باقی

عظیم

محفلین


اور کوئی ہے کیا خطا باقی
جس کی رہتی ہو کچه سزا باقی

یوں جو آنکهوں کو پهر سے پهیرا ہے
اب بهی نظروں میں ہے حیا باقی

میرے دم کا ہی ایک دشمن ہے
جگ میں تنہا ہوں کیا بتا باقی

اس کی خاطر ہے دل کی بے تابی
جس کے دل میں ہو بس خدا باقی

وائے وحشت بلائے جاں ہے تو
تب بهی ہوگی نہ جب رہا باقی

شور کتنا ہے اف قیامت کا
دل میں رہتی ہے اک دعا باقی

مجه کو کهو کر عظیم وہ بولے
مل ہی جائے گا گر ہوا باقی


 
Top