برائے اصلاح : پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

اشرف علی

محفلین
محترم الف عین صاحب ،محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب ،محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔

§§§§§§§§§

جب بھی کسی سے عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

پہلے تیرے دل کو مانگا جائے گا
پھر قسطوں میں اس کو توڑا جائے گا

اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی کاٹا جائے گا

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل مجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا

میری بغل کی سیٹ تو خالی ہے لیکن
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے ؟ تو چھڑا سکتا ہے تٗو !
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !
 

الف عین

لائبریرین
درست ہے غزل مگر مطلع پسند نہیں آیا ۔ حسن مطلع بھی درست ہے لیکن سچا نہیں لگتا۔ ایسا کیا کر دیا شگفتہ نے؟
آنکھوں کی بینائی.... والا شعر کے لئے خصوصی داد
 

اشرف علی

محفلین
الحمد للّٰہ
جزاک اللّٰہ خیراً

مطلع پسند نہیں آیا ۔
سر ! اب ..؟

عقل کی باتوں میں جس دن آ جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

حسن مطلع بھی درست ہے لیکن سچا نہیں لگتا۔
کیا یہ ٹھیک رہے گا سر ؟

جس دن لوٹ کے واپس وہ آ جائے گا
اُس دن سارا شہر سجایا جائے گا

ویسے یہ بھی نہیں کر سکتا لیکن کم سے کم گھر سجا سکتا ہوں سر!

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

" کچھ نہیں " یعنی ... " ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں "

آنکھوں کی بینائی.... والا شعر کے لئے خصوصی داد
اللّٰہ کا کرم ہے
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے تہہِ دل سے آپ کاشکر گزار ہوں سر
اصلاح و رہنمائی کے لیے بھی ممنون و متشکر ہوں
جزاک اللّٰہ خیراً

نئے اشعار برائے اصلاح ...

قدم بڑھاؤں گا جب نور کی جانب مَیں
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

وصل کی شب بھی نیند میں ہے وہ ، کیا بولوں ؟
مجھ سے اب اک لفظ نہ بولا جائے گا !

کہہ سکتا ہوں اُس سے دل کی بات مگر
ممکن ہے ، وہ سُن کر شرما جائے گا
 

اشرف علی

محفلین
محترم الف عین صاحب ،محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب ،محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔

§§§§§§§§§

جب بھی کسی سے عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

پہلے تیرے دل کو مانگا جائے گا
پھر قسطوں میں اس کو توڑا جائے گا

اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی کاٹا جائے گا

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل مجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا

میری بغل کی سیٹ تو خالی ہے لیکن
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے ؟ تو چھڑا سکتا ہے تٗو !
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !
محمد عبدالرؤوف بھائی صریر بھائی
بہت بہت شکریہ
اللّٰہ آپ کو شاد و سلامت رکھے ، آمین ۔
 

اشرف علی

محفلین
نئے اشعار بھی درست ہیں
جزاک اللّٰہ خیراً
بہت بہت شکریہ سر
لائٹ کے لیے نور کا لفظ لائے ہیں سر
میں تو کسی اور کا نام بھی لینا کبھی کبھی غلط سمجھتا ہوں
اور کسی کا نام پڑھتے وقت یا یونہی آ جاتا ہےتو کبھی کبھی اس کے بعد فوراً اس کا نام لے لیتا ہوں ... مجھے اچھا لگتا ہے ...

عقل کی باتوں میں جس دن آ جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

جس دن لوٹ کے واپس وہ آ جائے گا
اُس دن سارا شہر سجایا جائے گا
مطلع کونسا سر ؟ کیا دونوں چلے گا ؟
 

اشرف علی

محفلین
اصلاح کے بعد
§§§§§§§§§§§§

عقل کی باتوں میں جس دن آ جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

جس دن لوٹ کے واپس وہ آ جائے گا
اُس دن سارا شہر سجایا جائے گا

اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی کاٹا جائے گا

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل مجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا

میری بغل کی سیٹ تو خالی ہے لیکن
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے ؟ تو چھڑا سکتا ہے تٗو !
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

قدم بڑھاؤں گا جب نور کی جانب مَیں
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

وصل کی شب بھی نیند میں ہے وہ ، کیا بولوں ؟
مجھ سے اب اک لفظ نہ بولا جائے گا !

کہہ سکتا ہوں اُس سے دل کی بات مگر
ممکن ہے ، وہ سُن کر شرما جائے گا

بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !
 

اشرف علی

محفلین
اصلاح کے بعد
§§§§§§§§§§§§

عقل کی باتوں میں جس دن آ جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

جس دن لوٹ کے واپس وہ آ جائے گا
اُس دن سارا شہر سجایا جائے گا

اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی کاٹا جائے گا

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل مجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا

میری بغل کی سیٹ تو خالی ہے لیکن
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے ؟ تو چھڑا سکتا ہے تٗو !
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

قدم بڑھاؤں گا جب نور کی جانب مَیں
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

وصل کی شب بھی نیند میں ہے وہ ، کیا بولوں ؟
مجھ سے اب اک لفظ نہ بولا جائے گا !

کہہ سکتا ہوں اُس سے دل کی بات مگر
ممکن ہے ، وہ سُن کر شرما جائے گا

بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !
بہت بہت شکریہ صابرہ امین صاحبہ
جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ آپ کو خوش رکھے ، آمین ۔
 

اشرف علی

محفلین
بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !

تو کب تک آ رہا ہے بھائی؟
:thinking:
شاید ایک سال بعد یا شاید دو سال بعد یا شاید تین سال بعد یا شاید شادی کے بعد یا شاید کبھی نہیں
مطلب
دیوان چھپوانے کے لیے دیوانہ بننا پڑے گا نا !
اور
دیوانہ تو یہی کہے گا
کہ ...
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
 

یاسر شاہ

محفلین
اشرف بھائی السلام علیکم

تنقید شاعری کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے کچھ ٹیکے بچوں کے لیے لازمی ہوتے ہیں -شفیق مائیں خود بچوں کو گود میں لے کر آتی ہیں ٹیکا لگوانے کے لیے اور ڈاکٹر کا شکریہ بھی ادا کرتی ہیں جیسے کہ آپ اصلاح سخن میں اپنی معنوی اولاد کو لاتے ہیں اور اخلاق سے پیش آتے ہیں -شفیق ڈاکٹر بھی سوئی لگانے کے بعد چبھن کے مقام پر اسپرٹ میں ڈوبی ہوئی روئی رکھ دیتے ہیں ،مجھے ڈاکٹر تو نہیں کمپاؤنڈرسمجھیں ،لہٰذا میری بھی کوشش ہوتی ہے تنقید کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی کی جائے - کچھ ناہنجار و نا عاقبت اندیش مائیں بچوں کے ٹیکا تو لگواتی ہیں مگر ڈاکٹر /کمپاؤنڈرکو کوسنے دے کر اور لڑ بھڑ کر کلینک سے نکلتی ہیں اور بعضی وقتی طور پر تو رسمی اخلاق برتتی ہیں لیکن مدتوں کینہ لیے لیے پھرتی ہیں اور کسی نادر موقع کی تلاش میں رہتی ہیں -اصلاح کی راہ میں کینہ مضر ہے بقول مولانا رومی :

گر بہ ہر زخمے تُو پر کینہ شوی
پس کُجا بے صیقل آئینہ شوی

اگر تو ہر تکلیف پر غصے سے بھرے گا، تو بغیر مانجھے آئینہ کیسے بنے گا-

لہٰذا آپ سے التماس ہے میری کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے یہیں ترکی بہ ترکی جواب دے دیا کریں ، مجھے اچھا لگے گا اور دعاؤں میں یاد رکھیں جیسا کہ میں رکھتا ہوں -


جب بھی کسی سے عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا
یوں کر دیں :
نین ملا کر عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

تاکہ دل کا مفت میں مارا جانا واضح ہو سکے یعنی خطا تو نین کریں اور سزا دل کو ملے -کرے کوئی بھرے کوئی -
جس دن لوٹ کے واپس وہ آ جائے گا
اُس دن سارا شہر سجایا جائے گا
پہلی اصولی بات تو یہ ہے عموماً محبوب کے شہر میں آنے سے پہلے شہر کو سجایا جاتا ہے نہ کہ آجانے کے بعد -دوسری فروعی بات" لوٹ کے آنا " یا "واپس آنا " کافی ہے "لوٹ کے واپس آنا " زائد از ضرورت بات ہے -
اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی کاٹا جائے گا
"کاٹا" اچھا نہیں لگ رہا -

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل مجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا
ایسے اشعار سے بچنے کی کوشش کریں -بے جا تعلی کے سوا کچھ نہیں -

میری بغل کی سیٹ تو خالی ہے لیکن
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا
"بغل " کا غزل میں آنا مناسب نہیں لگتا -یوں لگ رہا ہے آپ نے "ڈیوڈرنڈ " نہیں لگایا تھا (میری طرح) -
اس طرح کا کچھ سوچیں :
یوں تو مرے پہلو کی نشست بھی خالی ہے
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا
ٹھیک

تجھے چھڑانا ہے ؟ تو چھڑا سکتا ہے تٗو !
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا
تجھے چھڑانا ہے تو چھڑا لے ہاتھ اپنا
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا
واہ بھائی واہ -بہت خوب -

