1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 21, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔

    بہاروں کے سبب سارے چمن میں رونق آئی ہے
    مگر اب تک لبِ گل پر خزاؤں کی دہائی ہے

    نسیمِ صبح آنگن میں اچانک مسکرائی ہے
    اڑا کر شہر سے تیرے معطر خاک لائی ہے

    خطیبِ شہر اب جمعہ کے خطبے میں سنائے گا
    روایت اس نے گھر بیٹھے ہوئے جو خود بنائی ہے

    ہزاروں وسوسوں کا شور پیچھے چھوڑ آیا ہوں
    طبیعت کو بڑی مشکل سے خاموشی سکھائی ہے

    فقط چند آنسوؤں کے نام پر سودا ہوا دل کا
    بہت سستی کسی نے پیار کی قیمت لگائی ہے

    کبھی ٹوٹے ہوئے دل پر مجھے افسوس تھا لیکن
    اسی ٹوٹے ہوئے دل نے مجھے الفت سکھائی ہے

    محبت کے مضامین اس طرح وارد ہوئے دل پر
    بنا موسم کے جیسے دشتِ غم میں بارش آئی ہے

    نکھر کر خوبصورت ہو گئی وہ پھول کی پتی
    سحر ہونے پہ جو شبنم کی بوندوں سے نہائی ہے

    فقیہِ شہر کے فتووں کی زد میں آ گیا کوئی
    ہجومِ جہل نے پھر سے کوئی بستی جلائی ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,589
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے تو پوری غزل درست لگ رہی ہے صرفِ مطلع میں لب گل سے واحد پھول کی واحد پنکھڑی سے بات بنتی نظر نہیں آتی اگرچہ اساتذہ کے یہاں بھی ایسی سند مل جائے گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر کیا یہ متبادل موجودہ مصرعے سے بہتر رہے گا

    مگر پھولوں کے ہونٹوں پر خزاؤں کی دہائی ہے
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,589
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے تو بہتر لگ رہا ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر