بچوں کے لیے نظمیں چاہئیں

سید عمران نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 27, 2019

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,103
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔
    بھائی آپ جیسا چاہیں استعمال کرلیں ۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔
     
  2. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    نہیں ایسی بات نہیں ہے۔مجھے آپ کی بات سے بلکل اتفاق ہے۔ویسے معصومانہ سا سوال تھا۔آپ کو ناگوار گزرا ہو تو بہت معذرت۔
     
  3. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بچو! صفائی نصف ایماں ہے
    پاک نبی کا یہ فرماں ہے

    رب کو ہے محبوب طہارت
    زیب و زینت اور نفاست

    چاند لگو گے،تارے لگو گے
    صاف رہو گے پیارے لگو گے

    صاف رہو گے چست رہو گے
    اچھے سے ہر کام کرو گے

    پاس نہ آئے گی بیماری
    صحت اچھی ہو گی تمھاری

    جیسے ضروری تن کی صفائی
    رکھنا یوں ہی من کی صفائی

    بہتے پانی جیسے رہنا
    اجلے رہنا،ستھرے رہنا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بچو! صفائی نصف ایماں ہے
    پاک نبی کا یہ فرماں ہے

    رب کو ہے محبوب طہارت
    زیب و زینت اور نفاست

    چاند لگو گے تارے لگو گے
    صاف رہو گے پیارے لگو گے

    اچھے بچے ہوتے ہیں جو
    صاف ہمیشہ رہتے ہیں وہ

    صاف رہو گے چست رہو گے
    اچھے سے ہر کام کرو گے

    پاس نہ آئے گی بیماری
    صحت اچھی ہو گی تمھاری

    جیسے ضروری تن کی صفائی
    رکھنا یوں ہی من کی صفائی

    (عمران کمال)
     
  5. آئی کے عمران

    آئی کے عمران محفلین

    مراسلے:
    185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    برف کے گرتے گالے دیکھو
    لگتے کتنے پیارے دیکھو

    بچھ گئی ہر سو برف کی چادر
    ڈھانپ دیا ہر شے کو آ کر

    ہر سو دیکھو ایک نظارہ
    اجلا اجلا پیارا پیارا

    برف کا دیکھو بوجھ اٹھائے
    پیڑ کھڑے ہیں سر کو جھکائے

    دھوپ سے چمکے دیکھو کیسے
    سونے کے ہوں ذرے جیسے

    ندی نالے سوکھ گئے تھے
    دریاؤں سے روٹھ گئے تھے

    برف بنے گی دھوپ سے پانی
    آئے گی دریا میں طغیانی

    پگھلے گی جب کہساروں سے
    شور اٹھے گا دریاؤں سے

    برف زمیں کی پیاس بجھائے
    اور زمیں پھر سبزہ اگائے

    نعمت یہ انمول ملی ہے
    اور ہمیں بے مول ملی ہے

    خوب کرشمہ رب نے دکھایا
    بارش کے قطروں کو جمایا

    برف ہے اک احسان خدا کا
    شکر کرو عمران خدا کا
     

اس صفحے کی تشہیر