بس تیرے دیوان کے چھپنے کی ہے دیر
اُس کے بعد تو اشرف تٗو چھا جائے گا !
ایسے اشعار سے بچنے کی کوشش کریں -بے جا تعلی کے سوا کچھ نہیں -
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
قدم بڑھاؤں گا جب نور کی جانب مَیں
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا
نور کی جانب بڑھنے سے سا ئے کا قد کیسے بڑھے گا ؟
یوں سوچیں کچھ :
جیسے جیسے ڈھلتا جائے گا سورج
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

وصل کی شب بھی نیند میں ہے وہ ، کیا بولوں ؟
مجھ سے اب اک لفظ نہ بولا جائے گا !
اس شعر کو بھی رہنے دیں -یوں لگتا ہے جوڑ توڑ کے بعد جون ایلیا کا یہ مضمون باندھا گیا ہے :

غم_ فرقت کا شکوہ کرنے والی
مری موجودگی میں سو رہی ہے
کہہ سکتا ہوں اُس سے دل کی بات مگر
ممکن ہے ، وہ سُن کر شرما جائے گا
یہ بھی ایک شکل دیکھیں

کہنے کو تو کہہ سکتا ہوں دل کی بات
میں نہیں شرماتا وہ شرما جائے گا
--------------
نئی شکل غزل کی یہ ہوئی -


نین ملا کر عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

یوں تو مرے پہلو کی نشست بھی خالی ہے
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے تو چھڑا لے ہاتھ اپنا
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

جیسے جیسے ڈھلتا جائے گا سورج
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

کہنے کو تو کہہ سکتا ہوں دل کی بات
میں نہیں شرماتا وہ شرما جائے گا

غزل کی زمین زرخیز ہے -جو شعر شامل نہیں کیے آپ اس زمین میں ان سے بہتر شعر کہہ سکتے ہیں -دو ایک مزید اشعار کہہ کر یہاں پیش کریں تاکہ غزل کی تکمیل ہو جائے وگرنہ تو یہ سات اشعار بھی کافی و شافی ہیں -
 

اشرف علی

محفلین
اشرف بھائی السلام علیکم
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ

تنقید شاعری کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے کچھ ٹیکے بچوں کے لیے لازمی ہوتے ہیں -
جی سر !

شفیق مائیں خود بچوں کو گود میں لے کر آتی ہیں ٹیکا لگوانے کے لیے اور ڈاکٹر کا شکریہ بھی ادا کرتی ہیں جیسے کہ آپ اصلاح سخن میں اپنی معنوی اولاد کو لاتے ہیں اور اخلاق سے پیش آتے ہیں -
اللّٰہ کا کرم ہے سر
آپ لوگوں سے اچھی اچھی باتیں اور عادتیں سیکھ رہا ہوں ...
جزاک اللّٰہ خیراً

شفیق ڈاکٹر بھی سوئی لگانے کے بعد چبھن کے مقام پر اسپرٹ میں ڈوبی ہوئی روئی رکھ دیتے ہیں ،مجھے ڈاکٹر تو نہیں کمپاؤنڈرسمجھیں ،
میرے لیے تو آپ شفیق استاد ہیں

لہٰذا میری بھی کوشش ہوتی ہے تنقید کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی کی جائے -
اس سے واقعی مجھے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں سر
جزاک اللّٰہ خیراً

اگر تو ہر تکلیف پر غصے سے بھرے گا، تو بغیر مانجھے آئینہ کیسے بنے گا-
بے شک


لہٰذا آپ سے التماس ہے میری کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے یہیں ترکی بہ ترکی جواب دے دیا کریں ، مجھے اچھا لگے گا اور دعاؤں میں یاد رکھیں جیسا کہ میں رکھتا ہوں -
ضرور سر !
اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و سلامت رکھے ،آمین ۔

یوں کر دیں :
نین ملا کر عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

تاکہ دل کا مفت میں مارا جانا واضح ہو سکے یعنی خطا تو نین کریں اور سزا دل کو ملے -کرے کوئی بھرے کوئی -
پہلے 'نینا لڑانا' ہی سوچے تھے سر
لیکن پھر بعد میں لگا شاید نین کی جگہ عشق ہی ٹھیک رہے گا
رہنمائی کے لیے بہت بہت شکریہ سر

عقل کی باتوں میں جس دن آ جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا
یہ والا چلے گا سر ؟

پہلی اصولی بات تو یہ ہے عموماً محبوب کے شہر میں آنے سے پہلے شہر کو سجایا جاتا ہے نہ کہ آجانے کے بعد -
جی سر ! بالکل صحیح

دوسری فروعی بات" لوٹ کے آنا " یا "واپس آنا " کافی ہے "لوٹ کے واپس آنا " زائد از ضرورت بات ہے -
ٹھیک ہے سر
اس شعر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں
بہت بہت شکریہ

"کاٹا" اچھا نہیں لگ رہا -
" مارا " یا " پھاڑا "چلے گا سر ؟

اُس کی پھیکی غزلیں بھی چل جائیں گی
میرا اچھا شعر بھی( مارا / پھاڑا )جائے گا

ایسے اشعار سے بچنے کی کوشش کریں -بے جا تعلی کے سوا کچھ نہیں -
ٹھیک ہے سر !
" مجھ " کی جگہ " تجھ " کرنے سے چلے گا سر ؟

پڑھنے والے پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے
کل تجھ پر اتنا کچھ لکھّا جائے گا

اس طرح کا کچھ سوچیں :
یوں تو مرے پہلو کی نشست بھی خالی ہے
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا
جزاک اللّٰہ خیراً
بہت بہت شکریہ سر

تجھے چھڑانا ہے تو چھڑا لے ہاتھ اپنا
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے
اچھا ہے سر
جزاک اللّٰہ خیراً

واہ بھائی واہ -بہت خوب -
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے سراپا سپاس گزار ہوں سر
جزاک اللّٰہ خیراً
ایسے اشعار سے بچنے کی کوشش کریں -بے جا تعلی کے سوا کچھ نہیں -
ٹھیک ہے سر
لیکن نئی غزل میں ایک شعر اس طرح کا ہو گیا ہے تو اس کو بدل دوں یا اصلاح کے لیے پیش کر سکتا ہوں ؟

اصلاح و رہنمائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں سر
اللّٰہ آپ کو خوش رکھے ، آمین ۔
 

اشرف علی

محفلین
نور کی جانب بڑھنے سے سا ئے کا قد کیسے بڑھے گا ؟
یوں سوچیں کچھ :
جیسے جیسے ڈھلتا جائے گا سورج
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے
بہت اچھا ہے سر
بہت بہت شکریہ
جزاک اللّٰہ خیراً
وہ ایک رات موبائل کی لائٹ میں انگلی کو قریب لا کر دیوار پہ دیکھ رہے تھے کہ سایہ بڑا ہوتا جا رہا ...

اس شعر کو بھی رہنے دیں -یوں لگتا ہے جوڑ توڑ کے بعد جون ایلیا کا یہ مضمون باندھا گیا ہے :

غم_ فرقت کا شکوہ کرنے والی
مری موجودگی میں سو رہی ہے
ٹھیک ہے سر
یہ شعر مجھے بھی یاد آیا تھا
لیکن مجھے لگا میرا والا چل جائے گا
پہلے "وصل" کی جگہ "ہجر" رکھے تھے آخری وقت میں "وصل"کرنا پڑا
ہجر میں سونے سے وہ شعر یاد آتا ہے

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں

یہ بھی ایک شکل دیکھیں

کہنے کو تو کہہ سکتا ہوں دل کی بات
میں نہیں شرماتا وہ شرما جائے گا
خوب صورت !

بہت بہت شکریہ سر
جزاک اللّٰہ خیراً

"نہیں" کی جگہ کیا "نئیں" کر سکتے ہیں سر ؟

نئی شکل غزل کی یہ ہوئی -


نین ملا کر عشق لڑایا جائے گا
دل بے چارہ مفت میں مارا جائے گا

یوں تو مرے پہلو کی نشست بھی خالی ہے
پاس مِرے کب اُس سے بیٹھا جائے گا

جتنا وقت گزارے گا تٗو اُس کے ساتھ
اتنا ہی وہ تجھ پر کھُلتا جائے گا

تجھے چھڑانا ہے تو چھڑا لے ہاتھ اپنا
مجھ سے تیرا ہاتھ نہ چھوڑا جائے گا

اُن آنکھوں کی بینائی بڑھ جائے گی
جن آنکھوں سے تجھ کو دیکھا جائے گا

جیسے جیسے ڈھلتا جائے گا سورج
میرے سایے کا قد بڑھتا جائے گا

کہنے کو تو کہہ سکتا ہوں دل کی بات
میں نہیں شرماتا وہ شرما جائے گا
واہ ! یہ تو مجھے تحفہ مل گیا !
جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ تعالیٰ آپ کو شاد و سلامت رکھے ، آمین ۔

غزل کی زمین زرخیز ہے -جو شعر شامل نہیں کیے آپ اس زمین میں ان سے بہتر شعر کہہ سکتے ہیں -دو ایک مزید اشعار کہہ کر یہاں پیش کریں تاکہ غزل کی تکمیل ہو جائے وگرنہ تو یہ سات اشعار بھی کافی و شافی ہیں -
ٹھیک ہے سر
کوشش کروں گا ان شاء اللّٰہ
حوصلہ افزائی کے لیے بے حد ممنون ہوں
جزاک اللّٰہ خیراً
 
Top