بچے پھینکنے کے 20 روپے

پاکستانی

محفلین
نوزائیدہ بچوں کا زندہ یا مردہ کسی کچرے کے ڈھیر پر ملنا بہار میں کوئی خاص بات تصور نہیں کی جا تی ہے۔ بچہ اگر زندہ رہے تو کسی لاولد کی زندگی خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اگر مردہ ملے تو پوسٹ مارٹم کے لیئے ہسپتال کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں کو اس طرح پھینکنے والوں کا با آسانی پتہ نہیں چلتا لیکن جمعرات کو ریاست کے شمالی شہر مظفرپور میں ایک نالے سے پولیتھین کی تھیلی میں بند ایک ساتھ تین بچوں کی لاشیں ملیں تو اس گورکھ دھندے کا بھانڈا پھوٹا۔

ان نوزائیدہ بچوں کو نالےمیں پھینک کر بھاگ رہے ہسپتال کے ایک صفائی ملازم پر مقامی لوگوں کی نظر پڑ گئی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک بچے کو پھینکنے کے لیے بیس روپے وصول کرتا ہے۔ ارجن ملک نام کے اس صفائی مزدور نے بتایا کہ وہ دو برس سے یہ کام کر رہا ہے۔ ارجن نے جس ہسپتال سے لاکر ان بچوں کو نالے میں پھینکا تھا وہ شہر کا مشہور میٹرنٹی سنٹر ہے۔




مزید تفصیل
 
Top