برائے اصلاح

یاسر علی

محفلین
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:


سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں ۔
تو دل بے ساختہ اپنے مچلتے ہیں ۔

نجانے کیوں جہاں اس وقت جلتا ہے ؟
وہ گل رخ جب مرے ہمراہ چلتے ہیں۔

جلاتے صرف مُردوں کو ہیں ہندو پر
محبت میں تو عاشق زندہ جلتے ہیں۔

تمہی سے فون پر جب بات کرتا ہوں
مرے غمگین پھر لمحات ڈھلتے ہیں۔
یا
مرے پھر ہجر کے لمحات ڈھلتے ہیں۔

کہ پتھر دل رہِ الفت پہ ہی آ کر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں۔

وہ اک دن لازمی منزل کو ہیں پاتے
فقط جو ایک ہی رستے پہ چلتے ہیں۔

قسم سے تب مرا دل ٹوٹ جاتا ہے
وہ وعدہ کر کے جب میثم بدلتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں ۔
تو دل بے ساختہ اپنے مچلتے ہیں ۔
.. کتنے دل ہیں تمہارے؟ شوخ تو ممکن ہیں کہ کئی ہوں جو جمع میں بات کر رہے ہو

نجانے کیوں جہاں اس وقت جلتا ہے ؟
وہ گل رخ جب مرے ہمراہ چلتے ہیں۔
.. ٹھیک ہے لیکن جمع کا صیغہ پسند نہیں ایا۔ گل رخ تو واحد ہی ہے

جلاتے صرف مُردوں کو ہیں ہندو پر
محبت میں تو عاشق زندہ جلتے ہیں۔

تمہی سے فون پر جب بات کرتا ہوں
مرے غمگین پھر لمحات ڈھلتے ہیں۔
یا
مرے پھر ہجر کے لمحات ڈھلتے ہیں۔

کہ پتھر دل رہِ الفت پہ ہی آ کر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں۔
... ہی" بھرتی کا ہے، بھرتی کے الفاظ سے بچا کرو، پتھر دل لوگوں کی صفت ہے، لوگ پگھلتے ہیں یا دل؟ عجیب مفہوم کا شعر ہے

وہ اک دن لازمی منزل کو ہیں پاتے
فقط جو ایک ہی رستے پہ چلتے ہیں۔
.. یہ بھی مفہوم کے اعتبار سے عجیب ہے، اگر وہ ایک راستہ ہی غلط ہو تو؟
پہلے مصرع کی بنت بھی اچھی نہیں 'ہیں لاتے' کی وجہ سے
ضرور اک دن وہ اپنی پائیں گے منزل

قسم سے تب مرا دل ٹوٹ جاتا ہے
وہ وعدہ کر کے جب میثم بدلتے ہیں
... ٹھیک ہے
 

یاسر علی

محفلین
جناب اب دیکھئے گا۔

سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں۔
مرے جذبات دل کے تب مچلتے ہیں ۔


جو رہِ عشق پر آ جائیں وہ اکثر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں ۔

اندھیرا ان کی دنیا میں نہیں آتا
فقط جو روشنی کے رہ پہ چلتے ہیں۔
یا
فقط جو روشنی کی رہ پہ چلتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

یاسر علی

محفلین
جناب اب دیکھئے گا۔

سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں۔
مرے جذبات دل کے تب مچلتے ہیں ۔


جو رہِ عشق پر آ جائیں وہ اکثر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں ۔

اندھیرا ان کی دنیا میں نہیں آتا
فقط جو روشنی کے رہ پہ چلتے ہیں۔
یا
فقط جو روشنی کی رہ پہ چلتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
شوخ تو اب بھی جمع کے صیغے میں ہے۔ جب تک کہ اسے مخصوص نہیں کیا جائے، جمع کا صیغہ غلط ہی ہے۔ شوخ نکلتا ہے درست ہوتا، یا اس محبوب کے لئے محض "وہ" استعمال کیا جائے تو تحریم کے ساتھ جمع کا صیغہ درست ہو سکتا ہے۔ جیسے
وہ گھر سے جب بھی بن ٹھن کر نکلتے ہیں۔
تیسرا شعر، رہ مؤنث ہے، اس لئے روشنی کی رہ ہی درست ہے۔
دوسرا شعر پسند نہیں آیا، اسے نکال دو
 

یاسر علی

محفلین
شوخ تو اب بھی جمع کے صیغے میں ہے۔ جب تک کہ اسے مخصوص نہیں کیا جائے، جمع کا صیغہ غلط ہی ہے۔ شوخ نکلتا ہے درست ہوتا، یا اس محبوب کے لئے محض "وہ" استعمال کیا جائے تو تحریم کے ساتھ جمع کا صیغہ درست ہو سکتا ہے۔ جیسے
وہ گھر سے جب بھی بن ٹھن کر نکلتے ہیں۔
تیسرا شعر، رہ مؤنث ہے، اس لئے روشنی کی رہ ہی درست ہے۔
دوسرا شعر پسند نہیں آیا، اسے نکال دو
بہت بہت شکریہ جناب!
 
Top