برائے اصلاح نظر کرم فرمائی جائے شکریہ ۔۔۔۔۔پہلے سے زیادہ بہتر دے

عائد

محفلین
پہلے سے زیادہ بہتر دے
کوئی بھی غم دے مقرر دے

تجھے آج بھی یہ حق ہے مجھ میں
جو رنگ تو چاہے وہ بھر دے
ق
مجھ کو ڈر ہے مر جائیں گے
میرے مالک اب بس کر دے

نیندوں سے میرا جھگڑا ہے
خوابوں کو کوئی اور گھر دے

میں ساغر کش تو نہیں لیکن
لا آج مجھے بھی ساغر دے

آرائش لازم ہے عائد
اپنے زخموں کو جھالر دے

عائد
 

الف عین

لائبریرین
خوش آمدید عائد مگر یہ تخلص عجیب یے۔
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

پہلے سے زیادہ بہتر دے
کوئی بھی غم دے مقرر دے
... 'دے مقرر' دمقرر تقطیع ہو رہا ہے، ے کا اسقاط جائز نہیں
غ
کوئی بھی دے، پہ مقرر دے
ایک تجویز

تجھے آج بھی یہ حق ہے مجھ میں
جو رنگ تو چاہے وہ بھر دے
... حق ہے کے بعد کاما ضرور لگایا جائے
درست ہے شعر

ق
مجھ کو ڈر ہے مر جائیں گے
میرے مالک اب بس کر دے
... کون؟ شاید یہ بہتر یو
.. مر جائیں گے ہم

نیندوں سے میرا جھگڑا ہے
خوابوں کو کوئی اور گھر دے
.. دوسرا مصرع درست تقطیع نہیں ہوتا
خوابوں کو اور کوئی گھر دے

میں ساغر کش تو نہیں لیکن
لا آج مجھے بھی ساغر دے
.. ٹھیک

آرائش لازم ہے عائد
اپنے زخموں کو جھالر دے
.. بات نہیں بنی، مقطع بدل دین
 

عائد

محفلین
خوش آمدید عائد مگر یہ تخلص عجیب یے۔
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

پہلے سے زیادہ بہتر دے
کوئی بھی غم دے مقرر دے
... 'دے مقرر' دمقرر تقطیع ہو رہا ہے، ے کا اسقاط جائز نہیں
غ
کوئی بھی دے، پہ مقرر دے
ایک تجویز

تجھے آج بھی یہ حق ہے مجھ میں
جو رنگ تو چاہے وہ بھر دے
... حق ہے کے بعد کاما ضرور لگایا جائے
درست ہے شعر

ق
مجھ کو ڈر ہے مر جائیں گے
میرے مالک اب بس کر دے
... کون؟ شاید یہ بہتر یو
.. مر جائیں گے ہم

نیندوں سے میرا جھگڑا ہے
خوابوں کو کوئی اور گھر دے
.. دوسرا مصرع درست تقطیع نہیں ہوتا
خوابوں کو اور کوئی گھر دے

میں ساغر کش تو نہیں لیکن
لا آج مجھے بھی ساغر دے
.. ٹھیک

آرائش لازم ہے عائد
اپنے زخموں کو جھالر دے
.. بات نہیں بنی، مقطع بدل دین
بہت شکر گزار ہوں میں آپ کی ہدایات اور رہنمائی سے اور محنت کروں گا اور بہتر کہنے کی کوشش کروں گا اللہ آپ سے راضی ہو آمین
 

عائد

محفلین
خوش آمدید عائد مگر یہ تخلص عجیب یے۔
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

پہلے سے زیادہ بہتر دے
کوئی بھی غم دے مقرر دے
... 'دے مقرر' دمقرر تقطیع ہو رہا ہے، ے کا اسقاط جائز نہیں
غ
کوئی بھی دے، پہ مقرر دے
ایک تجویز

تجھے آج بھی یہ حق ہے مجھ میں
جو رنگ تو چاہے وہ بھر دے
... حق ہے کے بعد کاما ضرور لگایا جائے
درست ہے شعر

ق
مجھ کو ڈر ہے مر جائیں گے
میرے مالک اب بس کر دے
... کون؟ شاید یہ بہتر یو
.. مر جائیں گے ہم

نیندوں سے میرا جھگڑا ہے
خوابوں کو کوئی اور گھر دے
.. دوسرا مصرع درست تقطیع نہیں ہوتا
خوابوں کو اور کوئی گھر دے

میں ساغر کش تو نہیں لیکن
لا آج مجھے بھی ساغر دے
.. ٹھیک

آرائش لازم ہے عائد
اپنے زخموں کو جھالر دے
.. بات نہیں بنی، مقطع بدل دین
استاد محترم یہ پھر سے اپنی سی کوشش کی ہے

پہلے سے زیادہ بہتر دے
غم گہرا اور مقرر دے

تجھے آج بھی یہ حق ہے، مجھ میں
جو رنگ تو چاہے وہ بھر دے

پھٹ جانے کا ڈر ہے مولا
میرے دل کو پتھر کر دے

نیندوں سے میرا جھگڑا ہے
خوابوں کو اور کوئی گھر دے

میں ساغر کش تو نہیں لیکن
لا آج مجھے بھی ساغر دے

وہ میرا غم سمجھے ربا
دلبر کو کوئی دیگر دے
عائد
 
Top