استاد محترم الف عین صاحب
امجد علی راجا صاحب



یہی مریضءمحبت دوا تلاش کریں
کوئی بہانہ ملاقات کا تلاش کریں

عذاب سے نہیں رستہ فرار کا جب کوئی
تو پھر چلو سبھی اپنی خطا تلاش کریں

ضمیر جاگے کچھ ایسا ہمارے لوگوں کا
کہ سب خطاوں کی خود ہی سزا تلاش کریں

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
کہ میکدے میں کوئی پارسا تلاش کریں

جسے تمام گلستان سے محبت ہو
چلو ہم ایسا کوئی رہنما تلاش کریں


وہ آرہا ہے تو اس کی نشاط کی خاطر
اداس دل سے کوئی قہقہہ تلاش کریں



سکوت وہ کہ صدا اپنی لوٹ آتی ہے
ادھر کہاں کسی کی ہم صدا تلاش کریں


ملے گا گھر میں سرء طور کی نہیں حاجت
جو لوگ اپنے دلوں میں خدا تلاش کریں

جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
 
یہی مریضءمحبت دوا تلاش کریں
کوئی بہانہ ملاقات کا تلاش کریں
یہی سے مراد "مریضِ محبت" ہے یا "دوا" اگر آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عاشق بس اتنی سی دوا تلاش کرتے ہیں، تو مصرعہ یوں ہونا چاہیئے
مریضِ عشق بس اتنی دوا تلاش کریں
اگر میں آپ کا خیال نہیں سمجھ پایا تو وضاحت فرما دیں۔

عذاب سے نہیں رستہ فرار کا جب کوئی
تو پھر چلو سبھی اپنی خطا تلاش کریں

پہلے مصرعہ میں "جب" اضافی ہے۔
شعر کا خیال واضع نہیں ہو رہا۔ شاید آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بے گناہ سزا پا رہے ہیں تو اتنا تو معلوم ہونا چاہیئے کہ گناہ کیا ہے؟

عذاب میں "سبھی" کو کیوں گھسیٹ رہے ہو عابد بھیا :)

"خطا تلاش" کرنے کا کوئی مثبت اور تعمیری خیال لائیں تو خوب ہوگا، مثلاً

ہمارا کل تو نتیجہ ہمارے آج کا ہے
چلو پھر آج سے اپنی خطا تلاش کریں


ضمیر جاگے کچھ ایسا ہمارے لوگوں کا
کہ سب خطاوں کی خود ہی سزا تلاش کریں
اپنی خطائوں کا ازالہ کیا جاتا ہے نہ کہ خود کو سزا دی جاتی ہے

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
کہ میکدے میں کوئی پارسا تلاش کریں
پہلے مصرعہ میں روانی کی کمی ہے۔ یوں کیسا رہے گا؟
معززین کی محفل تو دیکھ لی ہم نے
تو میکدے میں ہی اب پارسا تلاش کریں


جسے تمام گلستان سے محبت ہو
چلو ہم ایسا کوئی رہنما تلاش کریں
دوسرا مصرعہ جتنا مضبوط ہے پہلا مصرعہ اتنا ہی کمزور۔ کوئی ایسی خوبی بیان کریں جس کی قوم کو اشد ضرورت ہو۔ کوئی ایسی خوبی جو ایک اچھے رہنما کی پہچان ہو۔ "گلستان سے محبت" ایک عام سا خیال ہے، آپ شاعر ہیں اور شاعر نیا خیال پیش کرتا ہے۔

اگر مزاحیہ غزل ہوتی تو حالاتِ حاضرہ کے مطابق ایک مزیدار شعر بن سکتا تھا

جو بعد میں یہ نہ پوچھے کہ "کیوں نکالا مجھے"
چلو ہم ایسا کوئی رہنما تلاش کریں


وہ آرہا ہے تو اس کی نشاط کی خاطر
اداس دل سے کوئی قہقہہ تلاش کریں
کہو لبوں سے کوئی قہقہہ تلاش کریں

سکوت وہ کہ صدا اپنی لوٹ آتی ہے
ادھر کہاں کسی کی ہم صدا تلاش کریں
"صدا تلاش" کرنے سے مراد کیا ہے؟
کوئی اور خیال لائیں، مثلاً

کوئی بھی رکتا نہیں ہے یہاں سدا کے لئے
کسی کو کیسے یہاں ہم سدا تلاش کریں


ملے گا گھر میں سرء طور کی نہیں حاجت
جو لوگ اپنے دلوں میں خدا تلاش کریں
خیال اچھا ہے لیکن بیانیہ مظبوط نہیں۔ دوبارہ کوشش کریں

جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
اس وقت کوئی رائے نہیں


استادِ محترم الف عین
 
آخری تدوین:
بہت شکریہ
یہی مریضءمحبت دوا تلاش کریں
کوئی بہانہ ملاقات کا تلاش کریں
یہی سے مراد "مریضِ محبت" ہے یا "دوا" اگر آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عاشق بس اتنی سی دوا تلاش کرتے ہیں، تو مصرعہ یوں ہونا چاہیئے
مریضِ عشق بس اتنی دوا تلاش کریں
اگر میں آپ کا خیال نہیں سمجھ پایا تو وضاحت فرما دیں۔

عذاب سے نہیں رستہ فرار کا جب کوئی
تو پھر چلو سبھی اپنی خطا تلاش کریں

پہلے مصرعہ میں "جب" اضافی ہے۔
شعر کا خیال واضع نہیں ہو رہا۔ شاید آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بے گناہ سزا پا رہے ہیں تو اتنا تو معلوم ہونا چاہیئے کہ گناہ کیا ہے؟

