( برائے اصلاح )یہ بد نصیب شرافت میں مرنے والاہے

یہ بد نصیب شرافت میں مرنے والاہے
یہ چپ رہے گا مروت میں مرنے والاہے

بڑے صحافی تو سکوں میں تل رہے ہوں گے
یہ چھوٹا راہ صداقت میں مرنے والاہے

ہمارے تھر میں ہے یورپی سہولتیں پر
غریب آپ کی جنت میں مرنے والاہے

رکارڈ روم میں کوئی عدم تعاون پر
لگی جو آگ عمارت میں مرنے والاہے

نقیب روز مریں گے ہماری دھرتی پر
ولی بھی راہ صحافت میں مرنے والاہے

مریض روز مریں گے بہت علاج کے بعد
تو عدل روز عدالت میں مرنے والاہے

پڑھا رہا ہوں میں جن کو سبق محبت کا
یہ سارا شہر محبت میں مرنے والا ہے
 
میرے خیال میں شاعری برائے شاعری* ہونی چاہیے، یعنی اس کا کوئی سیاسی یا نظریاتی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔

مغربیت کے اس اثر نے (کسی مقصد کے لیے شاعری) نے جو اردو شاعری کو نقصان پہنچایا ہے اور کم ہی کسی چیز نے پہنچایا ہوگا۔ ہم وہ بد نصیب قوم ہیں جہاں سیاست برائے سیاست** اور شاعری برائے اصلاح ہوتی ہے۔

*Art for art's sake
**کئی سیاست دان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ سیاست وغیرہ کا" شوق" رکھتے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
ہمارے تھر میں ہے یورپی سہولتیں پر
یہ بحر سے خارج ہے۔ ہاں اگر ’شہر‘ کو تھر لکھ دیا گیا ہے تو بات دوسری ہے۔
سہولتیں Eases یا سہولیتیں facilities؟
باقی تکنیکی طور پر درست۔
 
Top