برائے اصلاح

فلسفی

محفلین
سر الف عین


پکڑی ہوئی ہے ہاتھ میں بوتل شراب کی
رندوں کو فکر ہے کہاں یومِ حساب کی

محفل سے رند لوٹ کے مسجد میں باوضو
سنتے ہیں روز شیخ سے باتیں عذاب کی

ساقی نشہ نہیں رہا آبِ نشاط میں
مدہوش کر گئیں مگر آنکھیں جناب کی

تائب ہوئے ہی تھے کہ انھیں دیکھ کر قریب
بیکار ہو گئی تگ و دو انقلاب کی

لفظوں پر اعتبار تو بالکل ہی اٹھ گیا
تاویل خط میں دیکھ کے خانہ خراب کی

کچے گھڑے کو ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا عشق
بپھری ہوئی تھیں سامنے لہریں چناب کی

عاشق ترے عجیب ہیں دنیا میں اے خدا
دوزخ کا جن کو خوف نہ لالچ ثواب کی

ہاتھوں میں فلسفیؔ کے بھی تسبیح آ گئی
جس وقت ختم ہو گئی مدت شباب کی​
 

یاسر شاہ

محفلین
داد دینے حاضر ہوا ہوں -یہ اشعار پسند آئے -

ساقی نشہ نہیں رہا آبِ نشاط میں
مدہوش کر گئیں مگر آنکھیں جناب کی

تائب ہوئے ہی تھے کہ انھیں دیکھ کر قریب
بیکار ہو گئی تگ و دو انقلاب کی

لفظوں پر اعتبار تو بالکل ہی اٹھ گیا
تاویل خط میں دیکھ کے خانہ خراب کی

کچے گھڑے کو ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا عشق
بپھری ہوئی تھیں سامنے لہریں چناب کی

عاشق ترے عجیب ہیں دنیا میں اے خدا
دوزخ کا جن کو خوف نہ لالچ ثواب کی

ہاتھوں میں فلسفیؔ کے بھی تسبیح آ گئی
جس وقت ختم ہو گئی مدت شباب کی



ما شاء اللہ محترم الف عین صاحب کی اصلاح خوب رنگ لائی ہے -
 

فلسفی

محفلین
داد دینے حاضر ہوا ہوں -یہ اشعار پسند آئے -
شکریہ محترم
ما شاء اللہ محترم الف عین صاحب کی اصلاح خوب رنگ لائی ہے -
کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالی سر کوجزائے خیر دے۔ جتنی محنت اور شفقت سے سر اصلاح کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، یہ انھی کا خاصہ ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
مطلع میں 'کہاں' محض کہ تقطیع ہو رہا ہے الفاظ بدل کر کچھ بہتر روانی کی کوشش کریں جیسے
کچھ فکر بھی ہے رندوں کو یومِ حساب کی( یا یوم الحساب کی)
دوزخ کا جن کو خوف نہ لالچ ثواب کی
لالچ مؤنث نہیں مذکر ہے یہاں چاہت ثواب کی لایا جا سکتا ہے
باقی درست ہے
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
مطلع میں 'کہاں' محض کہ تقطیع ہو رہا ہے الفاظ بدل کر کچھ بہتر روانی کی کوشش کریں جیسے
کچھ فکر بھی ہے رندوں کو یومِ حساب کی( یا یوم الحساب کی)
سر یہاں مار کھا رہا ہوں، کس لفظ کر گرانا مناسب ہے کس کو نہیں صحیح طرح سمجھ نہیں پا رہا۔ آپ کے عطا کردہ مصرعے کے علاوہ اگر ترتیب بدل دوں تو یہ مناسب رہے گا؟

رندوں نے فکر چھوڑ کے یومِ حساب کی
پکڑی ہوئی ہے ہاتھ میں بوتل شراب کی

دوزخ کا جن کو خوف نہ لالچ ثواب کی
لالچ مؤنث نہیں مذکر ہے یہاں چاہت ثواب کی لایا جا سکتا ہے
سر ان سب میں سے زیادہ بہتر کون سا ہے چاہت، خواہش، غایت، حاجت، رغبت

شکریہ سر
 

فلسفی

محفلین
مطلع اب درست ہو گیا ہے

شکریہ سر

رندوں نے فکر چھوڑ کے یومِ حساب کی
پکڑی ہوئی ہے ہاتھ میں بوتل شراب کی

محفل سے رند لوٹ کے مسجد میں باوضو
سنتے ہیں روز شیخ سے باتیں عذاب کی

ساقی نشہ نہیں رہا آبِ نشاط میں
مدہوش کر گئیں مگر آنکھیں جناب کی

تائب ہوئے ہی تھے کہ انھیں دیکھ کر قریب
بیکار ہو گئی تگ و دو انقلاب کی

لفظوں پر اعتبار تو بالکل ہی اٹھ گیا
تاویل خط میں دیکھ کے خانہ خراب کی

کچے گھڑے کو ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا عشق
بپھری ہوئی تھیں سامنے لہریں چناب کی

عاشق ترے عجیب ہیں دنیا میں اے خدا
دوزخ کا جن کو خوف نہ چاہت ثواب کی

ہاتھوں میں فلسفیؔ کے بھی تسبیح آ گئی
جس وقت ختم ہو گئی مدت شباب کی​
 
Top