الفعین اور دیگر اساتذہ سے اصلاح کے لئے
----------------------------
بحرِ رمل مثن محذوف---------فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
-------------------------------
لگتا ہے یوں یہ کوئی وہم و گماں ہے زندگی
اِس جہاں میں انساں کا تو امتحاں ہے زندگی
جلوہ گر ہے زندگی تو کتنےہی انداز میں
قہقہے ہیں تو کہیں آہ و فغاں ہے زندگی
زندگی کے اس سفر میں وقفہ ہے یہ چار دن
اصل میں تو وہی محشر کا جہاں ہے زندگی
پائی ہے راہِ نجات اپنے عمل سے ہی یہاں
کچھ کی تو مرکے بھی عبرت کا نشاں ہے زندگی
کھو گیا ہے انساں دنیا کی ہوس میں اس قدر
اس لئے تو ہر کسی کی بنی دھواں ہے زندگی
جینا تو ایسےہےجیسے کوئی وادی خار دار
ہے یہ تو نا آساں اک بارِ گراں ہے زندگی
گزری اپنی تو حیات ارشد بس اک امید میں
اس عمر کے بعد ہی جائیں جہاں ہے زندگی
 

الف عین

لائبریرین
لگتا ہے یوں یہ کوئی وہم و گماں ہے زندگی
اِس جہاں میں انساں کا تو امتحاں ہے زندگی
۔۔۔دو لخت یعنی دونوں مصرعوں میں ربط نہیں لگتا۔ پہلا مصرع یوں ہو سکتا ہے
ایسا لگتا ہے کوئی وہم ۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ دونوں مصرعوں میں حروف کا اسقاط درست نہیں ۔ لگتا، انساں کے الف گرنا اور 'تو کی واو کا طویل کھنچنا اچھا نہیں

جلوہ گر ہے زندگی تو کتنےہی انداز میں
قہقہے ہیں تو کہیں آہ و فغاں ہے زندگی
۔۔پہلا مصرع روانی چاہتا ہے جیسے
جانے کتنے روپ میں ہیں اس کی جلوہ ریزیاں

زندگی کے اس سفر میں وقفہ ہے یہ چار دن
اصل میں تو وہی محشر کا جہاں ہے زندگی
۔۔۔وقفہ محض وقف تقطیع ہو رہا ہے اور'وہی' بحر سے خارج ہے
پائی ہے راہِ نجات اپنے عمل سے ہی یہاں
کچھ کی تو مرکے بھی عبرت کا نشاں ہے زندگی
۔۔۔۔عبرت کا نشاں؟ 'کی تو' میں کی کا محض ک، اور تو کا لمبا کھنچنا درست نہیں

کھو گیا ہے انساں دنیا کی ہوس میں اس قدر
اس لئے تو ہر کسی کی بنی دھواں ہے زندگی
۔۔'بن دھواں' تقطیع ہوتا ہے۔ مطلب بھی واضح نہیں

جینا تو ایسےہےجیسے کوئی وادی خار دار
ہے یہ تو نا آساں اک بارِ گراں ہے زندگی
۔۔۔۔جینا کا الف، آساں کا اں کا اسقاط درست نہیں۔
نا آساں؟ سمجھا نہیں

گزری اپنی تو حیات ارشد بس اک امید میں
اس عمر کے بعد ہی جائیں جہاں ہے زندگی
۔۔وہی بار بار حروف کا اسقاط گراں گزرتا ہے۔ مطلب بھی واضح نہیں
 
Top