عباس تابش بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں

Qaisar Aziz نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 2, 2014

  1. Qaisar Aziz

    Qaisar Aziz محفلین

    مراسلے:
    141
    بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
    روز رستے کی طرح دریا سے لوٹ آتا ہوں میں

    صبح دم میں کھولتا ہوں رسی اپنے پاؤں کی
    دن ڈھلے خود کو کہیں سے ہانک کر لاتا ہوں میں

    اپنی جانب سے بھی دیتا ہوں کچوکے جسم کو
    اس کی جانب سے بھی اپنے زخم سہلاتا ہوں میں

    ایک بچے کی طرح خود کو بٹھا کر سامنے
    خوب خود کو کوستا ہوں خوب سمجھاتا ہوں میں

    خشک پتوں کی طرح ہے قوتِ گویائی بھی
    بات کوئی بھی نہیں اور بولتا جاتا ہوں میں

    یہ وہی تنہائی ہے جس سے بہل جاتا تھا دل
    یہ وہی تنہائی ہے اب جس سے گھبراتا ہوں میں

    عشق میں مانع ہے غالب کی طرفداری مجھے
    رعب جب چلتا نہیں تو پاؤں پڑ جاتا ہوں میں

    میرے ہاتھ آتے ہیں تابشؔ دوسرے موسم کے پھول
    ایک موسم میں تو ٹہنی تک پہنچ پاتا ہوں میں

    عباس تابشؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    یہ وہی تنہائی ہے جس سے بہل جاتا تھا دل
    یہ وہی تنہائی ہے اب جس سے گھبراتا ہوں میں

    خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. Qaisar Aziz

    Qaisar Aziz محفلین

    مراسلے:
    141
    :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر