بچوں کے لیے قرآنی قصہ سیریز ۔ حضرت آدم علیہ السلام

ام اویس

محفلین
حصہ اول:

امی جان ! بتائیں نا حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں کہاں کہاں ہے؟” ابوبکر نے اپنی امی کی چادر پکڑتے ہوئے کہا:
اس کی امی جو مغرب کی نماز پڑھ کر جائے نماز تہہ کررہی تھیں بولیں: “ابوبکر میں نے آپ سے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم رات کو اس موضوع پر بات کریں گے اور قرآن مجید کھول کر آیات تلاش کر لیں گے۔ ابھی مجھے کام ہے میں رات کا کھانا بنا لوں۔” ابوبکر منہ بسورنے لگا تو امی جان کو ایک خیال آیا چنانچہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گئیں اور کتابوں کی الماری سے “قصص الانبیاء” نکال کراسے تھماتے ہوئے بولیں: “آپ اتنی دیر اس میں سے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ نکال کر پڑھیں تاکہ تفصیل معلوم ہو جائے پھر ہم آیات بھی دیکھ لیں گے۔”
ابوبکر کتاب لے کرکرسی پر بیٹھ گیا اور قصۂ آدم علیہ السلام کھول کر پڑھنے لگا۔
معاملہ کچھ یوں تھا کہ نانو جان دورانِ تعلیم بچوں کو انبیاء علیھم السلام کے واقعات اور قرآنی قصے سناتی رہتی تھیں۔ اب بچوں کی فہم کا اندازہ لگانے کے لیے انہوں نے ایک مقابلے کا اعلان کیا تھا۔ ابوبکر ، حسن ، طلحہ ، افراح ، حرا ، کنول اور بشٰری سے کہا گیا تھا کہ وہ قرآن مجید سے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان کریں اور یہ بھی بتائیں کہ یہ قصہ قرآن مجید کی کون سی سورتوں کی کن آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
جیتنے والے بچے کے لیے سرپرائز گفٹ تھا۔ابوبکر ہر صورت یہ مقابلہ جیتنا چاہتا تھا۔ اتنے میں حسن بھی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اگرچہ وہ ابوبکر سے تین سال چھوٹا تھا لیکن اس کی اردو پڑھنے کی رفتار زیادہ تیز تھی۔ ابوبکر نے اسے کتاب تھما دی ، وہ پڑھنے لگا اور ابوبکر غور سے سننے لگا۔
کچھ دیر بعد امی جان بھی کام کاج سے فارغ ہوکر آگئیں ۔ انہوں نے اردو ترجمے والا قرآن مجید پکڑ رکھا تھا۔ ابوبکر جلدی سے بولا: “امی جان ! نانو جان نے بتایا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں سات مقامات پر ہے۔”
امی جان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا: “ٹھیک ہے۔ کیا آپ کو ان سورتوں کے ناموں کا علم ہے جن میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے؟”
“جی امی جان! سب سے پہلے سورة البقرہ کھولیں”
چنانچہ امی جان نے قرآن مجید کے صفحات پلٹتے ہوئے سورة بقرہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ کھول لیا جوآیت نمبر30 میں ہے اور انہیں پڑھ کر سنانے لگیں۔
پورا ہفتہ ہر روز اسی وقت ابوبکر ، حسن اور اس کی امی جان مختلف سورتوں میں سے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ تلاش کرکے پڑھتے رہے۔ اس طرح مقابلے کے لیے ان دونوں کی خوب تیاری ہوگئی۔
ادھر باقی بچوں بھی جوش و خروش سے تیاری کر رہے تھے۔ آخر مقابلے کا دن آپہنچا۔ نانو جان نے خوب اہتمام کر رکھا تھا۔ اتفاق سے اس دن ان کے بھائی بھی تشریف لے آئے انہیں جج کا منصب سونپ دیا گیا۔
گھر کے سب لوگ بڑے کمرے میں جمع تھے اور ھدایت کے مطابق وضو کرکے آئے تھے۔ نانو جان نے بچوں کو ایک طرف سب کے سامنے بیٹھنے کو کہا اور ہر ایک کو اردو ترجمے والا ایک ایک قرآن مجید تھما دیا۔
پھر مقابلے کی شرائط بتائیں جو کچھ اس طرح تھیں۔
۱۔ جس بچے سے سوال کیا جائے گا صرف وہی جواب دے گا دوسرے لوگ خاموشی سے سنیں گے۔
۲۔ جواب کے لیے 5 منٹ دئیے جائیں گے۔
۳۔ صرف آیت پڑھ کر اس کے اردو ترجمے سے جواب دیا جائے گا اور قرآن مجید سے دیکھ کر دیا جائے گا۔ اپنے الفاظ شامل نہیں کیے جائیں گے۔
۴۔ درست جواب پر ۱۰ نمبر ملیں گے
۵۔ اگر جواب معلوم نہیں ہوگا تو دوسرے بچے سے وہی سوال کیا جائے گا درست جواب دینے والے کو ۱۵ نمبر ملیں گے۔

نانو جان کے دائیں طرف افراح بیٹھی تھی چنانچہ نانوجان نے اس سے پہلا سوال کیا : قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کی ابتداء کیسے اور کس سورة کی کونسی آیت سے ہوئی ہے۔ ؟
افراح نے جھٹ سے جواب دیا سورة بقرہ کی آیة تیس سے حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ شروع ہوتا ہے۔ اس نے قرآن مجید میں سے مطلوبہ صفحہ کھول لیا۔ پھر تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر تلاوت شروع کردی ۔
اس کے بعد ترجمہ سنایا ۔
اردو ترجمہ:
اور وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

نانو جان نے ہاتھ کے اشارے سے افراح کو آگے پڑھنے سے روک دیا اور کہا: شاباش تمہارا جواب بالکل درست ہے۔
گلابی سکارف میں افراح کا چہرہ بھی خوشی سے گلابی ہو کر چمکنے لگا۔
دوسرے نمبر پر حسن بیٹھا تھا چنانچہ اب اس کی باری تھی۔ وہ مقابلے میں شریک تمام بچوں سے عمر میں چھوٹا تھا۔ نانو جان نے اس سے سوال کیا: الله تعالی نے آدم علیہ السلام کو کس چیز سے بنایا؟
سڑی ہوئی مٹی کے گارے سے ۔ حسن نے فورا جواب دیا۔
نانو جان نے کہا : کس سورة کی کون سی آیت میں یہ بتایا گیا ہے ؟
قرآن مجید میں سے آیت نکال کر پڑھیں۔
حسن قرآن مجید کے صفحے پلٹتا رہا لیکن اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ یہ آیت کون سی سورة میں ہے۔ جب پانچ منٹ گزر گئے تو نانو جان نے باقی بچوں سے پوچھا: “ کون اس سوال کا درست جواب دے گا؟
أبو بکر کو یاد تھا کہ یہ سورة الحجر کی آیت نمبرچھبیس ہے چنانچہ اس نے فورا ہاتھ اوپر اٹھا دیا۔
نانو جان نے اسے جواب دینے کا اشارہ کیا۔
ابوبکر نے آیت پڑھنے کے بعد اس کا اردو ترجمہ پڑھ کر سنایا:
اردو ترجمہ:
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

نانو جان نے اسے شاباش دی ، ماموں جان بھی اس کا جواب سن کر بہت خوش ہوئے۔
اب بشری کی باری تھی۔ نانو جان نے اس سے پوچھا:
جب الله تعالی نے آدم علیہ السلام کو بنانے کی ابتدا کر دی تو فرشتوں سے کیا کہا؟
اس کا جواب بھی سورة الحجر میں ہے۔ بشرٰی نے کہا اور جلدی سے سورة الحجر کھولی، آیة کا نمبر دیکھ کر بتایا: آیة اٹھائیس اور انتیس پھر تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر پہلے تلاوت کی پھر ترجمہ سنایا۔
اردو ترجمہ:
اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بشر بنانے والا ہوں۔ جب میں اسکو درست کرلوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو اسکے آگے سجدے میں گر پڑنا۔
“بالکل صحیح۔ “ نانو جان نے بشری کا جواب سن کر کہا۔
بشری کے صبیح چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
سب لوگ نہایت توجہ سے سوال و جواب کا یہ سلسلہ سُن رہے تھے۔
نانو جان نے اگلا سوال کنول سے کیا جو بشری کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور اپنی باری کے انتظار میں انتہائی پرجوش دکھائی دے رہی تھی۔ سفید لباس اور سفید سکارف میں بالکل گڑیا لگ رہی تھی۔
کنول کیا آپ جانتی ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا؟
جی ! تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کنول نے قرآن مجید کھولتے ہوئے جواب دیا:” اس کا ذکر سورة البقرہ میں آیت نمبر اکیس سے شروع ہوتا ہے”
وہ تعوذ و تسمیہ پڑھ کر آیات کی تلاوت کرنے لگی۔ اس کے بعد اس نے ان آیات کا ترجمہ پڑھ کر سنایا :
اردو ترجمہ :
اور الله تعالی نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔
انہوں نے کہا تو پاک ہے جتناعلم تو نے ہمیں بخشا ہے اسکے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں بیشک تو دانا ہے حکمت والا ہے۔
تب اللہ نے آدم کو حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان چیزوں کے نام بتاؤ سو جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو فرشتوں سے فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی سب پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو سب مجھ کو معلوم ہے۔ اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا۔

