ایک غزل برائے اصلاح،'' ہجر کیسا ہو آ کہ ٹل جائے''

ہجر کیسا ہو، آ کہ ٹل جائے
زندگی کا نظام چل جائے

کاش یہ اختیار مل جاتا
آج جیسا نا میرا کل جائے

کیوں نہیں ہو سکا یہ دنیا میں
ساتھ مشکل کہ اُس کا حل جائے

لب جو کھولوں تو ڈر بھی لگتا ہے
بات اچھی بھی تُم کو کھل جائے

ہوئی قسمت تو پھر ملیں گے ہم
یہ بھی ممکن ہے ہاتھ مل جائے

تُم تو برسوں کی بات کرتے ہو
کیسا مشکل ہے ایک پل جائے

جیسا چاہو گے ڈھالنا اظہر
رب کرے کاش خود ہی ڈھل جائے​
 
ہجر کیسا ہو، آ کہ ٹل جائے
زندگی کا نظام چل جائے

کاش یہ اختیار مل جاتا
آج جیسا نہ میرا کل جائے

لب جو کھولوں تو خوف ہے سن کر
بات اچھی بھی تُم کو کھل جائے

بھیج دو تم رقیب گر چاہو
مونگ چھاتی پہ آ کہ دل جائے

تُم تو برسوں کی بات کرتے ہو
کیسا مشکل سے بیتا پل جائے

ایسی رقت سے تم دعا کرنا
کہ ندا آخرت میں چل جائے

کیوں جلائے عدو تجھے اظہر
اپنی ہی آگ میں وہ جل جائے​
 

الف عین

لائبریرین
کیا اس کو بھی کاپی کروں؟ اس میں کچھ اشعار نئے ہیں۔ مراسلے میں کچھ لکھا ہی نہیں۔
 
معافی چاہتا ہوں جناب محترم کچھ اشعار تبدیل کئے

ہجر کیسا ہو، آ کہ ٹل جائے
زندگی کا نظام چل جائے

کاش یہ اختیار مل جاتا
آج جیسا نہ میرا کل جائے

لب جو کھولوں تو خوف ہے سن کر
بات اچھی بھی تُم کو کھل جائے

بھیج دو تم رقیب گر چاہو
مونگ چھاتی پہ آ کہ دل جائے

تُم تو برسوں کی بات کرتے ہو
کیسا مشکل سے بیتا پل جائے

ایسی رقت سے تم دعا کرنا
کہ ندا آخرت میں چل جائے

کیوں جلائے عدو تجھے اظہر
اپنی ہی آگ میں وہ جل جائے
 

الف عین

لائبریرین
ہجر کیسا ہو، آ کہ ٹل جائے
زندگی کا نظام چل جائے
//شعر کی تفہیم نہیں ہو سکی، ’ہجر کیسا ہو‘ سے شعر کے باقی حصوں کا تعلق؟ ’آ کہ ٹل جائے‘ سے مطلب یہی تو ہوگا کہ ہجر ختم ہو جائے!! کیا یہاں ٹائپو ہے، اصل میں ’آ کے ٹل جائے‘ ہے۔ دونوں صورتوں میں شعر کی تفہیم مکمل نہیں ہوتی۔ن

کاش یہ اختیار مل جاتا
آج جیسا نہ میرا کل جائے
//کاش کے ساتھ ‘مل جائے‘ ہونے سے بہتر تھا، لیکن وہی ردیف ہے۔۔ جائے، اس مصرع کو بدلنے کی سوچو۔
کچھ ممکن سورتیں جو فوراً سمجھ میں آتی ہیں۔
کاش اس پر ہو اختیار اپنا
کاش اس پر ہو دسترس اپنی
کاش مل جائے اختیار ہمیں
دوسرا مصرع اور بہتر ہو سکتا ہے جب میرا کی جگہ ’اپنا‘ کر دو
آج جیسا نہ اپنا کل جائے

لب جو کھولوں تو خوف ہے سن کر
بات اچھی بھی تُم کو کھل جائے
//شعر بہتر ہو سکتا ہے اگر الفاظ کی نشست بدل دو، اس صورت میں واضح اور روانی نہیں ہے۔ ‘خوف ہے سن کر‘ اچھا بیانیہ نہیں ہے۔ جیسے
ڈر رہا ہوں میں بولنے سے، کہیں
بات اچھی بھی تم کو کھَل جائے

بھیج دو تم رقیب گر چاہو
مونگ چھاتی پہ آ کہ دل جائے
// کیا یہ ’آ کے دل جائے‘ ہے؟ (اسی وجہ سے مطلع میں بھی شک ہوا تھا)۔ لیکن محبوب سے ہی فرمائش کیوں؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

تُم تو برسوں کی بات کرتے ہو
کیسا مشکل سے بیتا پل جائے
// پہلا مصرع خوب رواں ہے، پسند آیا، لیکن دوسرا مصرع اس کا ساتھ نہیں سے رہا، اس کے علاوہ محاورہ ’بِتایا‘ ہو گا، بیتا نہیں، تب ہی معنی خیز ہو گا۔ اس لحاظ سے زمین تنگ ہو رہی ہے اگر پہلے مصرع کو یوں ہی رکھا جائے تو۔ کچھ سوچو، میں بھی سوچتا ہوں۔

ایسی رقت سے تم دعا کرنا
کہ ندا آخرت میں چل جائے
// درست

کیوں جلائے عدو تجھے اظہر
اپنی ہی آگ میں وہ جل جائے
// دوسرے مصرع میں ’جو‘ کا محل تھا، لیکن ’جو جل جائے‘ میں ’ججل‘ تقطیع ہپوتا ہے، وہ اچھا نہیں لگتا، مصرع کی ترتیب ہی بدلی جا سکتی ہے جیسے
جو کہ شعلے سے اپنے جل جائے
 
ہجر جیسا ہو، آ ، کہ ٹل جائے
زندگی کا نظام چل جائے

کاش اس پر ہو دسترس اپنی
آج جیسا نہ اپنا کل جائے

کیا کہوں میں، نہ ہو کہیں ایسا
بات اچھی بھی تُم کو کھل جائے

تُم نہ آو، رقیب تو بھیجو
مونگ چھاتی پہ آ کے دل جائے

تُم تو برسوں کی بات کرتے ہو
یہ کہو کیسے ایک پل جائے

ایسی رقت سے تم دعا کرنا
ڈگمگاتا قدم سنبھل جائے

کیوں جلائے تجھے عدو اظہر
خود ہی شعلے سے اپنے جل جائے​



محترم اُستاد،
مطلع مین یہ کہنا مقصود ہے کہ، جیسا بھی ہجر ہو، آو، تکہ ٹل جائے یا ختم ہو جائے اور زندگی جو رک سی گئی وہ چل جائے
 

الف عین

لائبریرین
یہ روپ بہت بہتر ہے، کچھ مصرع جو مجھے نہیں سوجھے تھے، تم کو خود سوجھ گئے ہیں۔ بس مطلع ابھی بھی نا قابلِ فہم ہے۔
 
Top