برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 10, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے

    طبیعت سے ہم لا ابالی رہے ہیں
    ہمیشہ تکلف کے شاکی رہے ہیں

    نگاہوں سے ان کی جو مے پی رہے ہیں
    تخیل کے زیرِ نگیں جی رہے ہیں

    محبت میں دھوکے بہت ہیں، مگر ہم
    ہمیشہ سے مثبت خیالی رہے ہیں

    برا کیا جو نخرے اٹھائیں کسی کے
    کسی وقت ہم بھی تو ضدی رہے ہیں

    حقیقت میں ناکام ہوتے ہیں اکثر
    تصور میں ہیرو جو فلمی رہے ہیں

    کسی دن مکمل چکا دیں گے یارو!
    حساب اپنے اب تک جو باقی رہے ہیں
    ترے بندے خود کا مٹا کر خدایا!
    نہ رفعت کے طالب نہ خاکی رہے ہیں

    ترستے ہیں مے کی جو اک بوند کو اب
    کسی میکدے میں وہ ساقی رہے ہیں

    گلوں کے یہ اترے ہوئے خشک چہرے
    خزاؤں سے پہلے گلابی رہے ہیں

    حقیقت کی آنکھوں سے دیکھا جنھیں وہ
    فسانہ کبھی یا کہانی رہے ہیں

    انھیں توڑنا سب سے آساں ہے شاید
    جو رشتے زبانی کلامی رہے ہیں

    بڑھاپے میں ناصح بنے نیک ہو کر
    جو اپنی جوانی میں عاصی رہے ہیں

    سمجھتی رہیں دھڑکنیں غیر جن کو
    کبھی قصرِ دل کے مقامی رہے ہیں

    بڑے نام ور چند اردو کے شاعر
    ولیؔ، میرؔ ، بیدارؔ، حالیؔ رہے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے تو درست لگ رہی ہے غزل
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
     

اس صفحے کی تشہیر