عذاب میں "سبھی" کو کیوں گھسیٹ رہے ہو عابد بھیا :)

"خطا تلاش" کرنے کا کوئی مثبت اور تعمیری خیال لائیں تو خوب ہوگا، مثلاً

ہمارا کل تو نتیجہ ہمارے آج کا ہے
چلو پھر آج سے اپنی خطا تلاش کریں


ضمیر جاگے کچھ ایسا ہمارے لوگوں کا
کہ سب خطاوں کی خود ہی سزا تلاش کریں
اپنی خطائوں کا ازالہ کیا جاتا ہے نہ کہ خود کو سزا دی جاتی ہے

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
کہ میکدے میں کوئی پارسا تلاش کریں
پہلے مصرعہ میں روانی کی کمی ہے۔ یوں کیسا رہے گا؟
معززین کی محفل تو دیکھ لی ہم نے
تو میکدے میں ہی اب پارسا تلاش کریں


جسے تمام گلستان سے محبت ہو
چلو ہم ایسا کوئی رہنما تلاش کریں
دوسرا مصرعہ جتنا مضبوط ہے پہلا مصرعہ اتنا ہی کمزور۔ کوئی ایسی خوبی بیان کریں جس کی قوم کو اشد ضرورت ہو۔ کوئی ایسی خوبی جو ایک اچھے رہنما کی پہچان ہو۔ "گلستان سے محبت" ایک عام سا خیال ہے، آپ شاعر ہیں اور شاعر نیا خیال پیش کرتا ہے۔

اگر مزاحیہ غزل ہوتی تو حالاتِ حاضرہ کے مطابق ایک مزیدار شعر بن سکتا تھا

جو بعد میں یہ نہ پوچھے کہ "کیوں نکالا مجھے"
چلو ہم ایسا کوئی رہنما تلاش کریں


وہ آرہا ہے تو اس کی نشاط کی خاطر
اداس دل سے کوئی قہقہہ تلاش کریں
کہو لبوں سے کوئی قہقہہ تلاش کریں

سکوت وہ کہ صدا اپنی لوٹ آتی ہے
ادھر کہاں کسی کی ہم صدا تلاش کریں
"صدا تلاش" کرنے سے مراد کیا ہے؟
کوئی اور خیال لائیں، مثلاً

کوئی بھی رکتا نہیں ہے یہاں سدا کے لئے
کسی کو کیسے یہاں ہم سدا تلاش کریں


ملے گا گھر میں سرء طور کی نہیں حاجت
جو لوگ اپنے دلوں میں خدا تلاش کریں
خیال اچھا ہے لیکن بیانیہ مظبوط نہیں۔ دوبارہ کوشش کریں

جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
اس وقت کوئی رائے نہیں


استادِ محترم الف عین

بہت شکریہ امجد علی راجا صاحب ۔۔ اس خلوص کے لیے ممنون ہوں۔
ا
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ امجد علی راجا۔ خوبصورت مصرع دئے ہیں عابد میاں کو۔
روانی کی کمی کا جو ذکر کیا ہے امجد نے۔ اس کی تفصآیل بتا دوں تاکہ آئندہ خیال رکھا جائے۔

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
’ہو کے‘ محض ’ہُکے‘ تقطیع ہوتا ہے جو ناگوار لگتا ہے۔
اور یہ شعر
جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
پہلے مصرع میں ’تو ‘ کی واو کا کھنچنا اچھا نہیں لگ رہا۔
 
شکریہ امجد علی راجا۔ خوبصورت مصرع دئے ہیں عابد میاں کو۔
روانی کی کمی کا جو ذکر کیا ہے امجد نے۔ اس کی تفصآیل بتا دوں تاکہ آئندہ خیال رکھا جائے۔

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
’ہو کے‘ محض ’ہُکے‘ تقطیع ہوتا ہے جو ناگوار لگتا ہے۔
اور یہ شعر
جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
پہلے مصرع میں ’تو ‘ کی واو کا کھنچنا اچھا نہیں لگ رہا۔

شکریہ سر بہت نوازش
 
شکریہ امجد علی راجا۔ خوبصورت مصرع دئے ہیں عابد میاں کو۔
روانی کی کمی کا جو ذکر کیا ہے امجد نے۔ اس کی تفصآیل بتا دوں تاکہ آئندہ خیال رکھا جائے۔

شیوخ سے ہو کے بیزار دل یہ کہتا ہے
’ہو کے‘ محض ’ہُکے‘ تقطیع ہوتا ہے جو ناگوار لگتا ہے۔
اور یہ شعر
جو مانگنی ہے دعا تو پھر آ و ہم عابد
قبول ہو جو ،وہ حرفء دعا تلاش کریں
پہلے مصرع میں ’تو ‘ کی واو کا کھنچنا اچھا نہیں لگ رہا۔
عابد علی خاکسار بھیا، میں بھی ایسی غلطیاں بہت کرتا تھا، پھر استادِ محترم الف عین کی مہربانی سے آہستہ آہستہ اصلاح ہوتی رہی، اب میں ایسی غلطیاں بہت کم کرنے لگا ہوں، انشاءاللہ آپ کی بھی عادت بن جائے گی ایسی غلطیوں سے بچنے کی :)
 
عابد علی خاکسار بھیا، میں بھی ایسی غلطیاں بہت کرتا تھا، پھر استادِ محترم الف عین کی مہربانی سے آہستہ آہستہ اصلاح ہوتی رہی، اب میں ایسی غلطیاں بہت کم کرنے لگا ہوں، انشاءاللہ آپ کی بھی عادت بن جائے گی ایسی غلطیوں سے بچنے کی :)[/QUOT

بہت نوازش اب وہ فیض آپ آگے ہم تک پہچائیں
 
Top