شاباش نانو جان نے کنول سے کہا: اور اگلے سوال کے لیے ابوبکر کی طرف دیکھا: ابوبکر بھی سنبھل کر بیٹھ گیا اور پوری توجہ سے سوال سننے لگا۔
نانو جان نے کہا: شیطان نے تکبر کی وجہ سے سجدے سے انکار کیا یہ بتائیں کہ شیطان کون تھا اور الله تعالی نے اس کے متعلق ہمیں کیا ھدایت کی ہے؟

اس کا جواب سورة الکہف کی آیت نمبر پچاس میں ہے۔ میں پڑھ کر سناتا ہوں ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ابوبکر نے قرآن پاک کے صفحے پلٹتے ہوئے کہا:
پھر تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر آیت کی تلاوت کی اور ترجمہ سنانے لگا۔

“اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہو گیا۔ کیا تم اسکو اور اسکی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ اور شیطان کی دوستی ظالموں کے لئے اللہ کی دوستی کا برا بدل ہے۔”

شاباش ! نانو جان نے ابوبکر کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ خوشی سے ابوبکر کا چہرہ چمکنے لگا۔
“الله تعالی نے حکم نہ ماننے پر شیطان سے کیا کہا؟ “نانو جان نے پوچھا: جواب دینے کی باری حرا کی تھی اشتیاق کے مارے اس نے دونوں ہاتھ ہلا کر ہلکے سے اپنے سینے پر مارے اور جلدی جلدی قرآن مجید کھولا ۔ ساتھ ہی اس کے منہ سے نکلا دو جگہ اس کا تذکرہ دو جگہ پر ہے ایک تو سورة الاعراف کی آیت بارہ میں اوردوسرا سورة الحجر کی آیت بتیس اور تینتیس میں ۔
اس نے خوشی خوشی آیات کی تلاوت کی اور ان کا ترجمہ پڑھ کر سنایا:

“اللہ تعالی نے فرمایا جب میں نے تجھ کو بھی حکم دیا تھا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔”
پھر سورة الحجر سے پڑھا:
اردو ترجمہ:
“فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
اس نے کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں۔”

اس کے بعد طلحہ بیٹھا تھا جو بچوں میں سے سب سے سمجھدار تھا وہ بالکل مطمئن تھا کیونکہ اس نے نانو جان سے خاص طور پر اس مقابلے کی تیاری کی تھی۔ نانو جان کا چہرہ سفید لباس میں چمک رہا تھا اسے نانو جان بہت پیاری لگ رہی تھیں ۔ نانو جان نے اسے متوجہ کرتے ہوئے کہا: طلحہ آپ بتائیں کہ اس کے بعد الله تعالی اور شیطان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی ؟
طلحہ نے پہلے سورة الاعراف کی آیات تیرہ تا اٹھارہ اپنی خوبصورت آواز میں قراءت کیں۔ پھر ان کا ترجمہ گوش گزار کیا :

( الله تعالی نے) فرمایا تو بہشت سے اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں تکبر کرے پس نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں سے ہے ۔ اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔
فرمایا اچھا تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔
بولا کہ مجھے تو تو نے گمراہ کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان کو گمراہ کرنے کے لئے بیٹھوں گا۔ پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے غرض ہر طرف سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگذار نہیں پائے گا۔
اللہ تعالی نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی ، مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔”

الله تعالی ہمیں شیطان کے ہتھکنڈوں اور جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے۔ نانو جان نے طلحہ بھائی کے خاموش ہوتے ہی دعا کی جس پر سب نے آمین کہا۔

