برائے اصلاح : ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے

انس معین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2019

  1. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    322
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    غزل برائے اصلاح
    سر الف عین عظیم

    ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے
    یہ آفت نہیں ہے قیامت نہیں ہے ؟

    مرے دل جو سب سے قریبی تھے تیرے
    تجھے ان کے جانے پہ حیرت نہیں ہے ؟

    ہو جائے آسان دم کا نکلنا
    وہ کہہ دیں کے ہم سے محبت نہیں

    بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے لیکن
    ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے

    جو جنت میں بھی گر وہ ملنے نہ آئے
    تو کہتے پھریں گے یہ جنت نہیں ہے
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 8, 2019
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے دونوں اشعار درست ہیں
    ہو جائے آسان دم کا نکلنا
    وہ کہہ دیں کے ہم سے محبت نہیں
    .. سمجھ نہیں سکا، وزن میں بھی پہلا مصرع جو سے شروع کرنے پر درست ہو گا، دوسرے میں کے ہو یا کہ، بات مکمل نہیں

    بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے لیکن
    ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے
    .. ٹھیک

    جو جنت میں بھی گر وہ ملنے نہ آئے
    تو کہتے پھریں گے یہ جنت نہیں ہے
    . جو اور گر دونوں ہم معنی ہیں یہاں، ایک ہی لفظ رکھیں
    کون کہتے پھریں گے، یہ واضح نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر