برائے اصلاح

یاسر علی

محفلین
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:

نظم
(خیال)


بیٹھے بیٹھے حسین پر دلکش
اس کا اکثر مری طرف ہی خیال
حسن کے پیرہن میں ہی ملبوس
نازنیں چال چل کے آتا ہے

اسکی پازیب کی ہی چھن چھن سے
نہ کبھی ختم ہونے والا سا
دلنشیں ساز چھیڑا جاتا ہے

چوڑیوں کی نحیف سی دھن پر
قلب دیوانہ رقص کرتا ہے

جب اٹھائے نقاب چہرے سے
مہ جبیں سے کرن نکلتی ہے
میرے تاریک کمرے کے جو ہر
ایک حصے کو چمکا جاتی ہے

مسکراہٹ لبوں پہ لائے جب
اک عجب دلفریب سی خوشبو
میرے کمرے کے چار جانب ہی
پھیل جاتی ہے رقص کرتی ہے

کاکلیں جب ذرا سی لہرائیں
جانفزا سی نسیم چلتی ہے
جو مرے دل کے گوشے گوشے کو
پیکرِ تازگی بخشتی ہے۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
بڑی گنجلک نظم ہے، کہیں لگتا ہے کہ محبوب کا خیال آ رہا ہے اور شروع اس سے ہو رہی ہے کہ محبوب آپ کو یاد کر رہا ہے!
تکنیکی اغلاط تو پھر دور ہو جائیں گی پہلے خیال کو ہی درست کر لیں
 

یاسر علی

محفلین
معذرت سر ۔
میں نے تو کہیں ذکر ہی نہیں کیا کہ محبوب مجھے یاد کر رہا ہے۔۔شاید یہ میری غلط فہمی ہے ۔
کہاں مجبھے محبوب یاد کر رہا ہے اس کے بارے میں کچھ سمجھا نہیں ۔۔۔
 
اس کا اکثر مری طرف ہی خیال
یہ مصرعہ الجھا ہوا ہے، واضح نہیں ہوتا کہ ’’اس کا خیال‘‘ آپ کی جانب متوجہ ہوتا ہے، یا آپ کو اس کا ’’خیال آتا‘‘ ہے

بیٹھے بیٹھے حسین پر دلکش
اس کا اکثر مری طرف ہی خیال
حسن کے پیرہن میں ہی ملبوس
نازنیں چال چل کے آتا ہے

اسکی پازیب کی ہی چھن چھن سے
نہ کبھی ختم ہونے والا سا
دلنشیں ساز چھیڑا جاتا ہے
’’حسین، پر دلکش‘‘ کی کیا ضرورت ہے یہاں بھئی ۔۔۔ جو حسین ہوگا، وہی دلکش ہوگا ناں! پھر یہ کلمۂ تضاد کیوں؟؟؟
نازنین چال کیا ہوتی ہے بھئی؟؟؟ میاں ان ’’گلزاری‘‘ محاوروں سے اجتناب کیا کریں، یہ عوامی نغموں میں تو گوارہ ہوسکتے ہیں، سنجیدہ شاعری میں روا نہیں ہوتے۔
پھر، ختم نہ ہونے والا ساز چہ معنی دارد؟؟؟ ختم نہ ہونے والا نغمہ تو ہوسکتا ہے، دائماً بجنے والا ساز بھی ہوسکتا ہے، لیکن ختم نہ ہونے والا ساز کوئی چیز نہیں۔
بیٹھے بیٹھے کبھی اچانک ہی
اس کا دل گیر، دلگداز خیال
ایک پوشاکِ حسن پہنے ہوئے
گو دبے پاؤں دل میں آتا ہے
لیکن آہٹ تو پھر بھی ہوتی ہے
کوئی نغمہ سا چھیڑ جاتا ہے

چوڑیوں کی نحیف سی دھن پر
قلب دیوانہ رقص کرتا ہے
نحیف سی دھن کیا ہوتی ہے؟؟؟
یہ دو مصرعے نکال ہی دو تو بہتر ہے۔

جب اٹھائے نقاب چہرے سے
مہ جبیں سے کرن نکلتی ہے
میرے تاریک کمرے کے جو ہر
ایک حصے کو چمکا جاتی ہے
مہ جبیں تو خود محبوب کو کہا جاتا ہے، اس لئے مہ جبیں سے کرن نکلنا عجیب سی بات لگتی ہے۔
تیسرے مصرعے کی بنت ایسی ہے کہ روانی میں ’’جو، ہر‘‘ ، جَوہر پڑھا جاتا ہے جس سے سارا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔
چوتھے مصرعے میں چمکا کی الف کا اسقاط بھی اچھا نہیں لگتا۔
جونہی ہٹتا اس کے رخ سے نقاب
اس کے چہرے سے ضَو نکلتی ہے
یکایک چھٹتا ہے اندھیرا یوں
گویا کمرے میں شمع جلتی ہے

مسکراہٹ لبوں پہ لائے جب
اک عجب دلفریب سی خوشبو
میرے کمرے کے چار جانب ہی
پھیل جاتی ہے رقص کرتی ہے
بات کرنے کو لب ہلائے جب
ایسا لگتا ہے پھول جھڑتے ہیں
رقص کرتیں ہیں خوشبوئیں ہرسو
کیف و مستی سے جھومتا ہوں مَیں

کاکلیں جب ذرا سی لہرائیں
جانفزا سی نسیم چلتی ہے
جو مرے دل کے گوشے گوشے کو
پیکرِ تازگی بخشتی ہے۔
جاں فزا کو الگ الگ لکھیں، ملا کر لکھنا اب درست نہیں سمجھا جاتا۔
پہلے اور دوسرے مصرعے میں سی واضح طور پر بھرتی کا ہے۔ بھئی میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ خود ہی دیکھا کریں کہ کون سے لفظ کا شعر کے معنی سے ربط ہے اور کون سا محض وزن پورا کر رہا ہے۔
چوتھا مصرعہ بحر سے خارج ہے، قافیہ بھی درست نہیں۔
اور جب زلف اس کی لہرائے
چلنے لگتی ہے ایک بادِ نسیم
میرے دل کے ہر ایک گوشے کو
جو بنا دیتی ہے وجودِ سلیم
 
Top