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    سالیوٹ۔۔۔۔۔۔سر۔۔۔
    ایک ہی ملک ہے۔۔۔۔۔۔۔ خیر اپ نے دفاع ہی کرنا ہے۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    مسئلہ کشمیر 70 سال پرانا ہے۔ اس دوران مختلف حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مختلف معاہدہ کئے، دونوں اطراف سمجھوتہ ایکسپریس اور بس سروسز چلائی گئی۔ اس وقت تو کسی نے اعتراض نہ کیا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر بھارت کے ساتھ بارڈر کیوں کھولا ہے۔ ہاں اب چونکہ عمران خان کی حکومت ہے اس لئے پہلے جو چیز اچھی تھی اب وہ بھی بری ہے :)
     
  7. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    اس وقت کشمیر کی حالت ایسی نہیں تھی۔۔۔ ارٹیکل 370 لاگو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    لیں جی نیازی کا بہنوئی بھی موجود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    90 کی دہائی میں کشمیریوں کی سب سے زیادہ شہادتیں ہوئی ہیں۔ اسی دوران ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی وزیر اعظم پاکستان آئے۔ نئے معاہدوں پر دستخط ہوئے ۔ بارڈر کھولے گئے۔
    [​IMG]
     
  10. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    یہ گراف کس نے بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے گرافس میں اسانی سے اور حقیقی بنا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سو دنوں کا بنایا جائے تو ریشو کیا رہے گی ؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    اور شہادتوں کی بات کون کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہوتی رہتی ہے وہاں۔۔۔ ہم ہی ہیں چوڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
    کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بات ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    حوالہ
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    یہ کہاں کا پیج ہے ۔۔؟؟ انڈیا ؟؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارتی پارلیمان نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ 1954 میں آئین میں منظور کی تھی۔ اور امسال 2019 اسی طرح دو تہائی اکثریت کے ساتھ اسے ختم کر دیا گیا۔ یہ بھارت کا داخلی مسئلہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا انتظام کیسے کرتا ہے۔ اس میں حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    99 میں چوڑیاں اتار کر کشمیر فتح کرنے گئے تھے تو آپ کے حلیف نواز شریف نے فوج واپس بلا کر مشرف کو فارغ کر دیا تھا :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    کر لو بات۔۔۔۔۔۔۔۔ اپ نے تو بات ہی الٹی کردی۔۔۔۔۔۔ واو
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جنگ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے۔
     
  18. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    473
    متفق علیہ۔۔۔۔۔ لیکن گفت و شنید میں نیازی کے محرکات کیا ہیں۔۔؟؟ کہاں کہاں گیا کس کس سے بات کی۔۔۔۔ امید ہے اس معاملے میں اپ تھوڑا نارمل ہوکے بات کرینگے۔۔۔۔
     
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,361
    پھر دہراتا ہوں کہ آرٹیکل 370 کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2013 میں الیکشن سے قبل مودی نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آکر اس آرٹیکل کو ختم کر دیں گے۔ مودی کے مطابق آرٹیکل 370 کی وجہ سے بھارتی قوانین کشمیر میں لاگو نہیں ہو سکتے۔ یوں ایک ملک دو قانونی نظام ہونے کی وجہ سے کشمیریوں کو بہت سےمسائل کا سامنا ہے۔
    Will scrap Article 370 if voted to power in 2014: BJP

    2014 میں الیکشن جیتنے کے باوجود مودی کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی کہ وہ آئین میں تبدیلی کرکے اس آرٹیکل کو وعدہ کے مطابق ختم کر سکتے۔ البتہ اس سال واضح اکثریت لینے کے بعد وہ یہ کام کر چکے ہیں۔
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,751
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس ساری بحث کا بابری مسجد فیصلے سے کیا تعلق؟
    مجھے یہ بات پسند نہیں آتی کہ پاکستانی میڈیا ہندوستانی ناموں کو انگریزی سے 'ترجمہ' کرتے ہوئے نئے نئے نام ایجاد کر دیتے ہیں۔ کم از کم ہندوستانی اخبارات سے درست تلفظ معلوم کر لیا کریں
    گوگوئی آسامیوں میں بہت عام سر نیم ہے، اور رنجن بھی عام ہ۔دوستانی نام ہے، اسے رانجن گنگوئی بنا دینا درست نہیں۔ ایسے ہی دو ایک فن پہلے ورداراجن کو وارڈارجن یا اس قسم کا کچھ لکھا دیکھا تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2

اس صفحے کی تشہیر