برائے اصلاح...پہلے آنکھوں میں خواب اترے ہیں

محمد نعیم وڑائچ نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 15, 2019

  1. محمد نعیم وڑائچ

    محمد نعیم وڑائچ محفلین

    مراسلے:
    21
    براہ کرم اس غزل کی اصلاح فرما دیں

    پہلے آ نکھوں میں خواب اترے ہیں
    پھر تو جیسےعذاب اترے ہیں
    جیسے ساون کے تیز رو قطرے
    ایسے وہ بے حجاب اترے ہیں
    میں نے مانگی دعا تھی منزل کی
    راستے بے حساب اترے ہیں
    درد و رنج و بلا کے موسم میں
    رنگ جام و شراب اترے ہیں
    اب نہیں آنکھ پہ یقیں میرا
    ایسے ایسے سراب اترے ہیں
    زندگی تیرے سب سوالوں پہ
    اک فنا کے جواب اترے ہیں
     
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    درست لگ رہی ہے غزل
    صرف 'اب نہیں آنکھ پہ یقیں میرا' میں 'آنکھیں' لے آئیں کہ صرف ایک آنکھ میں سراب وغیرہ کا اترنا عجیب لگتا ہے۔
    مثلاً اب نہ آنکھوں پہ ہے یقیں میرا
    اور مقطع کے پہلے مصرع میں 'پہ' کی جگہ مکمل 'پر' استعمال کریں اور دوسرے میں 'اک' کی بجائے 'بس' زیادہ بہتر معلوم ہو رہا ہے
     
  3. محمد نعیم وڑائچ

    محمد نعیم وڑائچ محفلین

    مراسلے:
    21
    بہت شکریہ محترم عظیم صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر