ایک فٹا فٹ غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کے لئے،''

صبح روشن کو مسا جانتا ہوں
کس طرف کی ہے ہوا، جانتا ہوں

کچھ نہیں اُس کے سوا دنیا میں
پوچھتا ہے کہ میں کیا جانتا ہوں

چھوڑ جائے گا وہ تنہا اک دن
جانتا ہوں بخدا جانتا ہوں

پربتوں بیچ پُکارا اُس کو
گھوم آئے گی صدا، جانتا ہوں

رہ گئی ہجر میں باقی اُس کے
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں

بہتری اس میں بھی کوئی ہو گی
میرے اللہ رضا جانتا ہوں

فلسفہ اور بھی کوئی ہو گا
کیا فنا، کیا ہے بقا جانتا ہوں

کیوں اُتر آئے ہیں چھوٹے پن پر
آپ کو میں تو بڑا جانتا ہوں

انکساری پہ مری شک کیونکر
سب بُروں کو میں بھلا جانتا ہوں

بس دکھاتا ہے ادائیں اظہر
وہ نہیں مجھ سے خفا، جانتا ہوں​
 
ماشاءاللہ جی بہت خوب لکھی ہے۔

کچھ معروضات:
1۔ پوچھتا ہے کہ میں کیا جانتا ہوں
”میں“ متکلم کو بطور ہجائے کوتاہ کے استعمال کرنا ٹھیک نہیں۔

2۔رہ گئی ہجر میں باقی اُس کے
اگر ”باقی“ کو آخر میں کردیں تو مزید روانی آجائے گی۔

3۔سب بُروں کو میں بھلا جانتا ہوں
یہاں بھی وہی بات کہ ”میں“ متکلم کو بطور ہجائے کوتاہ کے استعمال کرنا مناسب نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
صبح روشن کو مسا جانتا ہوں
کس طرف کی ہے ہوا، جانتا ہوں
÷÷’مسا‘ عربی النسل ہے، اس کے مقابلے میں صبح کی جگہ عربی کا لفظ ہی بہتر ہو شاید۔

کچھ نہیں اُس کے سوا دنیا میں
پوچھتا ہے کہ میں کیا جانتا ہوں
۔۔سمجھ میں نہیں آ سکا میری ناقص عقل میں

چھوڑ جائے گا وہ تنہا اک دن
جانتا ہوں بخدا جانتا ہوں
÷÷درست

پربتوں بیچ پُکارا اُس کو
گھوم آئے گی صدا، جانتا ہوں
÷÷گھوم یا ’لوٹ‘۔ میرے خیال میں ’لوٹ آئے گی صدا‘ بہتر ہے

رہ گئی ہجر میں باقی اُس کے
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں
÷÷واضح نہیں

بہتری اس میں بھی کوئی ہو گی
میرے اللہ رضا جانتا ہوں
÷÷محض رضا سے طلب میری رضا بھی ہو سکتا ہے، اس لئے واضح یوں کہو
اے خدا تیری رضا جانتا ہوں۔

فلسفہ اور بھی کوئی ہو گا
کیا فنا، کیا ہے بقا جانتا ہوں
÷÷درست

کیوں اُتر آئے ہیں چھوٹے پن پر
آپ کو میں تو بڑا جانتا ہوں
÷÷درست

انکساری پہ مری شک کیونکر
سب بُروں کو میں بھلا جانتا ہوں
÷÷’شک کیوں کر‘ کو بدل دو، کاف کی تکرار بھلی نہیں۔
انکساری پہ مری شک ہو تو کیوں۔۔ ایک تجویز

بس دکھاتا ہے ادائیں اظہر
وہ نہیں مجھ سے خفا، جانتا ہوں
درست

فٹا فٹ سے میں سمجھا کہ مزاحیہ غزل ہے!!!
 
صبح روشن کو مسا جانتا ہوں
کس طرف کی ہے ہوا، جانتا ہوں
÷÷’مسا‘ عربی النسل ہے، اس کے مقابلے میں صبح کی جگہ عربی کا لفظ ہی بہتر ہو شاید۔
جی بہت بہتر جناب ، یوں کیسا رہے گا
صبح صادق کو مسا جانتا ہوں
کس طرف کی ہے ہوا، جانتا ہوں


کچھ نہیں اُس کے سوا دنیا میں
پوچھتا ہے کہ میں کیا جانتا ہوں
۔۔سمجھ میں نہیں آ سکا میری ناقص عقل میں
اگر یوں کہوں تو
کچھ نہیں اُس کے سوا دنیا میں
کچھ نہیں اُس کے سوا، جانتا ہوں


چھوڑ جائے گا وہ تنہا اک دن
جانتا ہوں بخدا جانتا ہوں
÷÷درست

پربتوں بیچ پُکارا اُس کو
گھوم آئے گی صدا، جانتا ہوں
÷÷گھوم یا ’لوٹ‘۔ میرے خیال میں ’لوٹ آئے گی صدا‘ بہتر ہے
جی بہت مناسب ہے
پربتوں بیچ پُکارا اُس کو
لوٹ آئے گی صدا، جانتا ہوں


رہ گئی ہجر میں باقی اُس کے
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں
÷÷واضح نہیں
یہاں یہ کہا کہ اب جتنی بھی باقی ہے زندگی، وہ اُس کے ہجر میں ہے، اس کے علاوہ اور تو کچھ نہیں ہوا ہے


بہتری اس میں بھی کوئی ہو گی
میرے اللہ رضا جانتا ہوں
÷÷محض رضا سے طلب میری رضا بھی ہو سکتا ہے، اس لئے واضح یوں کہو
اے خدا تیری رضا جانتا ہوں۔
جی بہت بہتر ہے

فلسفہ اور بھی کوئی ہو گا
کیا فنا، کیا ہے بقا جانتا ہوں
÷÷درست

کیوں اُتر آئے ہیں چھوٹے پن پر
آپ کو میں تو بڑا جانتا ہوں
÷÷درست

انکساری پہ مری شک کیونکر
سب بُروں کو میں بھلا جانتا ہوں
÷÷’شک کیوں کر‘ کو بدل دو، کاف کی تکرار بھلی نہیں۔
انکساری پہ مری شک ہو تو کیوں۔۔ ایک تجویز
بہت مناسب ہے جناب

بس دکھاتا ہے ادائیں اظہر
وہ نہیں مجھ سے خفا، جانتا ہوں
درست

فٹا فٹ سے میں سمجھا کہ مزاحیہ غزل ہے!!!
جی وہ فی البدیح کے لئے کہا تھا :)
گویا اب غزل کچھ یوں ہوئی

صبح صادق کو مسا جانتا ہوں
کس طرف کی ہے ہوا، جانتا ہوں

کچھ نہیں اُس کے سوا دنیا میں
کچھ نہیں اُس کے سوا، جانتا ہوں


چھوڑ جائے گا وہ تنہا اک دن
جانتا ہوں بخدا جانتا ہوں

پربتوں بیچ پُکارا اُس کو
لوٹ آئے گی صدا، جانتا ہوں

رہ گئی ہجر میں اُس کے باقی
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں


بہتری اس میں بھی کوئی ہو گی
اے خُدا، تیری رضا جانتا ہوں

فلسفہ اور بھی کوئی ہو گا
کیا فنا، کیا ہے بقا جانتا ہوں

کیوں اُتر آئے ہیں چھوٹے پن پر
آپ کو میں تو بڑا جانتا ہوں

انکساری پہ مری شک ہو تو کیوں
جو بُرا بھی ہے، بھلا جانتا ہوں


بس دکھاتا ہے ادائیں اظہر
وہ نہیں مجھ سے خفا، جانتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
صبح بھی تو عربی النسل ہے۔
درست، لیکن اردو میں صبح کے ساتھ عموماً شام کہا جاتا ہے۔ ویسے صح سادق میں بھی اضافت فارسی ہے!! ویسے قابل قبول ہے دونوں صورتیں۔
البتہ

رہ گئی ہجر میں اُس کے باقی
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں
اب بھی واضح نہیں۔
کیا یوں وہ مطلب نکل سکتا ہے جو تم چاہتے ہو؟۔
بس یہی ہجر کے دن باقی ہیں
 
درست، لیکن اردو میں صبح کے ساتھ عموماً شام کہا جاتا ہے۔ ویسے صح سادق میں بھی اضافت فارسی ہے!! ویسے قابل قبول ہے دونوں صورتیں۔
البتہ

رہ گئی ہجر میں اُس کے باقی
کچھ نہیں اور ہوا، جانتا ہوں
اب بھی واضح نہیں۔
کیا یوں وہ مطلب نکل سکتا ہے جو تم چاہتے ہو؟۔
بس یہی ہجر کے دن باقی ہیں
کیا خوب مصرع کہا جناب ، پر اگر یوں کہوں تو کیسا رہے گا

دور تُم ہو گئے ہو کچھ مجھ سے
کچھ نہیں اور ہوا جانتا ہوں
 
Top