طلحہ نے کہا الله تعالی اور شیطان کے درمیان مکالمے کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی اکسٹھ سے پینسٹھ تک آیات میں بھی ہے ۔ پھر ان آیات کی تلاوت کرکے ترجمہ سنایا:

“اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا یہاں سے چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے اور وہ پوری سزا ہے۔ اور تو ان میں سے جسکو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور انکے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے۔ جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور اے پیغمبر تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔”
اس کے خاموش ہوجانے پر بھی کافی دیر تک ماحول پر سکوت طاری رہا۔ تمام لوگ الله تعالی اور شیطان کے درمیان ہونے والے مکالمے میں کھو گئے۔ گویا سارا منظر نگاہوں کے سامنے ہو۔
“بے شک ہم الله تعالی کی مدد سے ہی شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اس کے شر سے بچ سکتے ہیں” نانو جان نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
شیطان ہمیشہ سے انسان کا دشمن ہے اورالله کی پناہ میں جا کر ہی اس کے شر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
 

ام اویس

محفلین
دوسرا حصہ:
سوال وجواب کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے رک گیا کیونکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے
تو نانو جان نے سب کو مزے کا کھانا کھلایا۔ کھانے کے بعد سب نے ایک بار پھر بڑے کمرے میں
اپنی نشستیں سنبھال لیں ۔
نانو جان نے سوال و جواب کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے شروع کر دیا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں الله تعالی نے حضرت آدم اور حضرت حوا علیھما السلام کو جنت میں رہنے
اور شیطان کے شر سے بچنے کا حکم دیا تھا:
بتائیں کہ یہ حکم قرآن مجید کی کن آیات میں ہے۔ انہوں نے افراح سے سوال کیا:
افراح کو سوال کا جواب معلوم تھا چنانچہ اس نے نہایت اعتماد سے مسکراتے ہوئے قرآن مجید کھولا اور جواب دیا:
اس حکم کا ذکر سورة اعراف اور سورة بقرہ دونوں مقامات پر ہے ۔ اس کے علاوہ سورة طہ کی آیات 117,118,119 میں انداز بیان کچھ مختلف ہے ۔
پھر سورة بقرہ کی آیت پینتیس کی تلاوت کی اور ترجمہ سنایا:
“اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ پیو لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں ہو جاؤ گے۔”
پھر قرآن مجید کے صفحات پلٹے اور سورة طہ کھولی۔ تلاوت کے بعد آیات کا ترجمہ بیان کیا:
“اس پر ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نہ نکلوا دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑ جاؤ۔ یہاں تمکو یہ آسائش ہے کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے۔ اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ۔”
افراح کے خاموش ہوتے ہی نانو جان نے کہا:
اسی سورة کی آیت 115 میں الله تعالی نے آدم علیہ السلام کی کمزوری کا ذکر بھی فرمایا ہے ۔
پھر آیت پڑھ کر اس کے ترجمے سے آگاہ کیا:
“اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں ارادے کی پختگی نہ پائی۔”
اب نانو جان نے حسن کی بجائے ابوبکر سے کہا: “اگلے سوال کا جواب آپ دیں۔ “ تو وہ چونک کر متوجہ ہوا اور بولا : جی جی !
نانو جان نے اس سے پوچھا: “شیطان نے انہیں کس طریقے سے اور کیسے بہکایا ؟”

سورة طہ کی آیات 120,121میں اس کا ذکر ہے ۔ ابوبکر نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
اس نے سورة طہ کھول کر آیات کی تلاوت کی اور ترجمہ پڑھنے لگا۔

“پھر شیطان نے انکے دل میں وسوسہ ڈالا۔ اور کہا کہ آدم بھلا میں تمکو ایسا درخت بتاؤں جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہو اور ایسی بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو۔ سو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر انکی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ اپنے اوپر بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مقصد سے بے راہ ہو گئے۔”
شاباش ! بالکل صحیح نانو جان کے چہرے پر حیرت دکھائی دے رہی تھی وہ مسکرا کر ابوبکر کو دیکھ رہی تھیں۔ خوشی ان کے چہرے پر نور بن کر چمک رہی تھی۔ ابوبکر کو بے ساختہ ان پر پیار آگیا ۔
پھر نانو جان حرا کی طرف متوجہ ہوئیں اور اس سے پوچھا:” اس کی مزید تفصیل کس سورت میں ہے ؟”
حرا نے جواب دیا : سورة اعراف کی آیات 20,21,22 میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے ۔اس نے آیات کی تلاوت کے بعد ترجمہ سنایا:

“تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ انکی شرمگاہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ان پر کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔ غرض مردود نے دھوکا دے کر انکو معصیت کی طرف کھینچ ہی لیا سو جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھالیا تو انکی شرمگاہیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے اور ستر چھپانے لگے اور انکے پروردگار نے انکو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔”

“بالکل صحیح جواب ، شاباش ! “ نانو جان نے کہا۔
حرا کا چہرہ سرخ سکارف میں خوشی سے دمک اٹھا۔
بشری آپ بتائیں پھر ان کے ساتھ کیا ہوا؟
بشری نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا: الله تعالی نے ان سب کو زمین پر اتار دیا ، اس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت چھتیس اور سینتیس میں ہے۔ حسب معمول اس نے بھی آیات کی تلاوت کی اور ترجمہ بیان کیا۔
“پھر شیطان نے دونوں کو اس طرف کے بارے میں پھسلا دیا اور جس عیش و نشاط میں تھے اس سے انکو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ بہشت بریں سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانہ اور معاش مقرر کر دیا گیا ہے۔ پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے اور معافی مانگی تو اسنے انکا قصور معاف کر دیا بیشک وہ معاف کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔”
حسن ! کیا آپ کو حضرت آدم اور حوا علیھما السلام کی دعا یاد ہے جو اس غلطی کا إحساس ہوجانے پر وہ مانگتے رہے۔ نانو جان نے اچانک حسن سے سوال کیا تو وہ چونک کر دیکھنے لگا۔ پھر جھٹ سے بولا:
جی نانو جان ! حضرت آدم اور حوا علیھما السلام کی دعا تو ہم ہر روز نماز میں پڑھتے ہیں ۔ حسن دعا پڑھنے لگا:
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

نانوجان نے سورة اعراف کی آیت نمبر تئیس کھول کر اس کا ترجمہ بیان کیا:

“دونوں عرض کرنے لگے کہ اے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔”
اب کنول کی باری تھی جو کچھ گھبرائی ہوئی سی لگ رہی تھی ۔ نانو جان نے جب اس سے پوچھا:
الله تعالی نے زمین پر اتارتے ہوئے کیا فرمایا اور کس طرح انسان کو شیطان کے شر سے بچنے کی تلقین کی :
کنول نے تیزی سے آیات کی تلاوت شروع کر دی اس کی جلد بازی دیکھ کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ گھبرا کر کہنے لگی سورة اعراف کی اگلی آیات میں اس کا ذکر ہے۔
اردو ترجمہ:
فرمایا تم سب بہشت سے اتر جاؤ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت خاص تک زمین میں ٹھکانہ اور زندگی کا سامان کر دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے قیامت کو زندہ کر کے نکالے جاؤ گے۔
اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہاری شرمگاہوں کو چھپائے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر انکو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اسکے بھائی بند تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انکو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
سب لوگ پوری توجہ سے تلاوت قرآن مجید اور اس کا ترجمہ سن رہے تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب کچھ سامنے دکھائی دے رہا ہو۔
نانو جان نے کہا قرآن مجید میں حضرت آدم اور حوا علیھما السلام کا قصہ اسی طرح بیان ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ الله تعالی نے ہمیں شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنے کی مزید ھدایات بھی دی ہیں۔ طلحہ آپ وہ ھدایات پڑھ کر سنائیں!
طلحہ بھائی نے کہا : جی ضرور۔
سورة طہ میں الله تعالی نے انسان کو شیطان کے شر سے بچنے کی تلقین ان الفاظ میں فرمائی ہے۔ طلحہ بھائی نے اپنی خوبصورت آواز میں سورة طہ کی آیات 122 , 123 کی تلاوت کی ، پھر ان کا ترجمہ پڑھ کر سنایا ۔

“پھر انکے پروردگار نے انکو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔”

الله کریم ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور گمراہی سے بچائے۔ نانو جان نے یہ کہنے کے بعد باآواز بلند مجلس کے خاتمے کی دعا پڑھی اور سب کو نہایت خوبصورت پیکنگ میں قرآن مجید کا تحفہ دیا۔ جسے دیکھ کر ان کی خوشی دوبالا ہوگئی۔
اس طرح ایک یادگار دن اپنے اختتام کو پہنچا۔
 
Top