برائے اصلاح

الف عین صاحب
عظیم صاحب

مرا ان سے تو اتنا سلسلہ ہوتا
کہ بن کے خاک قدموں میں بچھا ہوتا

سکوں مل جاتا مجھ کو دو جہانوں کا
اگر میں ان کے در پر ہی پڑا ہوتا

کبھی جالی کبھی در چومتا رہتا
بڑا پر کیف یہ سب سلسلہ ہوتا

ہجوم -فکر سے آزاد ہو جاتا
اگر کوئے ء محمد میں بسا ہوتا

اگر میں دیکھ لیتا وہ رخ-انور
مرض میرا نہ پھر یوں لادوا ہوتا


بڑا ہی پر سکوں ہوتا زمانہ بھی
جہاں میں گر نظام-مصطفے ہوتا

مجھے یوں جینے سے عابد تو اچھا تھا
در-اقدس پہ جا کے میں مرا ہوتا

وہاں مر کے بھی عابد میں کہاں مرتا
زمانے کی نظر سے بس چھپا ہوتا
 

عظیم

محفلین
مرا ان سے تو اتنا سلسلہ ہوتا
کہ بن کے خاک قدموں میں بچھا ہوتا
۔۔۔ بحر شاید مفاعیلن تین بار ہے، اگر یہ واقعی کوئی بحر ہے!
پہلے میں 'تو' بھرتی کا لگ رہا ہے۔
مرا ان سے کچھ اتنا سلسلہ ہوتا، میرے خیال میں بہتر رہے گا
دوسرے میں 'کے' کی جگہ مکمل 'کر' لایا جا سکتا ہے تو وہی استعمال کریں کہ روانی کے اعتبار سے بہتر ہے

سکوں مل جاتا مجھ کو دو جہانوں کا
اگر میں ان کے در پر ہی پڑا ہوتا
۔۔۔۔ بحر اگر مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہوتی تو بہتر تھا۔ یہ بحر شاید مستعمل نہیں ہے یا اس کا کوئی وجود ہی نہیں جو آپ نے استعمال کی ہے یا جس میں لگ رہی ہے یہ غزل۔
مثلاً سکوں مل جاتا مجھ کو دو جہاں کا
اگر یونہی دیکھا جائے مطلب اسی بحر مفاعیلن تین بار میں تو دوسرے مصرع میں 'ہی' معنوی اعتبار سے اضافی لگ رہا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ مصرع
اگر میں ان کے در پر ہی پڑا رہتا۔ ہونا چاہیے تھا

کبھی جالی کبھی در چومتا رہتا
بڑا پر کیف یہ سب سلسلہ ہوتا
۔۔۔۔ درست

ہجوم -فکر سے آزاد ہو جاتا
اگر کوئے ء محمد میں بسا ہوتا
۔۔۔یہ بھی

اگر میں دیکھ لیتا وہ رخ-انور
مرض میرا نہ پھر یوں لادوا ہوتا
۔۔۔۔ ٹھیک

بڑا ہی پر سکوں ہوتا زمانہ بھی
جہاں میں گر نظام-مصطفے ہوتا
۔۔۔ بڑا ہی؟ 'ہی' عجیب لگ رہا ہے!

مجھے یوں جینے سے عابد تو اچھا تھا
در-اقدس پہ جا کے میں مرا ہوتا
۔۔۔۔ جینے کی ے گر رہی ہے،
مجھے جینے سے یوں اچھا تھا یہ عابد
دوسرے میں بھی 'کے' کی جگہ 'کر' مکمل آ سکتا ہے۔

وہاں مر کے بھی عابد میں کہاں مرتا
زمانے کی نظر سے بس چھپا ہوتا
۔۔۔۔۔اس میں بھی پہلے مصرع میں 'کر' مکمل لے آئیں۔ اس کے علاوہ 'کہاں' کی بجائے 'نہیں' کیسا رہے گا؟
 
مرا ان سے تو اتنا سلسلہ ہوتا
کہ بن کے خاک قدموں میں بچھا ہوتا
۔۔۔ بحر شاید مفاعیلن تین بار ہے، اگر یہ واقعی کوئی بحر ہے!
پہلے میں 'تو' بھرتی کا لگ رہا ہے۔
مرا ان سے کچھ اتنا سلسلہ ہوتا، میرے خیال میں بہتر رہے گا
دوسرے میں 'کے' کی جگہ مکمل 'کر' لایا جا سکتا ہے تو وہی استعمال کریں کہ روانی کے اعتبار سے بہتر ہے

سکوں مل جاتا مجھ کو دو جہانوں کا
اگر میں ان کے در پر ہی پڑا ہوتا
۔۔۔۔ بحر اگر مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہوتی تو بہتر تھا۔ یہ بحر شاید مستعمل نہیں ہے یا اس کا کوئی وجود ہی نہیں جو آپ نے استعمال کی ہے یا جس میں لگ رہی ہے یہ غزل۔
مثلاً سکوں مل جاتا مجھ کو دو جہاں کا
اگر یونہی دیکھا جائے مطلب اسی بحر مفاعیلن تین بار میں تو دوسرے مصرع میں 'ہی' معنوی اعتبار سے اضافی لگ رہا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ مصرع
اگر میں ان کے در پر ہی پڑا رہتا۔ ہونا چاہیے تھا

کبھی جالی کبھی در چومتا رہتا
بڑا پر کیف یہ سب سلسلہ ہوتا
۔۔۔۔ درست

ہجوم -فکر سے آزاد ہو جاتا
اگر کوئے ء محمد میں بسا ہوتا
۔۔۔یہ بھی

اگر میں دیکھ لیتا وہ رخ-انور
مرض میرا نہ پھر یوں لادوا ہوتا
۔۔۔۔ ٹھیک

بڑا ہی پر سکوں ہوتا زمانہ بھی
جہاں میں گر نظام-مصطفے ہوتا
۔۔۔ بڑا ہی؟ 'ہی' عجیب لگ رہا ہے!

مجھے یوں جینے سے عابد تو اچھا تھا
در-اقدس پہ جا کے میں مرا ہوتا
۔۔۔۔ جینے کی ے گر رہی ہے،
مجھے جینے سے یوں اچھا تھا یہ عابد
دوسرے میں بھی 'کے' کی جگہ 'کر' مکمل آ سکتا ہے۔

وہاں مر کے بھی عابد میں کہاں مرتا
زمانے کی نظر سے بس چھپا ہوتا
۔۔۔۔۔اس میں بھی پہلے مصرع میں 'کر' مکمل لے آئیں۔ اس کے علاوہ 'کہاں' کی بجائے 'نہیں' کیسا رہے گا؟
جی جی بحر مستعمل ہے ۔۔ ہزج مسدس سالم۔۔ بہت شکریہ
 
Top