برائے اصلاح: غزل

دل سنبھلنے لگا ہے تنہا کچھ۔۔۔
تُو بھی لگنے لگا پرایا کچھ۔۔۔

آج مدت کے بعد آمد ہوئی،
آج مدت کے بعد لکھا کچھ۔۔۔

آنکھ چھلکی، اشک بہہ نکلے،
یاد آیا زمانہ کیا کیا کچھ۔۔۔

داستانِ ہجر بیان کرتے وہ،
بیل بوٹے بنا رہا تھا کچھ۔۔۔

ہم کو ہو گی نذر محبت کی،
کس نے سوچا تھا ایسا کچھ۔۔۔

خیر صاحب سے جان تو چھوٹی،
لکھتا رہتا تھا کچھ کا کچھ۔۔۔
 
آج مدت کے بعد آمد ہوئی،
آج آمد ہوئی تھی برسوں بعد
آنکھ چھلکی، اشک بہہ نکلے،
آنکھ چھلکی تو اشک بہنے لگے
داستانِ ہجر بیان کرتے وہ،
ہجر کی داستان کہتے، وہ
ہم کو ہو گی نذر محبت کی،

کس نے سوچا تھا ایسا کچھ۔۔۔

دونوں مصرع بحر میں نہیں
 
بھائی سے لگا کہ ایم کیو ایم کا شاعر ہے ۔ :ROFLMAO:
بعض لوگوں کا تکیہ کلام یہی ہوتا ہے، ’’آپ کا بھائی‘‘۔ فلاں کام آپ کے بھائی نے کروادیا۔ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ ایسے لوگ اپنی بیگم سے بات کرتے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ نہ خوود کو بیگم کا بھائی کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سالے صاحب کی تعریف کرسکتے ہیں۔
 
Top