برائے تنقید و تبصرہ....

مانی عباسی

محفلین
کرے جتنی بھی خواہش طائرِآزاد کا دل
ہر اک پنچھی پہ آوے ہے کہاں صیاد کا دل

نہ جوئے شیر سے مطلب نہ شیریں کی نظر سے
میں ٹھہرا عشق مجھ کو چاہیئے فرہاد کا دل

تجھے یوں دیکھ کر اس حالت خواروزبوں میں
لہو کے اشک رووے ہے ترے اجداد کا دل

ہم اب کیوں نکہتِ بادِ بہاری کو بلائیں
نہ باغِ خلد ہے نے سینے میں شداد کا دل

کوئی تدبیر کیجے مجھ کو جاں سے مارنے کی
یہ کہہ کہہ تھک گیا ہے بندہٗ ناشاد کا دل

یوں تو مانی لبوں پر ہے ہنسی پر در حقیقت
مرے سینے میں دھڑکے ہے کسی غم زاد کا دل​
 
مدیر کی آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
نہ جوئے شیر سے مطلب نہ شیریں کی نظر سے
میں ٹھہرا عشق مجھ کو چاہیئے فرہاد کا دل

اور

ہم اب کیوں نکہتِ بادِ بہاری کو بلائیں
نہ باغِ خلد ہے نے سینے میں شداد کا دل
یہ دونوں دو لخت ہیں یا مفہوم تک م یری نظر نہیں پہنچ سکی۔ واضح کرو کم از کم۔

یوں تو مانی لبوں پر ہے ہنسی پر در حقیقت
مرے سینے میں دھڑکے ہے کسی غم زاد کا دل
÷÷یوں تو جو یُتو تقطیع ہو رہا ہے، اچھا نہیں لگتا۔
ہنسی ہے یوں تو مانی لب پہ لیکن در حقیقت
بہتر ہو سکتا ہے÷
باقی اشعار درست ہیں
 

مانی عباسی

محفلین
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
نہ جوئے شیر سے مطلب نہ شیریں کی نظر سے
میں ٹھہرا عشق مجھ کو چاہیئے فرہاد کا دل

اور

ہم اب کیوں نکہتِ بادِ بہاری کو بلائیں
نہ باغِ خلد ہے نے سینے میں شداد کا دل
یہ دونوں دو لخت ہیں یا مفہوم تک م یری نظر نہیں پہنچ سکی۔ واضح کرو کم از کم۔
فرہاد والا شعر یہ کہتا کہ عشق کو نہ نہر کی غرض ھے نہ یہ لیلی کی نظر کی...اسے بس فرھاد سا دل درکار ھے

شداد والا کہتا ھے کہ نہ مرے دل نہ کسی باغ کو جنت بنانے کی تمنا ھے ... میں بہار کو بلا کے کیا کروں
 

مانی عباسی

محفلین
یوں تو مانی لبوں پر ہے ہنسی پر در حقیقت
مرے سینے میں دھڑکے ہے کسی غم زاد کا دل
÷÷یوں تو جو یُتو تقطیع ہو رہا ہے، اچھا نہیں لگتا۔
ہنسی ہے یوں تو مانی لب پہ لیکن در حقیقت
بہتر ہو سکتا ہے÷
باقی اشعار درست ہیں
آپکا تجویز کردہ مصرع پسند آیا...شکریہ
 
Top