بس

الف نظامی

لائبریرین
غمگسار اپنے ہیں سرکار یہ بس دیکھا ہے
غم کے بارے میں نہیں جان سکے ہم کیا ہے​

ناظرین و قارین ایسا شعر لکھیں جس میں “بس“ آتا ہو۔
شروع میں، درمیان میں، آخر میں۔
 
جواب

مجید امجد کی نظم کا ایک حصہ پیش خدمت ہے

اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا
مگر ہائے ظالم زمانے کی رسمیں
ہیں کڑواہٹیں جن کی امرت کی رس میں
نہیں میرے بس میں نہیں میرے بس میں

نذیر تبسم کا شعر ہے

نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی
اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی
بس اک طرزِ رفاقت ہے نبھاتے ہیں جسےورنہ
بہت سے دوستوں سے دوستی اچھی نہیں لگتی

غالب کا ایک شعر ہے

کیا خوب تم غیر کو بوسہ نہیں دیا
بس چپ رہو ہمارے بھی منہ زبان ہے

اور بسکہ سے دو اشعار چچا چچا غالب کے

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں‌انساں ہونا

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِپا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا
 

شمشاد

لائبریرین
بس اک وقت کا خنجر میری تلاش میں ہے
جو روز بھیس بدل کر میری تلاش میں ہے

میں قطرہ ہوں میرا الگ وجود تو ہے
ہوا کرئے جو سمندر میری تلاش میں ہے
(کرشن بہاری نور)
 

شمشاد

لائبریرین
بس اک جھجھک ہے حالِ دل سنانے میں
کہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں

برس پڑی تھی جو رُخ سے نقاب اٹھانے میں
وہ چاندنی ہے ابھی تک میرے غریب خانے میں
(کیفی اعظمی)
 

شمشاد

لائبریرین
بس اک نگاہِ کرم ہے کافی اگر انہیں پس و پیش نہیں ہے
زہے تمنا کہ میری فطرت اسیرِ حرص و ہوس نہیں ہے

نظر سے صیاد دور ہو جا یہاں تیرا مجھ پہ بس نہیں ہے
چمن کو برباد کرنے والے یہ آشیاں ہے قفس نہیں ہے
(شکیل بدایونی)
 

توقیر

محفلین
.
ساری دنیا میں فقط ایک اُجالے کے لیے
بس میرا گھر ہی ملا تم کو جلانے کیے لئے
جانے یہ کیسی مصیبت ہے میرے سینے میں
یاد کرتا ہوں روز تمہیں کو بھلانے کے لیے
.
 

عبدالجبار

محفلین
ہر ایک مسئلے کا حل نکال رکھتی تھی
ذہین تھی مجھے حیرت میں ڈال رکھی تھی
بس ایک وہ کہ جسے گھاؤ میں دکھاتا تھا
بس ایک وہ کہ جو اندوہِ حال رکھتی تھی​
 

عبدالجبار

محفلین
اُس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہمی سے حساب کرتی نہیں
یہ محبت ہے سُن! زمانے سُن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں​
 

شمشاد

لائبریرین
سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں‌ ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
(چچا)
 

عمر سیف

محفلین
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
حدِ نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے
یہ کس مقام پر حیات مجھ کو لے کے آ گئی
نہ بس خوشی پہ ہے جہاں نہ غم پہ اختیار ہے
 

عیشل

محفلین
بڑی مدّت کے بعد دیکھا ہے تجھ کو روبرو
اک خوشبو سی پھیل گئی ہے چار سو
میری خواہشوں کا پیڑ بے ثمر ہوگیا
میری پہلی بھی آخری بھی ہر خواہش ہے بس تو
 
Top