ایک کاوش اصلاح کیلیے،'' زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے ''

زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے
خبر کچھ دیر سے آئی ہوئی ہے

تمہارے اور میرے درمیاں تھی
کہو دشمن نے پھیلائی ہوئی ہے

تصور میں نہیں تھی بے وفائی
مری تو گُنگ گویائی ہوئی ہے

خفا بھی تُم ، خطا بھی ہے تمہاری
پریشاں سی شکیبائی ہوئی ہے

مسیحا تھے تو گھاو کیوں لگائے
کہاں کی یہ مسیحائی ہوئی ہے

چلو اس دوستی نے کچھ دیا تو
دکھوں سے بھی شناسائی ہوءی ہے

کہو ہو بوجھ ہے اظہر تعلق
مگر زنجیر پہنائی ہوئی ہے
 

الف عین

لائبریرین
واقعی یہ زمین بھی اچھی ہے اور قابلِ فہم اشعار نکالے گئے ہیں۔ ابھی تو میں حیدر آباد سے باہر ہوں، چار دن کے لئے، پھر انشاء اللہ اس کو بھی دیکھ لوں گا۔
 

عین عین

لائبریرین
اظہر، میری سمجھ میں جو آیا وہ پیش ہے۔ تم اصلاح کے لیے اساتذہ کا انتظار کرو۔
بس یہ ہے کہ “ میرا نہ اعتبار کرو، میں نشے میں ہوں“

اچھا جی !
زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے
خبر کچھ دیر سے آئی ہوئی ہے

اب یہاں کچھ دیر مناسب نہیں لگا مجھے اور مجھ پر مفہوم بھی کچھ دیر کی وجہ سے واضح نہیں ہوا شعر کا۔ اس سے بہتر یوں کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے
خبر یہ دیر سے آئی ہوئی ہے
تو شعر کا مفہوم زیادہ واضح ہو گا۔
اچھا اسی طرح:
تمہارے اور میرے درمیاں تھی
کہو دشمن نے پھیلائی ہوئی ہے

یہ پہلے مصرع میں “ تھی“ کیا ہے؟ خیر تھی ہو یا بھی ہو، شعر انتہائی ابہام کی زد میں ہے ، میں اپنی کم علمی اور شعری بنت سے ناواقفیت کی وجہ سے اس شعر کو ایسے پڑھ رہا ہوں۔ باقی تمھاری مرضی


تمہارے اور میرے درمیاں کچھ
کسی دشمن نے پھیلائی ہوئی ہے

میری نظر میں اب ابہام نہیں رہا۔ یعنی تمہارے اور میرے بیچ میں کسی نے کوئی غلط فہمی ڈال دی ہے جیسی بات ہو گئی یہ۔

شکریہ
 

عین عین

لائبریرین
خفا بھی تُم ، خطا بھی ہے تمہاری
پریشاں سی شکیبائی ہوئی ہے

دوسرا مصرع عجیب ہے۔ اس کا مطلب واضح نہیں ہو رہا۔ اسے بدلنا ہی ہو گا۔
یہ اچھا شعر ہے

چلو اس دوستی نے کچھ دیا تو
دکھوں سے بھی شناسائی ہوءی ہے

بس دکھوں کی جگہ غموں کر لو۔ زیادہ بہتر رہے گا۔ میرا خیال ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ ع غ، ادھر اکثر آیا کریں تو کارِ اصلاح زیادہ آسانی سے چلتا رہے۔ میں متفق ہوں آپ کی ہر بات سے۔
 

عین عین

لائبریرین
حضرت، آنا کم ہوتا ہے غالبان یہی وجہ ہے آپ مجھے عین عین کی جگہ عین غین لکھ دیتے ہیں۔ اگر میں روز آوں تو شاید آپ کی غین کی جگہ عین لکھنا شروع کر دین۔ محبت کا شکریہ۔:)
 
السلام و علیکم،
اساتذہ کرام کے دلی شکریہ کے ساتھ تبدیلیاں کی ہیں اب ملاحظہ کیجیے، دو اشعار نئے بھی شامل کئے ہیں
خاکسار
اظہر


زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے
خبر یہ دیر سے آئی ہوئی ہے

تمہارے اور میرے درمیاں کچھ
کسی دشمن نے پھیلائی ہوئی ہے

تصور میں نہیں تھی بے وفائی
مری تو گُنگ گویائی ہوئی ہے

خفا بھی تُم ، خطا بھی ہے تمہاری
مناوں میں؟ تمنائی ہوئی ہے

عدو کے سامنے ہم کو لتاڑا
ہماری یہ پزیرائی ہوئی ہے؟

نشاں چوکھٹ پہ دیکھو ثبت ہوں گے
کہو کیسی جبیں سائی ہوئی ہے؟

مسیحا تھے تو گھاو کیوں لگائے
کہاں کی یہ مسیحائی ہوئی ہے

چلو اس دوستی نے کچھ دیا تو
غموں سے بھی شناسائی ہوءی ہے

کہو ہو بوجھ ہے اظہر تعلق
مگر زنجیر پہنائی ہوئی ہے​
 

عین عین

لائبریرین
اظہر تم نے تبدیلیاں خوش دلی سے قبول کیں۔ شکریہ

خفا بھی تُم ، خطا بھی ہے تمہاری
مناوں میں؟ تمنائی ہوئی ہے
میں تمھارے دوسرے مصرعے کو سمجھ تو گیا ہوں لیکن یہ ڈھنگ سے نہین بندھا ہے۔ دیکھو ہمیشہ صرف اپنی فکر اور خیال کے اعتبار سے شعر مت پڑھا کرو۔ اپنی غزل کہہ کو کسی اجنبی کی طرح پڑھا کرو۔ اسے دوسرے کی نظر سے دیکھو اور دوسرے کے تخیل اور دماغ اور سمجھ کے مطابق پڑھو اور پھر یہ محسوس کرو کہ کیا تم ہر (جو اس غزل کا خالق نہیں ہے) اشعار کا مفہوم پوری طرح کھلا یا کوئی ابہام تشنگی محسوس ہو رہی ہے۔ اگر ہو رہی ہے تو تمھارے (شعر کے قاری، جو مصرع موزوں کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے) کے خیال میں کس طرح دور ہونا چاہیے۔ اس کمی کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے۔ مطلب ابلاغ فوری ہو۔ ذہن پر زور نہ ڈالنا پڑے بہت۔ یہ عام زمین ہے، سادہ اشعار ہیں۔ روانی ہے۔ اس دوران اچانک ایک الجھاہوا پیچیدہ سا شعر آجائے تو بہت گراں گزرتا ہے۔
اس طرح کا کوئی شعر ہو تو الگ بات ہے۔ کہ بندہ اس میں غور کرے اور سمجھے۔
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر، کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق جیسی غزل ہو تو بات ہے۔

یہ کچھ تبدیلیاں چاہتا ہے جیسے
خفا بھی وہ، خطا بھی ہے اسی کی
مناوں میں، تمنائی ہوئی ہے۔۔۔۔۔(یہ ہو جائے تو غنیمت ہے ویسے میں اب بھی اپنی تبدیلی کیے ہوئے دوسرے مصرعے سے مطمئن نہیں ہوں)

عدو کے سامنے ہم کو لتاڑا
ہماری یہ پذیرائی ہوئی ہے

یہ خوب صورت شعر ہے۔ اچھا لگا۔ لیکن سوالیہ نشان کی ضرورت نہیں۔ بات اس کے بنا ہی زیادہ بہتر لگ رہی ہے
نشاں چوکھٹ پہ دیکھو ثبت ہوں گے
کہو کیسی جبیں سائی ہوئی ہے؟
یہ بھی درست ہے۔
 

عین عین

لائبریرین
لو مجھے ایک اور بات سوجھی ۔ چاہو تو قبول کر لو

عدو کے سامنے ہم کو لتاڑا
ہماری یہ پذیرائی ہوئی ہے

عدو کے سامنے اس نے لتاڑا
ہماری یوں پذیرائی ہوئی ہے
 
جی بہت بہتر، میں اس خیال کو کسی دوسری بحر میں موزوں کر لوں گا
ایک شعر اور خاضر خدمت ہے، ملاحظہ کیجیے

تماشا سا بنایا پیار تُم نے
یہاں خلقت تماشائی ہوئی ہے

یہ اُس شعر کی جگی لے سکتا ہے کیا؟
 
Top