ایک غزل برائے اصلاح اور ایک سوال رہ نمائی کے لئے

میں بھی چپ تھا عکس بھی رویا نہیں چپ رہ گیا
آئنہ بھیگا تھا شائد، بات ساری کہ گیا

وار گو مجھ پر ہوا تھا پر لیا نہ کچھ اثر
آئنہ بکھرا پڑا تھا، عکس خود پر سہ گیا

برہنہ تھا عکس بھی، پر شرم آنکھوں میں نہ تھی
آئنہ کی آنکھ کا جیسے کہ پانی بہ گیا

چاند جی صورت لگا کرتا تھا جس کا عکس بھی
آئنہ اندھا ہوا یا دھندلا وہ مہ گیا

آئنے میں بھی نظر آیا نہیں جاہُ جلال
تخت شاہی چھن گیا سمجھو کہ اظہر شہ گیا
 
'' مہ'' جس کے معنی چاند کے ہیں اور
'' گہ '' جس کے معنی طبقہ یا درجہ کے ہیں
درج بالا قوافی درست ہیں کی نہیں غزل میں اور اگر کسی کے علم میں ایسے اشعار ہوں جہاں انہیں استعمال کیا گیا ہو تو نوازش ہو گی
خاکسار
اظہر
 

عین عین

لائبریرین
"آئنہ " اسے ’غزلِ آئنہ‘ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ تمام ثانی مصرع میں پہلا ہی لفظ یہ ہے۔ بس مقطع میں اولی میں آیا ہے۔
جہاں تک بات " مہ " کی ہے یہ زبر سے ہے۔ ایک ہوتا ہے مہتر، مہتری، مہ زیر سے یعنی سردار ، بڑا کوئی۔۔۔ لیکن یہاں غالبا آپ نے چاند ، خوب صورتی کی بات کی ہے۔ یہ زبر سے ہے۔ یعنی مَہ پارہ وغیرہ۔ تو اس طرح یہاں استعمال غلط ہے۔
اچھا یہ تمام قافیے سہ، رہ، کہہ، بہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کسی بڑے شاعر کے ہاں نہیں پائے۔ اس کی وجہ مرے مطالعے کی کمی بھی ہو سکتی ہے، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس طرح کے قوافی عمدہ نہیں ہوتے۔ باقی اعجاز اور وارث صاحب کا انتظار کریں۔
 

الف عین

لائبریرین
مہ اور شہ زبر سے درست ہیں، یہاں قافیہ زیر سے سِہ، کِہہ وغیرہ ہیں، مَہ اور شَہ کا اس میں ملانا غلط ہے۔
جن 3 اشعار میں درست قوافی ہیں، ان میں ایک جگہ "نہ: بر وزن ’نا‘، جو میں غلطی مانتا ہوں، کے علاوہ عروضی کوئی غلطی نہیں ہے۔ لیکن معانی سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
یہ واقعی ’آئینی‘ غزل ہے۔
میں بھی چپ تھا عکس بھی رویا نہیں چپ رہ گیا
آئنہ بھیگا تھا شائد، بات ساری کہ گیا
// مبہم ہے شعر۔

وار گو مجھ پر ہوا تھا پر لیا نہ کچھ اثر
آئنہ بکھرا پڑا تھا، عکس خود پر سہ گیا
//یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔

برہنہ تھا عکس بھی، پر شرم آنکھوں میں نہ تھی
آئنہ کی آنکھ کا جیسے کہ پانی بہ گیا
// درست۔

چاند جی صورت لگا کرتا تھا جس کا عکس بھی
آئنہ اندھا ہوا یا دھندلا وہ مہ گیا
//// قافیہ غلط ہے۔ مَہ صحیح تلفظ ہے یہاں مِہ کا محل ہے۔

آئنے میں بھی نظر آیا نہیں جاہُ جلال
تخت شاہی چھن گیا سمجھو کہ اظہر شہ گیا
// پہلی بات۔ یہاں شَہ کا محل ہے، شاہ کا مخفف۔ قافیہ میں شِہ آ رہا ہے جو شطرنج میں دی جاتی ہے، اور مؤنث ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہاں بھی شَہ سے ہی مراد ہو۔ شعر سمجھ میں نہیں آیا، ’شہ گیا‘ معنی شاہ اب شاہ نہیں رہا۔ اگر یہی مراد ہے تو ’سمجھو‘ کیوں؟ تخت شاہی چھننے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے۔
 

عین عین

لائبریرین
اظہر، اعجاز صاحب اکثر ابہام کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس پر توجہ دو۔ خیال واضح ہونا چاہیے، اور قافیوں کے لیے تو میں نے بھی عرضی گزاری تھی کہ آسان اور عام قافیے استعمال کرو تو شعر بھی اچھے نکلتے ہیں۔ آپ دیکھو کہ یہاں کس قدر تنگی رہی آپ کو خیال لانے میں قافیے کی وجہ سے۔ سادہ بات کہو خود آپ کو بھی اچھا لگے گا، اور ابلاغ بھی بہترین ہو گا۔
 
Top